نتائج آنا شروع مگر نواز شریف کی’وکٹری سپیچ‘

پاکستان میں گیارہ مئی کے عام انتخابات میں پولنگ کا عمل ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور ابتدائی رجحانات کے مطابق مسلم لیگ نون کو قومی اسمبلی کی نشستوں پر برتری حاصل ہے۔

ابتدائی رجحانات کے مطابق دوسری پوزیشن کے لیے عمران خان کی تحریکِ انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان مقابلہ ہے۔

مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف نے لاہور میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ابھی انتخابی نتائج آ رہے ہیں ’لیکن اب تقریباً تصدیق ہو چکی ہے کہ مسلم لیگ نون اس انتخاب میں سب سے بڑی جماعت ابھر کر سامنے آئی ہے دعا کریں کہ حتمی نتائج میں نون لیگ کی مطلق اکثریت ہو تاکہ مسلم لیگ بیساکھیوں کے بغیر حکومت بنا سکے کیونکہ مانگے ہوئے ووٹ ایک مضبوط حکومت نہیں بنا سکتے ہیں ۔‘

انہوں نے مزید کہا ہے کہ’ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کو مشکلات سے نکالیں۔ میں سب سے اپیل کروں گا کہ وہ آئیں اور میز پر بیٹھیں۔ میں اپنی ذات کے لیے نہیں قوم کی خاطر سب کو کہتا ہوں کہ وہ میرے ساتھ بیٹھیں۔ لوڈ شیڈنگ، مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے سب کو بلاتا ہوں‘۔

سنیچر کو عام انتخابات میں بھرپور ٹرن آؤٹ رہا اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

شدت پسندوں کی جانب سے پُرتشدد کارروائیوں کی دھمکیوں کے باوجود امن و امان کی صورتِ حال مجموعی طور پر قابو میں رہی اگرچہ کراچی میں بم دھماکے میں دس افراد ہلاک ہوئے جبکہ کوئٹہ اور پشاور میں اسی طرح کے دھماکوں میں کئی افراد زخمی ہوئے۔

ان انتخابات میں نوجوانوں کی بھر پور شرکت اور ووٹ ڈالنے کی شرح میں اضافے کے نتیجے میں الیکشن کمیشن نے پولنگ کے وقت میں ایک گھنٹے کا اضافہ کر دیا تھا جبکہ کراچی میں قومی اسمبلی کے سات حلقوں میں پولنگ کے وقت میں تین گھنٹے کا اضافہ کیا گیا۔

بلوچستان میں کچھ اضلاع میں پولنگ ہوئی لیکن کچھ علاقوں میں پولنگ نہیں ہو سکی۔ صوبے میں جمہوری وطن پارٹی نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان بھی کیا۔

بلوچستان کے علاوہ کراچی میں پولنگ کے دوران دھاندلی کی شکایات سامنے آئیں اور جماعتِ اسلامی کے امیر سید منور حسن نے ایم کیو ایم پر اسلحے کے زور پر دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے کراچی میں الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا۔ بعدازاں اس بائیکاٹ میں سنی تحریک اور مہاجر قومی موومنٹ بھی شامل ہوگئیں۔

ایم کیو ایم نے ان الزامات کی تردید کی ہے جبکہ الیکشن کمیشن نے اعتراف کیا ہے کہ وہ کراچی کی حد تک صاف اور شفاف انتخابات کے انعقاد میں کامیاب نہیں ہوا اور اسی وجہ سے کراچی کے حلقہ این اے 250 میں 42 پولنگ مراکز پر پولنگ روک دی گئی۔

گیارہ مئی کے انتخابات میں بھرپور ٹرن آؤٹ پر مبصرین کہتے ہیں کہ سنہ انیس سو ستر کے بعد شاید پہلی بار ٹرن آؤٹ بہت زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ الیکشن کمیش کا کہنا ہے کہ ٹرن آؤٹ ساٹھ سے اسی فیصد تک ہو سکتا ہے۔

اس انتخابی دنگل میں سو سے زیادہ نشستوں پر کانٹے کے مقابلے کی توقع ہے۔ جن نشستوں پر سخت مقابلے متوقع ہیں ان میں سے 74 پنجاب میں، 18 سندھ میں، 13 خیبر پختونخوا میں اور 5 بلوچستان میں ہیں۔

عمران خان کی تحریک انصاف نے پاکستان کی روایتی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے تاہم مبصرین کے مطابق عمران خان کی فتح یا شکست سے کہیں زیادہ اہم وہ متوقع اثر ہے جو ان کی انتخابی مہم ٹرن آؤٹ پر ڈالے گی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق مختلف عوامل کی وجہ سے ٹرن آؤٹ ساٹھ فیصد تک متوقع ہے۔

تاہم اس سے قطع نظر تحریک انصاف کے تبدیلی کے نعرے نے ملک کی روایتی سیاسی جماعتوں کو ووٹرز کے ساتھ اپنے رشتے کا تعین از سرِ نو کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ تمام سیاسی پنڈت اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ عمران خان کی تحریک انصاف پنجاب میں سب سے زیادہ دائیں بازو کے ووٹ بینک کو متاثر کرے گی۔

خیبر پختونخوا، فاٹا

سنیچر کو قومی اسمبلی کی 272 میں سے 268 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔ چار میں سے تین نشستوں پر امیدواروں کے انتقال اور ایک حلقے میں امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے الیکشن ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

پاکستان میں انتخابی حلقوں کا آغاز صوبہ خیبر پختونخوا سے ہوتا ہے اور اس مرتبہ صوبے میں قومی اسمبلی کی 35 نشستوں کے لیے کل 517 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں جن میں 49 سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے علاوہ آزاد امیدوار بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں قومی اسمبلی کے 12 حلقے آتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے 35 حلقوں میں 13 سے حلقے ایسے ہیں جہاں امیدواروں کے مابین کڑے مقابلے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے جبکہ پانچ، پانچ حلقوں پر مسلم لیگ نواز اور جماعتِ اسلامی، چار، چار پر عوامی نیشنل پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام، دو پر پیپلز پارٹی اور ایک، ایک پر پاکستان تحریکِ انصاف اور قومی وطن پارٹی کی پوزیشن مضبوط تصور کی جا رہی ہے۔

جن تیرہ حلقوں میں سخت مقابلے کا امکان ہے ان میں سے پشاور اور نوشہرہ کے دو، دو جبکہ مردان، صوابی، کرک، ایبٹ آباد، ہری پور، بٹگرام، ڈیرہ اسماعیل خان، بونیر اور سوات کے ایک، ایک حلقے شامل ہیں۔

پشاور کے این اے 1 میں پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان عوامی نیشنل پارٹی کے سابق وفاقی وزیرِ ریلوے غلام احمد بلور کے مدِمقابل ہیں۔ غلام بلورگزشتہ انتخابات کے بھی فاتح ہیں اور اس بار اس نشست پر ان دونوں امیدواروں کے مابین سخت مقابلے کا امکان ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ضلع نوشہرہ کے پہلے حلقے این اے 5 نوشہرہ میں جماعتِ اسلامی کے مرحوم امیر قاضی حسین احمد کے صاحبزادے آصف لقمان قاضی کا سامنا پاکستان تحریکِ انصاف کے سیکرٹری جنرل پرویز خٹک کر رہے ہیں جو ماضی میں یہاں سے منتخب ہوتے رہے ہیں۔

ایبٹ آباد کے حلقہ این اے اٹھارہ بھی کانٹے دار مقابلوں کی فہرست میں شامل ہے جہاں تحریکِ صوبہ ہزارہ کے سربراہ بابا حیدر زمان الیکشن لڑ رہے ہیں اور ان کا مقابلہ مسلم لیگ نواز کے مرتضیٰ جاوید عباسی اور تحریکِ انصاف کے سردار یعقوب سے ہے۔

ہری پور میں قومی اسمبلی کے واحد حلقے این اے 19 میں مشرف دور کے وزیرِ مملک برائے خزانہ اور سابق صدر ایوب خان کے پوتے عمر ایوب کو پی ٹی آئی کے راجہ عامر زمان سے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اگرچہ قومی اسمبلی کے 3 حلقوں سے امیدوار ہیں لیکن انہیں سب سے کڑے مقابلے کا سامنا این اے 25 میں ہے جہاں وہ سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی کے مدِمقابل ہیں۔

ادھر الیکشن کمیشن نے کرم ایجنسی کے حلقہ این اے 38 میں انتخابات ملتوی کر دیے ہیں۔ اس کی وجہ امن و امان کی خراب صورتِ حال بتائی گئی ہے۔

پاکستان ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق پولیٹیکل ایجنٹ نے امن و امان کی خراب صورتِ حال کی وجہ سے انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔

این اے 38 قبائلی علاقہ 3 کرم ایجنسی کے دیگر علاقوں کو کور کرتا ہے۔ یہاں سے گذشتہ بار مدمقابل امیدواروں کی تعداد 20 تھی جن میں منیر خان اورکزئی بھاری اکثریت سے کامیاب قرار پائے تھے تاہم اس بار وہ اس نشست کے لیے جے یو آئی (ف) کے امیدوار تھے۔

پنجاب

پنجاب کی ایک سو اڑتالیس نشستوں میں سے نصف سے زیادہ پر کانٹے دار مقابلے متوقع ہیں جن میں بنیادی طور پر ان انتخابات کے تین بڑے سیاسی حریف، پاکستان پیپلز پارٹی، نواز لیگ اور تحریک انصاف مد مقابل ہونگے۔

ان میں سے کم از کم سترہ سیٹیں ایسی ہیں جن پر عمران خان کی تحریک انصاف کی جیت کے امکانات باقی جماعتوں کی نسبت قدرے بہتر ہیں۔ ان سترہ نشستوں میں سے بارہ شمالی اور وسطی پنجاب میں جبکہ پانچ جنوبی پنجاب میں ہیں۔ ان سیٹوں کی ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ سترہ میں پانچ سیٹیں لاہور کی ہیں۔

اس کے علاوہ صوبہ بھر میں تئیس سیٹیں ایسی ہیں جن میں اگر بڑی تعداد میں شہری طبقے کا نوجوان ووٹ متحرک ہو گیا تو تحریک انصاف تجزیہ کاروں کے اندازوں کے برعکس ایک بڑی جماعت بن کر ابھر سکتی ہے۔ ان تئیس سیٹوں میں سے سولہ شمال اور وسطی پنجاب میں جبکہ سات جنوبی پنجاب میں واقع ہیں۔

لیکن تحریک انصاف کا موجودہ انتخابات پر اثر صرف ان کی جیت کے پیمانے پر ہی نہیں ناپا جا سکتا۔ گیارہ مئی کو پنجاب کے انتخابی معرکے میں چوالیس سیٹیں ایسی بھی جہاں تحریک انصاف کی فتح کی امید تو شاید ایک خواب ہی ثابت ہو لیکن اس کے حاصل کردہ ووٹ اس کی حامی جماعتوں کے نتائج پر براہ راست اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ان میں سے چونتیس سیٹیں شمالی اور وسطی پنجاب جبکہ دس جنوبی پنجاب میں ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر عمران خان کا ووٹ نظریاتی طور پر دائیں بازو کا ووٹ ہے تو ان سیٹوں پر وہ نواز لیگ کو سخت نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پنجاب کی باقی ماندہ اکسٹھ سیٹوں پر، کیونکہ ایک نشست پر انتخابات ملتوی ہو چکے ہیں، تحریک انصاف کی کامیابی تبھی ممکن نظر آتی ہے جب عمران خان جس سونامی کا ذکر کرتے ہیں وہ واقعی ان انتخابات کو بہا لے جائے۔ ایسی سونامی کے بغیر ان سیٹوں پر عمران خان کی فتح انتہائی مشکل نظر آتی ہے۔

نواز لیگ جسے پنجاب میں تحریک انصاف کا سب سے بڑا حریف سمجھا جا رہا ہے، صوبے کی ایک سو اڑتالیس سیٹیوں میں سے اکیس سیٹوں پر واضح طور پر مستحکم نظر آتی ہے۔ ان میں سے سترہ شمالی اور وسطی جبکہ چار جنوبی پنجاب میں واقع ہیں۔

دو ہزار آٹھ میں پنجاب سے ساٹھ سے زیادہ سیٹیں جیتنے والی نواز لیگ کو اپنی دو تہائی نشستوں پر غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ ان میں سے انتالیس شمالی اور وسطی جبکہ سات جنوبی پنجاب میں واقع ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی صورتحال بھی نواز لیگ سے کچھ زیادہ مختلف نہیں لیکن کانٹے دار مقابلوں میں اس کی فتح کے امکانات نواز لیگ کے مقابلے میں کم دکھائی دیتے ہیں۔

پیپلز پارٹی صوبے بھر میں صرف انیس سیٹوں پر پر اعتماد نظر آتی ہے جن میں سے چودہ جنوبی پنجاب میں ہیں۔ دو ہزار آٹھ میں چالیس سے زیادہ سیٹیں جیتنے والی اس جماعت کے حمایتی امید لگائے بیٹھے ہیں کے عمران خان کم از کم چوبیس سیٹوں پر نواز لیگ کے ووٹ کو اس قدر متاثر کریں گے کہ وہ سیٹیں پی پی پی کی جھولی میں آ گریں گی۔

اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کو قاف لیگ سے بھی مدد کی امید ہے جس کے لیے اس نے صوبے میں چوبیس سیٹیں خالی چھوڑی ہیں جبکہ قاف لیگ نے پورے پنجاب میں صرف اٹھائیس امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔

سندھ

پاکستان کے صوبہ سندھ میں قومی اسمبلی کے کل 61 حلقے واقع ہیں جن میں سے 60 پر الیکشن ہو رہا ہے جبکہ ایک حلقے این اے 254 میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار صادق زمان خٹک کی ہلاکت کی وجہ سے الیکشن ملتوی کر دیا گیا ہے۔

ان 60 حلقوں میں 18 سے حلقے ایسے ہیں جہاں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے جبکہ صوبے میں پیپلز پارٹی کو چوبیس، ایم کیو ایم کو تیرہ، مسلم لیگ ف کو دو نشستوں پر برتری حاصل ہونے کا امکان ہے۔ اسی طرح پیپلز مسلم لیگ اور نیشنل پیپلز پارٹی کی بھی ایک ایک نشست پر پوزیشن مضبوط تصور کی جا رہی ہے۔

جن 18 حلقوں میں سخت مقابلہ متوقع ہے ان میں سے پانچ کراچی میں، دو دو دادو، نوشہرو فیروز اور عمرکوٹ میں جبکہ ایک ایک لاڑکانہ، جیکب آباد خیرپور، ٹنڈو الہ یار، تھرپارکر، سانگھڑ اور ٹھٹھہ میں واقع ہیں۔

ان حلقوں سے پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ کے اہم رہنما بھی الیکشن لڑ رہے ہیں۔

کراچی کے جن پانچ حلقوں میں سخت مقابلہ متوقع ہے ان میں این اے 249 میں ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار کو پیپلز پارٹی کے عبدالعزیز میمن کا سامنا ہے۔

این اے 250 کراچی کا وہ حلقہ ہے جہاں سے سابق فوجی صد پرویز مشرف نے بھی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم ان کا کاغذات مسترد کر دیے گئے تھے۔ اس حلقے میں ایم کیو ایم کی خوش بخت شجاعت کا مقابلہ کراچی کے سابق ناظمِ اعلیٰ اور جماعتِ اسلامی کے رہنما نعمت اللہ خان اور تحریکِ انصاف کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی سے ہے۔

این اے 253 میں ماضی میں ایم کیو ایم کے حیدر عباس رضوی کامیاب ہوئے تھے تاہم اس بار وہ دوہری شہریت کی وجہ سے الیکشن ہی نہیں لڑ رہے۔ یہاں ایم کیو ایم نے مزمل قریشی کو ٹکٹ دیا ہے جن کا مقابلہ جماعتِ اسلامی کے سابق صوبائی امیر اسد اللہ بھٹو اور پیپلز پارٹی کے محمد مراد بلوچ سے ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

مہاجر قومی موومنٹ کے سربراہ آفاق احمد نے این اے 255 سےالیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کے مدِمقابل ایم کیو ایم کے سابق ایم این اے آصف حسنین ہیں۔

سابق وزیراعلیٰ سندھ لیاقت علی جتوئی بھی دادو کے اس حلقے سے مسلم لیگ ن کے امیدوار ہیں جہاں سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ این اے 233 میں ان کے مدِمقابل پیپلز پارٹی کے عمران ظفر لغاری ہیں۔

جیکب آباد کے حلقہ این اے 208 سے بھی دو اہم رہنما مسلم لیگ ن کے سابق سپیکر قومی اسمبلی الہی بخش سومرو اور پیپلز پارٹی کے سابق وزیرِ کھیل اعجاز جھکرانی مدِمقابل ہیں۔

این اے 212 نوشہرو فیروز کا وہ حلقہ ہے جہاں پی پی پی کے سابق ایم این اے ظفر علی شاہ کے مسلم لیگ ن میں شامل ہونے کی وجہ سے صورتحال دلچسپ رخ اختیار کرے گی۔ یہاں ان کا مقابلہ سادات برادری کے ہی اصغر علی شاہ سے ہوگا جو پی پی پی کے امیدوار ہیں۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیئر نائب صدر شاہ محمود قریشی سندھ میں قومی اسمبلی کی دو نشستوں این اے 228 اور این اے 230 سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ عمر کوٹ میں ان کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے نواب یوسف تالپور سے ہے جبکہ تھرپارکر میں نور محمد جیلانی سے ہو گا۔

پاکستان مسلم لیگ نواز نے ٹھٹھہ سے قومی اسمبلی کے لیے ماروی میمن کو بھی ٹکٹ دیا ہے جنہیں علاقے کے بااثر شیرازی خاندان کے ریاض شاہ شیرازی کا سامنا ہے۔ شیرازی خاندان نے ابتدا میں پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کیا تھا تاہم بعدازاں انہوں نے یہ فیصلہ تبدیل کر لیا۔

بلوچستان

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں قومی اسمبلی کی سب سے کم چودہ نشستیں ہیں جن میں سے پانچ پر سخت مقابلہ متوقع ہے۔

اس کے علاوہ تین نشستوں پر مسلم لیگ نون، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کی دو جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی( مینگل) اور مسلم لیگ قاف کی ایک ایک نشست پر پوزیشن مضبوط تصور کی جا رہی ہے۔

جن علاقوں میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے، ان میں جعفر آباد اور نصیر آباد پر مشتمل حلقہ این اے 266 بھی شامل ہے جہاں نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ اور آزاد امیدوار سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی کو پیپلز پارٹی کے میر چنگیز خان جمالی کا سامنا ہے۔

اس کے علاوہ خاران، واشک اور پنجگور پر مشتمل حلقہ این اے 271 میں مسلم لیگ نون کے امیدوار لیفٹٹنٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے احسان اللہ ریکی اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے جہان زئی بلوچ سے ہو گا۔

اس کے علاوہ کیچ اور گوادر پر مشتمل حلقہ این اے 272 میں سابق وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر زبیدہ جلال کا مقابلہ نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر یاسین بلوچ اور بلوچستان نیشنل پارٹی )مینگل) کے سید عیسیٰ نوری کے ساتھ ہے۔