اسلام آباد:کچی آبادیوں کے ووٹر توجہ کا مرکز

Image caption قومی اسمبلی کے ان دو حلقوں میں 15 سے زائد کچی آبادیاں ہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب اور دیگر علاقوں میں جہاں انتخابات میں برادری کی بنیاد پر ووٹ ڈالنے کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور امیدوار اپنی برادری کے ووٹروں کو منانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں لیکن دارالحکومت اسلام آباد میں یہ صورت حال قدرے مختلف ہے۔

اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے دو حلقے ہیں اور یہاں سے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار اپنی برادری پر کم لیکن ان حلقوں میں واقع کچی آبادیوں پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جہاں پر عیسائی برادری بڑی تعداد میں رہائش پذیر ہے۔

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق قومی اسمبلی کے ان دو حلقوں میں 15 سے زائد کچی آبادیاں ہیں جہاں 50,000 سے زائد اہل ووٹرز آباد ہیں۔

حقلہ این اے 48 میں نو کچی آبادیاں ہیں اور اس حلقے سے کھڑے ہونے والے امیدواروں نے سب سے زیادہ وقت ان کچی آبادیوں میں ہی گزارا ہے۔

بات یہی پر ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ اس حلقے سےجماعت اسلامی کے امیدوار میاں اسلم کی انتخابی مہم بھی عیسائی نوجوان ہی چلا رہے ہیں۔

Image caption کچی آبادیوں میں ایک اندازے کے مطابق 50,000 کے قریب اہل ووٹرز آباد ہیں

میاں اسلم سنہ 2002 میں متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر حلقہ این اے 48 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے جبکہ سنہ 2008 کے انتخابات کا جماعت اسلامی نے بائیکاٹ کیا تھا۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 49 میں ایسی آبادیوں کی تعداد 6 ہے جہاں پر بڑی تعداد میں عیسائی برادری رہائش پذیر ہے۔

ان حلقوں سے جے سالک بھی امیدوار ہیں جو خود کو عیسائی برادری کا ترجمان بھی کہتے ہیں۔ لیکن ان کی انتخابی مہم میں ان کی برادری کے لوگ بھی نہ ہونے کے برابر تھے بلکہ وہ ان آبادیوں میں گھر گھر جا کر اپنی انتخابی مہم کے پمفلٹ تقسیم کرتے رہے۔

پاکستان مسلم لیگ نون، پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے امیدواروں نے ان آبادیوں کے مکینوں کے ووٹوں کو یقینی بنانے کے لیے مقامی آبادی کے بااثر افراد کو اپنے ساتھ ملایا ہے۔

ان آبادیوں کے باہر مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے لگائے گئے انتخابی کیمپ میں بیٹھنے والے افراد کے لیے بھی مختلف پیکجز کا بھی اعلان کیا گیا تھا کہ جو شخص اس انتخابی کیمپ میں آٹھ گھنٹے بیٹھتا تھا اُس کو 500 روپے اور ایک وقت کا کھانا جبکہ اس سے کم مدت تک بیٹھنے والوں کو200 روپے اور کھانا دیا جاتا تھا۔

کچی آبادی 66 کواٹر کے برکت مسیح کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے اہلخانہ کے شناختی کارڈ ’آبادی کے بڑوں‘ کے حوالے کر دیے ہیں اور انھیں اُن کے شناختی کارڈ متعقلہ پولنگ سٹیشنز پر ہی ملیں گے۔

جب برکت مسیح سے پوچھا گیا کہ کیا اس کے عوض انھوں نے کچھ پیسے بھی لیے ہیں جن کا انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ان امیدواروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان آبادیوں میں رہنے والے افراد کو ووٹ کے لیے کوئی رقم نہیں دی بلکہ وہ ان کے ’منشور‘ سے متاثر ہو کر گیارہ مئی کو اُنہیں ووٹ دیں گے۔

اسی بارے میں