خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی کارکردگی

Image caption پاکستان تحریک انصاف کو صوابی، کوہاٹ، ہنگو اور سوات کے اضلاع سے بھی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستیں ملی ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف جس طرح پشاور میں پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کا صفایا کر گئی ہے ویسے رحجانات ان علاقوں میں دیکھنے میں نہیں آئے جو روایتی طور پر جمعیت علماء اسلام (ف) اور مسلم لیگ نواز کے گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔

گیارہ مئی کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی سب سے زیادہ نشستیں پشاور، نوشہرہ اور مردان سے حاصل کی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان تحریک انصاف کو صوابی، کوہاٹ، ہنگو اور سوات کے اضلاع سے بھی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستیں ملی ہیں تاہم وہاں دیگر جماعتیں بھی کامیاب رہی ہیں۔

خیال رہے کہ سنہ 2008 کے انتخابات میں پشاور، نوشہرہ اور مردان سے عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ نشستیں جیتی تھیں۔

خیبر پختونخوا میں انتخابی مہم کے دوران جمعیت علماء اسلام کے رہنما پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف مسلسل بیان بازی اور الزام تراشیاں کرتے رہے۔ اس سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ شاید یہاں جے یو آئی کے مینڈیٹ کو دھچکا لگے۔ اگرچہ کچھ حلقوں میں جے یوآئی کو پاکستان تحریک انصاف کے مقابلے میں شکست ہوئی تاہم پی ٹی آئی جمعیت کو ان کے مضبوط قلعوں میں ہرانے میں ناکام رہی۔

Image caption خیبر پختون خوا کے جنوبی اضلاع کو عام طور پر جے یو آئی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے

خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع کو عام طور پر جے یو آئی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور یہاں سے تقریباً ہر انتخاب میں جے یو آئی نشستیں کامیابی حاصل کرتی آئی ہے تاہم حالیہ انتخابات میں ان حلقوں سے جمعیت نے غیر متوقع طور پر زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔

مولانا فضل الرحمان اس دفعہ قومی اسمبلی کے تین حلقوں ڈیرہ اسمعیل خان، ٹانک اور لکی مروت سے امیدوار تھے اور انہوں نے غیر حتمی نتائج کے مطابق یہ تینوں نشستیں جیت لی ہیں۔ ان اضلاع کے صوبائی اسمبلی کے زیادہ تر حلقوں سے بھی جمعیت اور ان کے اتحادی امیدوار جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی صوبائی حلقوں سے جمعیت کے امیدوار زیادہ کامیاب ہوئے ہیں۔

اب تک کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق جمعیت علماء اسلام (ف) صوبے میں پی ٹی آئی کے بعد دوسری اکثریتی جماعت کے طورپر سامنے آئی ہے۔

اگرچہ پاکستان تحریک انصاف کی سونامی کی لہروں کی زد میں مسلم لیگ نواز کے چند قومی اور صوبائی رہنما ضرور آئے ہیں لیکن ان کے زیراثر علاقوں میں مجموعی طور پر ان کی کارکردگی بہتر رہی ہے۔

Image caption سوات اور شانگلہ کے اضلاع میں مسلم لیگ نواز کی کارکردگی خراب رہی ہے

ہزارہ ڈویژن کو مسلم لیگ نواز کے گڑھ کے طور پر جانا جاتا ہے اور یہاں سے سردار مہتاب عباسی تحریک انصاف کے امیدوار اظہر جدون کے مقابلے پر قومی اسمبلی کی نشست جیتنے میں ناکام رہے ہیں تاہم وہ صوبائی اسمبلی کی ایک نشست جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

حالیہ انتخابات میں مسلم لیگ نواز کے صوبائی صدر پیر صابر شاہ بھی پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کے مقابلے میں ہار گئے ہیں تاہم ہزارہ ڈویژن میں مجموعی طور پر مسلم لیگ نواز کا پلڑا بھاری رہا ہے اور متعدد نشستوں سے ان کے امیدوار جیتے ہیں۔

سوات اور شانگلہ کے اضلاع سے بھی یہ توقع کی جا رہی تھی کہ شاید مسلم لیگ نواز وہاں سے زیادہ نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوگی لیکن وہاں ان کی کارکردگی انتہائی خراب رہی ہے۔

ادھر دیر اپر اور دیر لوئر کے اضلاع سے جماعت اسلامی نے قومی اسمبلی کی 2 اور صوبائی اسمبلی کی 9 میں سے 8 نشستیں حاصل کر کے زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔

اسی بارے میں