سیاسی جماعتوں کے ’مہنگے اشتہارات‘

Image caption مختلف سیاسی جماعتوں نے اربوں روپے کے اشتہارات شائع اور نشر کیے ہیں

پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں نے کچھ عرصہ قبل الیکشن کمیشن میں اپنے جماعتی اثاثوں کی تفصیلات جمع کرائیں تو یہ کسی لحاظ سے چند کروڑ روپے سے زیادہ نہیں تھے۔

لیکن ماہرین کے مطابق ان جماعتوں نے انتخابی مہم کے لیے پارٹی فنڈز سے دس ارب روپے سے زائد کے اشتہارات نشر اور شائع کروائے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ اس صورت حال سے لاتعلق نہیں ہے اور اس کے سینکڑوں اہلکار ان اشتہارات کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔

پاکستان میں انتخابات مہم شروع ہوتے ہی ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات میں سیاسی جماعتوں کے بڑے بڑے اشتہارات نشر اور شائع ہونے لگے جن میں ان سیاسی جماعتوں نے نہ صرف ماضی میں اپنی حکومتوں کے دوران کیے گئے اقدامات کا کریڈٹ لیا بلکہ پیپلزپارٹی کی جانب سے تو مسلم لیگ ن کے خلاف ایک ایسا اشتہار بھی نشر کیا گیا، جس کے خلاف مسلم لیگ نون کے رہنما شہباز شریف لاہور ہائی کورٹ پہنچ گئے اور الیکشن کمیشن نے اس اشتہار کو نشر کرنے سے روک دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر ان اشتہارات کی مالیت کسی طرح بھی دس ارب روپے سے کم نہیں۔

خیال رہے کہ جن تین جماعتوں کے بارے میں یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ سب سے زیادہ اشتہارات چلا رہی ہیں انہوں نے گذشتہ سال جب الیکشن کمیشن میں اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرائیں تو اس کے مطابق مسلم لیگ کے اثاثے سات کروڑ، 70 لاکھ روپے، پیپلز پارٹی کے چار لاکھ 35 ہزار روپے اور پاکستان تحریک انصاف کے اثاثے 94 لاکھ روپے تھے۔

Image caption پیپلز پارٹی نے جلسے جلوس تو زیادہ نہیں کیے لیکن ان کی اشتہاری مہم خاصی جان دار تھی

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ ان اشتہارات کو مانیٹر کر کے ان پر اٹھنے والے خرچے کا اندازہ لگا رہا ہے اور وہ آئندہ سال ان جماعتوں کی جانب سے اثاثوں کی تفصیلات کو دیکھیں گے اور اگر ان جماعتوں نے ان اشتہارات کے اخراجات کوظاہر نہیں کیا تو شاید پھر الیکشن کمیشن اس پر کوئی اقدام اٹھائے۔

الیکشن کمیشن کےشعبۂ تعلقاتِ عامہ کے ایک افسر خورشید خان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن میں قائم ایک سیل اس تمام صورتِ حال کا جائزہ لے رہا ہے۔

پاکستان میں چلنے والے ان اشتہارات کی مالیت اوران کو مختلف میڈیا پرچلانے کے بارے میں جب ان امور کے ایک ماہر عارف حسن سے پوچھا گیا توان کا کہنا تھا، ’میڈیا پراس وقت چلنے والے اشتہاروں کی مالیت کسی بھی لحاظ سے دس ارب روپے سے کم نہیں اوران اشتہارات کوچلانے کے لیے ان سیاسی جماعتوں کو پیشگی ادائیگیاں کرنا ہوتی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل کے دوران سب سے زیادہ دیکھے جانے والے چینل، ان سے کم دیکھے جانے والے چینل اور سب سے کم دیکھے جانے والے چینلوں کی الگ الگ کیٹیگریز اورالگ الگ ریٹ لسٹیں ہوتی ہے۔

کیا یہ عمل انتخابات پراثر انداز تو نہیں ہو رہا؟ یہ سوال یوں تو بہت سارے لوگوں سے پوچھا گیا جن کا کہنا تھا کہ وہ امیدوار جس کا کوئی اشتہار نہ چلا ہو اور وہ جس کے بہت سارے اشتہار چلے ہوں، کیسے برابر ہوسکتے ہیں؟

Image caption اس وقت کوئی انتخابی اشتہار بازی کے بارے میں کوئی قانون موجود نہیں ہے

انتخابات کی شفافیت یقینی بنانے کے لیے کام کرنے والی 42 تنظیموں کے ایک نیٹ ورک ’فیفن‘ کے منیجر کمیونیکیشن سید عبدالاحد کا کہنا ہے کہ اس وقت کوئی ایسا قانون موجود نہیں جو ان اشتہارات سے متعلق ہو، البتہ پارلیمان کواس بارے میں قانون سازی کرنی چاہیے۔

ادھر سیاسی جماعتیں ان اشتہارات کے چلانے کو اخلاقی لحاظ سے درست سمجھتی ہیں۔ زیادہ اشتہار چلانے والی جماعتوں میں سے ایک جماعت مسلم لیگ ن بھی ہے جس کے میڈیا ونگ کے عاصم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان اشتہارات کے لیے پاکستان اور بیرون ملک موجود پارٹی کے حمایتی عطیات دیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض سیاسی جماعتوں کا یہ شکوہ اپنی جگہ بجا ہے کہ امن و امان کا مسئلہ بنا کر انھیں انتخابات کے لیے ایک جیسا میدان یا لیول فیلڈ فراہم نہیں دیا گیا اور یہی وہ جواز ہے جس کا ذکر کر کے وہ ابھی سے کہتے ہیں کہ انتخابات کے نتائج یکساں نہیں ہوں گے۔

لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ پیسے کے زور پر ان جماعتوں نے ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات پر اشتہارات کی جو بھرمار کی کیا انہوں نے اپنے سے چھوٹی جماعتوں کو لیول فیلڈ دی؟

اسی بارے میں