’پشاور میں نیا پاکستان نظر آ گیا ہے‘

Image caption نواز لیگ کے حامی اپنی جماعت کی جیت کا جشن منا رہے ہیں

پاکستانی انتخابات پر سوشل میڈیا میں بھی گرما گرم بحث جاری ہے، اور معروف تجزیہ نگاروں، مبصروں، صحافیوں اور سیاسی شخصیات کے علاوہ عام لوگ بھی اپنے اپنے انداز میں نتائج پر تبصرہ کر رہے ہیں۔

ذیل میں چند منتخب تبصروں کے اقتباسات پیش کر رہے ہیں:

کاملہ شمسی (ناول نگار): مجھ سمیت ان لوگوں کو بہت خجالت محسوس ہو رہی ہے جو یہ کہتے تھے کہ اگلی حکومت کا مخلوط ہونا ناگزیر ہے۔

پی ٹی آئی کے حامی حماد صفدر نے ٹویٹ کی: ’لاہور میں یہ نغمہ بجنا چاہیے، ’تم جیتو یا ہارو، ہمیں تم سے پیار ہے۔‘

آصف شہزاد نے پیپلز پارٹی کو مشورہ دیا، ’ڈیر پی پی پی: نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ مخالفین کی غلطیوں کی نشان دہی کامیاب حکمتِ عملی نہیں ہوتی، بلکہ اپنی کارکردگی دکھانا ہوتی ہے۔‘

نوید منہاج ٹوئٹر پر لکھتے ہیں، ’قوم کو جلد ہی احساس ہو جائے گا کہ صرف ایک ہی خیرخواہ ہے، اور وہ ہے طاہر القادری۔

آصف شہزاد تحریکِ انصاف کو انتخابات کو دلچسپ بنانے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔‘

یاروسلاو تروفلیموف لکھتے ہیں، ’سخت گیر جماعتِ اسلامی کی تین نشستیں، زیادہ عملی جماعت جے یو آئی ایف کی دس نشستیں۔‘

فرخ حسین نے ایک دلچسپ ٹویٹ کی ہے، ’

عائشہ ٹیمی حق: منظور وٹو کا پنجاب میں جیتنے کا فارمولا، ڈک ورتھ لیوس سسٹم استعمال کیا جائے!

عمر وڑائچ: لیپ ٹاپ، میٹرو بسیں، شمسی پینل جیت گئے، نوجوانوں کا ووٹ ہار گیا۔

عمر وڑائچ: ایسا لگتا ہے جی ٹی روڈ پر پیپلز پارٹی کا ہر وزیر ہار گیا۔

توصیف خواجہ: ایک بار پھر نظام نے امیر کی حمایت کی اور غریب کو تنہا چھوڑ دیا۔

ٹوئٹر کی طرح فیس بک بھی خاصی فعال ہے۔

مصور اور شاعر سلطان خلجی نے لکھا ہے، ’بیلٹ بلٹ سے زیادہ طاقتور ثابت ہوا، لیکن جہالت اس سے بھی بڑی فاتح ثابت ہوئی۔‘

ابرار عمر اس دلدل میں آ کرعمران خان نے بڑٰی قربانی دی ہے، اپنی زندگی لگا دی اس نے۔ اپنے لیے تو غلط ہی کیا، مگر ایک اکثریت ابھی مزید ذلت کے شوق میں لٹیروں کے ساتھ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں بھیڑ بکریوں کی طرح رہنے اور ہانکے جانے کی عادت ہو گئی ہے-

کامران مغل نے فیس بک پر سوال اٹھایا ہے:

پاکستان میں ایک بار پھر برادری نظام کی جیت ہوئی ہے۔ زیادہ تر پٹھان نے پٹھان کو پنجابی نے پنجابی کو سندھی نے سندھی کو اور بلوچ نے بلوچ کو دوسروں پر فوقیت دی ہے.

وہ دن کب آے گا جب پنجابی دوسروں کو اور دوسرے پنجابیوں کو دل سے اپنا حکمران سمجھیں گے؟

زائد خان نے عمران خان کو پیغام دیا ہے: آپ جیت گئے، قوم ہار گئی ہے۔ اسلام آباد اور پشاور والو آزادی مبارک ہو، باقی شہروں کو لگ پتا جائے گا۔

محمد عباس ملک نے طنزیہ انداز میں کہا ہے: خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی کی حکومت، اب ڈرون حملے اور نیٹو سپلائی روٹ بند کر دیں گے خان صاحب!

فرخ منظور نے فیس بک پر بڑا دلچسپ پیغام نشر کیا ہے، پشاور میں نیا پاکستان نظر آ گیا ہے۔ باقی لوگ اپنے مقامی وقت کے مطابق نیا پاکستان دیکھیں۔

پیغامات کے علاوہ فیس بک پر چند حسبِ حال اشعار بھی دیکھنے میں آئے، جن کا انتخاب پیش کیا جاتا ہے:

یہ اک پڑاؤ ہے منزل نہیں ہے ہمسفرو ذرا ٹھہر کے ہمیں اور آگے جانا ہے

بہت شرمندہ ہونٹوں پر دعا ہے دیا بھڑکا، جلا، پھر بجھ گیاہے

ہے حقیقت، تو حقیقت میں ہمارا کیا ہے ہارنے والے، تو اس کھیل میں ہارا کیا ہے

منزل کے انتظار میں مارے گئے ہیں ہم اک دشتِ بے کنار میں مارے گئے ہیں ہم

اسی بارے میں