مرکز اور پنجاب میں نواز لیگ، سندھ میں پیپلز پارٹی، خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف

پاکستان میں گزشتہ روز ہونے والے انتخابات کے اب تک دستیاب غیرحتمی نتائج کے مطابق میاں نواز شریف کی مسلم لیگ سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی دوسری اور عمران خان کی تحریک انصاف تیسری پوزیشن پر آ گئی ہے۔

غیر حتمی نتائج کا ٹیبل: کلک کریں

مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف کی صدارت میں ہونے والے پارٹی کے اجلاس میں حکومت سازی اور دوسری جماعتوں کے ساتھ رابطوں کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق گیارہ مئی کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح تقریباً ساٹھ فیصد رہی ہے۔

ووٹنگ کے خاتمے کے چھتیس گھنٹے سے زائد کا وقت گزر جانے کے باوجود ابھی تک الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کی صرف 117اور صوبائی اسمبلیوں کی ایک 271 نشستوں کے نتائج کا اعلان ہی کیا گیا ہے۔

نواز لیگ کی واضح برتری

پاکستان کے سرکاری ریڈیو کے مطابق اب تک کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ نواز نے قومی اسمبلی کی 125 نشستوں پر برتری حاصل کی ہے جبکہ پیپلز پارٹی 32 اور تحریکِ انصاف 31 نشستوں پر آگے ہے۔

لاہور میں اتوار کو مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف کی صدارت میں ہونے والے پارٹی کے اجلاس میں حکومت سازی اور دوسری جماعتوں کے ساتھ رابطوں کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم کیا گیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر سمیت مختلف عالمی رہنماؤں نے میاں نواز شریف کو انتخابات کے نتائج میں برتری حاصل کرنے پر مبارکباد دی ہے۔ امریکی صدر اوباما نے کہا کہ وہ پاکستان میں نئی آنے والے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے پر تیار ہیں۔

سنیچر کی رات نواز شریف نے اپنے حامیوں سے ایک مختصر ’وکٹری سپیچ‘ میں کہا تھا کہ وہ تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں اور انھوں نے ملکی مسائل کے حل کے لیے تمام جماعتوں سے مذاکرات کی بات کی تھی۔

لاہور میں پارٹی کے مرکزی دفتر میں تقریر کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا، ’ہم خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے پی ایم ایل این کو پاکستان اور آپ کی خدمت کا موقع دیا ہے۔ میں تمام جماعتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ میرے ساتھ میز پر بیٹھ کر ملک کے مسائل حل کرنے میں مدد دیں۔‘

ادھر تحریکِ انصاف کے رہنما اسد عمر نے ابتدائی رجحانات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ نواز کو مبارکباد دی تھی لیکن اشارہ دیا تھا کہ ان کی جماعت خیبر پختونخوا میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھر رہی ہے اور وہاں تحریکِ انصاف کی حکومت ہوگی۔

اب تک کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ پنجاب سے مسلم لیگ نواز نے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر زبردست کامیابی حاصل کی ہے اور وہ سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔

پیپلز پارٹی سندھ میں تو سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آ رہی ہے تاہم وہ پنجاب میں اب تک قومی اسمبلی کی صرف 1 نشست حاصل کر پائی ہے۔ سندھ میں ایم کیو ایم کو بھی قابلِ ذکر نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔

خیبرپختونخوا میں تحریکِ انصاف سب سے آگے ہے جبکہ مسلم لیگ نواز اور جے یو آئی ایف کی نشستوں کی تعداد میں زیادہ فرق نہیں ہے۔اس صوبے میں دائیں بازو کی جماعتیں یا مذہبی گروہ کامیاب ہوئے ہیں۔

بلوچستان میں کچھ حلقوں کے نتائج کا اعلان اب تک نہیں کیا گیا لیکن وہاں پر بھی مسلم لیگ نواز کے چند امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔

ان انتخابات میں جہاں مسلم لیگ نواز کے تمام اہم رہنما کامیاب ہوئے ہیں وہیں پیپلز پارٹی کے پنجاب میں تمام اہم رہنما شکست کھا گئے ہیں۔

الیکشن جیتنے والے اہم رہنماؤں میں مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف لاہور اور سرگودھا کی نشستوں سے کامیاب ہوئے ہیں اور ان کے بھائی شہباز شریف بھی لاہور سے جیت گئے ہیں۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان چار میں سے تین حلقوں میں جیتے ہیں اور انہیں لاہور کی نشست سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اب تک پیپلز پارٹی کے جیتنے والے اہم رہنماؤں میں مخدوم امین فہیم، فریال تالپور، فہمیدہ مرزا اور نوید قمر شامل ہیں۔

اس الیکشن میں پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے بڑے بڑے رہنماؤں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پیپلز پارٹی کے شکست خوردہ رہنماؤں میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سابق وفاقی وزراء قمرالزمان کائرہ، نذر محمد گوندل، احمد مختار، فردوس عاشق اعوان، صمصام بخاری اور پنجاب میں پیپلز پارٹی کے صدور منظور وٹو اور امتیاز صفدر وڑائچ شامل ہیں۔

پیپلز پارٹی کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے چاروں بیٹے اور بھائی الیکشن ہار گئے ہیں۔ مسلم لیگ ق کے اہم پارلیمنٹیرین انور چیمہ بھی اس مرتبہ الیکشن نہیں جیت سکے ہیں۔ وہ 1985 سے لگاتار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے تھے۔

تحریکِ انصاف کے شکست کھانے والے رہنماؤں میں شاہ محمود قریشی بھی چار میں سے تین نشستوں پر ہارے ہیں جبکہ لاہور میں حامد خان اور ناروال میں ابرار الحق بھی ہارنے والوں میں شامل ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی جانب سے دیگر جماعتوں کو بات چیت کی دعوت تجزیہ کاروں کے خیال میں ان کی بالغ نظری کا ثبوت ہے۔ میاں نواز شریف پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ بھارت سے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کریں گے اور کارگل کی لڑائی کی جانچ کرائیں گے۔ لیکن ملکی سطح پر دہشت گردی کا خاتمہ اور امن و امان کی بحالی ، اقتصادی ترقی، غربت اور بے روزگاری میں کمی ان کے سب سے بڑے چیلینج ہوں گے۔

’ہار کی تکلیف بھول گیا‘

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران حان نے کہا ہے کہ ہار جیت زندگی میں ہوتی رہتی ہے لیکن نوجوانوں کا جنون دیکھ کر میری اس ہار کی ساری تکلیف چلی گئی ہے۔

عمران خان جو اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہیں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں الیکشن کے نتائج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک بہت زبردست جمہوری عمل ہوا ہے۔ جس طری لوگ نکلے وہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹرن آوٹ تھا۔ ’میں اپنی قوم کو اس لیے مبارک دیتا ہو ں کہ ہم جمہوریت کے ارتقائی عمل میں آگے بڑھ رہے ہیں۔‘

عمران خان نے کہا کہ جو لوگ کبھی ووٹ نھیں دیتے تھے ان کو سیاست میں شرکت کرتے دیکھ کر ہم سب پاکستانیوں کو خوشی ہوئی ہے اس کا مطلب ہے کہ ملک میں سیاسی شعور آگیا ہے اور عوام نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ قوم کے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے ـ

عمران خان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ نوجوانوں کا جنون دیکھ کر مجھے اپنی 17 سال کی سیاست میں جو خوشی ملی ہے اس سے ہار کی تکلیف ختم ہو گئی ہے ـ انھوں نے کہا کہ جس طرح نوجوان نئے پاکسیان کے نظریے پر کھڑے ہوئے میں اس کے لیے ان کا شکریے ادا کرتا ہوں۔

اس موقع پر انھوں نے خواتین کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انتی بڑی تعداد میں اس سے قبل کبھی بھی خواتین نے ووٹ نھیں ڈالا اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب خواتین بھی ایک نئے پاکستان کی تقدیر بدلنے اور نیا پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

’نتائج روکے جارہے ہیں‘

بلوچستان کی قوم پرست جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ ان کی جماعت جن نشستوں پر کامیاب ہو رہی ہے وہاں نتائج کو دانستہ طور پر روکا جا رہا ہے۔

نجی ٹی وی چینل جیو ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اختر مینگل نے کہا کہ نتائج روکنے کی ذمہ دار ریاست اور اسٹیبلشمنٹ ہے اور اس سے قبل ہونے والے انتخابات کے بعد حکومتوں کے قیام اور خاتمے کی ذمہ دار بھی یہی قوتیں رہی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی بی خضدار این اے 269 پر ان کے امیدوار عبدالروف مینگل 22 ہزار سے زیادہ ووٹ لے کر دیگر امیدواروں پر سبقت لیے ہوئے ہیں تاہم اس حلقے سمیت پی بی 04 اور پی بی 05 کا نتیجہ بھی روکا گیا ہے۔

اختر مینگل نے دعویٰ کیا کہ تربت گوادر اور کوئٹہ چاغی سے قومی اسمبلی کی ان دو نشستوں کے نتائج روک لیے گئے ہیں جہاں بی این پی کے امیدواروں کو برتری مل رہی تھی۔

اختر مینگل نے کہا ’ہم نے پہلے ہی اس وجہ سے ان اداروں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ ہم نے ان تمام باتوں کو بھلا کر انتخابات میں حصہ لیا محض اس لیے کہ سول سوسائٹی ہم پر الزام لگاتی تھی کہ ہم جمہوری انداز میں اپنا نقطۂ نظر پیش نہیں کر سکتے ہم میں یہ صلاحیت نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ انتخابات کے نتائج روکنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں جمہوری انداز میں اپنا نقطۂ نظر بیان کرنے اور رائے دینے سے روکا جا رہا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نہ صرف آج بلکہ اس سے قبل ہونے والے انتخابات میں جو حکومتیں قائم ہوئیں یا ان کے خاتمے کے لیے جو ذمہ دار تھے وہی قوتیں اس عمل کی بھی ذمہ دار ہیں۔

اختر مینگل نے کہا کہ ’ہم سے جو ہو سکا وہ ہم نے کیا لیکن وہ نہیں چاہتے کہ ہم جمہوری حکومت کا حصہ بنیں‘۔

خیال رہے کہ پولنگ کا وقت ختم ہونے کے اکیس گھنٹے سے زائد کا وقت گزرنے کے بعد بھی الیکشن کمیشن کی جانب سے بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کا بھی نتیجہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

اس تاخیر پر الیکشن کمیشن کے حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ نتائج کا جلد اجراء ان کے اختیار میں نہیں اور جب ریٹرننگ افسر کی جانب سے الیکشن کمیشن کو نتیجہ بھیجا جاتا ہے تو تصدیق کے بعد اسے جاری کر دیا جاتا ہے۔

سیاسی رہنماؤں کی شکست

دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں کئی اہم سیاسی شخصیات کو توقعات کے برعکس ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سابق وزیراعظم سمیت کابینہ کے اہم وزراء بھی اپنی نشستوں پر کامیابی حاصل نہ کر سکے ہیں جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر بھی ہار گئے۔

سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف قومی اسمبلی کے حلقہ 51 سے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے لیکن انہیں مسلم لیگ نواز کے امیدوار راجہ محمد اخلاص کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔

سابقہ حکومت میں اتحادی جماعت عوامی نشینل پارٹی بھی انتخابی دنگل بری طرح ہاری ہے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ 7 چارسدہ سے جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے امیدوار مولانا محمد گوہر شاہ نے عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی کو ہرا دیا۔ قومی اسمبلی کے حلقہ 1 پشاور سے تحریک انصاف کے چئرمین عمران خان نے عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار غلام احمد بلور کو شکست دی۔ لیکن قومی اسمبلی کے حلقہ 122 لاہور سے عمران خان کو شکست بھی ہوئی ہے۔

پنجاب میں قومی اسمبلی کے حلقہ 106 گجرات سے پیپلز پارٹی کے امیدوار اور سابق وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ کو مسلم لیگ نواز کے امیدوار چوہدری جعفر اقبال کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ 111 سیالکوٹ دو سے مسلم لیگ ن کی امیدوار ارمغان سبحانی نے پیپلز پارٹی کی رہنما اور سابق وزیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو ہرا دیا ہے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ 105 گجرات دو سے مسلم لیگ ق کے امیدوار اور سابق نائب وزیراعظم چوہدری پرویز الہی نے پپیلز پارٹی کے امیدوار اور چوہدری احمد مختار کو شکست دی ہے۔ چوہدری احمد مختار سابق حکومت میں وزیر دفاع اور وزیر پانی و بجلی رہ چکے تھے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ 109 منڈی بہاؤالدین دو سے پیپلز پارٹی کے امیدوار اور سابق کابینہ کے وزیر نذر محمد گوندل کو مسلم لیگ ن کے ناصر اقبال بوسال کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور ووٹو کو قومی اسمبلی کے حلقہ 147 سے مسلم لیگ ن امیدوار میاں معین خان وٹو نے ہرا دیا ہے۔ قومی اسمبلی حلقہ 145 اوکاڑہ سے پپیلز پارٹی کی کابینہ کے ایک اور اہم رکن صمصام بخاری کو شکست ہوئی ہے۔

سندھ میں قومی اسمبلی کے حلقہ 235 سانگھڑ کم میر پور خاص سے پیپلز پارٹی کی امیدوار شازیہ مری کو مسلم لیگ فکشنل کے سربراہ پیر پگارا سے شکست ہوئی ہے۔

انتخابات میں گیلانی خاندان کو بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی موسیٰ گیلانی قومی اسمبلی کے حلقہ 148 سے انتخابات لڑ رہے تھے جس پر انہیں مسلم لیگ ن کے عبدالغفار ڈوگر کے ہاتھوں شکست ہوئی ہے۔

ملتان کے اسی حلقے سے پیپلز پارٹی کے سابق رکن اور تحریک انصاف کے نائب صدر شاہ محمود قریشی بھی امیدوار تھے۔

پاکستان تحریک انصاف کے نائب صدر شاہ محمود قریشی قومی اسمبلی کے چار حلقوں سے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔ لیکن قومی اسمبلی کے حلقہ 148 ملتان، حلقہ 150 ملتان تین اور حلقہ 228 عمر کوٹ سے شکست ہوئی ہے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ 151 سے پیپلز پارٹی کے عبدالقادر گیلانی کو سکندر حیات بوسن نے شکست دی ہے جبکہ صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے یوسف رضا گیلانی کے اغوا ہونے والے بیٹے علی حیدر گیلانی کو بھی کامیابی نہ مل سکی۔ صوبائی اسمبلی کے انتخاب میں علی مجتبیٰ گیلانی کو بھی شکست ہوئی ہے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ 17 ابیٹ آباد سے مسلم لیگ ن کے امیدوار سردار مہتاب عباسی کو شکست ہوئی ہے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ 56 روالپنڈی سے مسلم لیگ ن کے حنیف عباسی کو تحریک انصاف کے عمران خان سے شکست ہوئی۔ پاکستان مسلم لیگ کے صدر میاں نواز شریف کو قومی اسمبلی کے حلقہ 120 لاہور اور این اے 68 سرگودھا سے فتح ملی ہے۔