ووٹ گورننس کے لیے

Image caption پاکستانی عوام کو جب فیصلہ کرنے کا موقع ملا تو انھوں نے خراب طرزِ حکمرانی کو یکسر مسترد کر دیا ہے

گیارہ مئی کے انتخابی نتائج ابھی فیصلہ کن مرحلے میں داخل نہیں ہوئے لیکن اب تک جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں وہ پاکستانی ووٹرز کے رجحان کی غمازی کرتے ہیں۔

ایک بات جس پر ماہرین بہت واضح ہیں وہ یہ ہے کہ پاکستانی ووٹروں کی اکثریت نے اپنی رائے استعمال کرتے ہوئے گورننس یا طرزِ حکمرانی کو بہت اہمیت دی ہے۔ مرکز اور خیبر پختونخوا میں سابق حکمران جماعتوں کے مسترد ہونے کو اس رائے کے حق میں دلیل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

ماہرین مانتے ہیں کہ آنے والی حکومت اس رائے کو ہرگز نظرانداز نہیں کر پائے گی۔ پاکستانی عوام نے پانچ برس نسبتاً خندہ پیشانی سے مسائل کا سامنا کیا لیکن جب انھیں فیصلہ کرنے کا موقع ملا تو انھوں نے خراب طرزِ حکمرانی کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

آئندہ حکومت کے لیے یہ سبق یادگار رہے گا۔ اس بنا پر ماہرین یہ توقع کر رہے ہیں کہ اگلی حکومت کو طرز حکمرانی گورننس پر خصوصی توجہ دینی ہو گی۔

پاکستان تحریکِ انصاف کو ملنے والا محدود مینڈیٹ ثابت کرتا ہے کہ پاکستانی قوم عمران خان اور ان کی ٹیم کو کارکردگی کی کسوٹی پر پرکھنا چاہتی ہے۔ انھیں حکومت اور حزبِ اختلاف کے طور پر بیک وقت اپنی کارکردگی دکھانی ہو گی۔

اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ تحریکِ انصاف صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے لیکن صوبہ پنجاب میں یہ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئے گی۔ ایک صوبے میں حکومت اور دوسرے میں اپوزیشن کرکے عمران خان کو ثابت کرنا ہو گا کہ وہ صرف دعوے نہیں کرتے۔ ان محاذوں پر کارکردگی کی بنیاد پر ہی وہ آئندہ انتخابات میں ووٹ مانگنے کے حقدار ہوں گے۔

پنجاب اور خیبر پختونخوا میں روایتی اور مورثی سیاست کے بتوں میں دراڑیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ ووٹوں کی تعداد اور رجحان کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنے پر مزید تجزیات کیے جائیں گے، لیکن لگتا یہی ہے اب اگلی باری صوبہ سندھ کی ہے جہاں لوگ کارکردگی کی بنیاد ہی پر ووٹ دیں گے۔

اسی بارے میں