ملاکنڈ کے ووٹروں کی سکیورٹی پر تشویش

پاکستان کے صوبے خیبر پختو نخواہ میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ جاری ہے اور روزانہ کسی نہ کسی علاقے میں کوئی نہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہو رہا ہے۔

پاکستان میں انتخابات سے پہلے بڑے سیاسی جلسے اور جلوس ہوتے تھے لیکن اس بار خیبر پختونخواہ میں زیادہ تر جلسے چار دیواری کے اندر ہوئے۔

ملا کنڈ ڈویژن جو کئی سال تک عسکریت پسندوں کے زیر اثر رہا میں سنہ 2008 کے انتخابات کے دوران یہاں کے لوگوں نے خوف اور دہشت کے سائے میں پولنگ میں حصہ لیا تھا۔

ملا کنڈ فوجی آپریشن کے نتیجے میں طالبان کے بے دخلی کے بعد یہاں امن قائم ہوا لیکن گزشتہ چند دنوں سے رونما ہونے والے نا خوشگوار واقعات کے باعث مقامی افراد میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

تازہ واقعات میں دیر لوئر اور دیر اپر میں دو مختلف واقعات میں چھ سیاسی کارکن ہلاک جبکہ جماعت اسلامی کا ایک امیدوار شدید زخمی ہوا۔

اس سے قبل سوات کے علاقے خوازہ خیلہ میں بھی عوامی نیشنل پارٹی کے دو کارکنوں کو گاڑی سے اتار کر گولیاں ماری گئیں جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے بعد میں حملہ وروں نے ان کی گاڑی کو بھی نذر آتش کردیا۔

بنجوٹ کے علاقے میں اے این پی کے مقامی رہنما مکرم شاہ کے گاڑی کو بھی ریموٹ بم سے نشانہ بنایا گیا جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے۔

خیبر پختو نخواہ میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے بم حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کی وجہ سے مقامی افراد میں تشویش پائی جاتی ہے۔

مقامی صحافی انور شاہ کے مطابق صوبے میں پانچ سال تک بر سر اقتدار رہنے والی عوامی نیشنل پارٹی عسکریت پسندوں کے خلاف دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں مضبوط موقف اپنانے والی جماعت ہے یہی وجہ ہے کہ اب تک اے این پی کے امیدواروں پر سب سے زیادہ حملے کیے گئے۔

جماعت اسلامی، جمیعت علمائے اسلام ، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے حوالے سے طالبان کا رویہ اس وجہ سے نرم ہے کہ یہ جماعتیں طالبان کے ساتھ مذاکرات پر زور دے رہی ہیں جبکہ ایے این پی، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم طالبان کے ساتھ مذاکرات پر تیار تھی لیکن ان جماعتوں نے طالبان کے سامنے ہتھیار پیھنکنے اور آئین کو تسلیم کرنے کے شرائط عائد کی تھی۔

ملاکنڈ ڈویژن میں سنیچر کو ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے انتظامی اور سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ تمام اضلاع میں پولنگ کا سامان پہنچا دیا گیا ہے۔

سوات، بونیر، شانگلا، دیر لوئر، دیر اپر اور چترال میں قومی اسمبلی کی 7 نشستوں کے لیے 101 جبکہ صوبائی اسمبلی کی 21 نشستوں کے لیے242 امیدواروں میں مقابلہ ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق تمام امیدواروں کو 600 پولیس اہلکاروں کی سیکورٹی فراہم کی گئی ہے جبکہ انتخابی عملے کی حفاظت کے لیے 524 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ان اضلاع میں 1,930 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں ان میں سوات میں 617، بونیر میں 294، شانگلا میں193، دیر لوئر میں 308، دیراپر میں 261 اور چترال میں257 پولنگ سٹیشنز قائم بنائے گئے ہیںْ۔ ڈویژن کے تمام تھانوں کو 4,620 اضافی نفری جبکہ 3,201 ریزرو پولیس اہلکار فراہم کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں