عوام کا نتیجہ تو کچھ اور تھا: اختر مینگل

Image caption ’ہم سے جو ہو سکا وہ ہم نے کیا لیکن وہ نہیں چاہتے کہ ہم جمہوری حکومت کا حصہ بنیں‘

بلوچستان کی قوم پرست جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ انہوں نے یہ تاثر رد کرنے کے لیے انتخابات میں حصہ لیا تھا کہ بلوچ قوم پرست جمہوری عمل میں شریک نہیں ہوتے لیکن اب ان کی جماعت جن نشستوں پر کامیاب ہو رہی ہے وہاں نتائج کو دانستہ طور پر روکا جا رہا ہے۔

بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں گفتگو کرتے ہوئے اختر مینگل نے کہا کہ ملک پر 65 سال سے حکمرانی کرنے والی قوتیں کبھی بھی عوام کی رائے کا احترام نہیں کریں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچ قوم پرست جماعتوں پر ہمیشہ یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ جمہوری انداز میں اپنا نقطۂ نظر بیان نہیں کرتیں اور اس تاثر کو رد کرنے کے لیے ہم نے الیکشن میں حصہ لیا اور بیلٹ کا سہارا لیا۔‘

اختر مینگل نے کہا کہ ان کا مقصد عوام کی رائے کا احترام تھا لیکن اب ان کے پاس کوئی چارہ نہیں۔ ’یا تو ہم سرکار کی گولی ہے اور دوسری جانب شدت پسندوں کی گولی ہے۔ یا تو ہم سرکار کی گولی کھائیں یا پھر شدت پسندوں کا ساتھ دیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی بی خضدار این اے 269 پر ان کے امیدوار عبدالروف مینگل 22 ہزار سے زیادہ ووٹ لے کر دیگر امیدواروں پر سبقت لیے ہوئے ہیں تاہم اس حلقے سمیت پی بی 04 اور پی بی 05 کا نتیجہ بھی روکا گیا ہے۔

اختر مینگل نے دعویٰ کیا کہ تربت گوادر اور کوئٹہ چاغی سے قومی اسمبلی کی ان دو نشستوں کے نتائج روک لیے گئے ہیں جہاں بی این پی کے امیدواروں کو برتری مل رہی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ ’رات کو سامنے آنے والے نتائج میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر میرے ووٹ 15 ہزار تھے اور گیارہ ہزار کی برتری حاصل تھی ـ بلوچستان کے دور دراز علاقوں کے نتائج تو سامنے آگئے ہیں تاہم کوئٹہ کے نتائج نہیں بتائے جا رہے جبکہ حکومت کے منظورِ نظر لوگوں کے نتائج کا اعلان کیا جا رہا ہے۔‘

نتائج پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ تو ہمیں یقین ہے کہ عوام کی طرف سے پذیرائی ملی ہے۔ یہ کبھی بھی یہ یقین نھیں تھا کہ آئی ایس آئی اور پاکستان کے خفیہ اداروں کی طرف سے سپورٹ ملے گی۔ یہ رزلٹ ان کا بنایا ہوا ہے، عوام کا نتیجہ کچھ اور تھا‘۔

اختر مینگل نے کہا کہ کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں انہیں دو دن پہلے اپنے ایجنٹ بھیجنے پڑتے ہیں اور ’جب ہمارے ایجنٹ وہاں پہنچے تو انھیں اغوا کر لیا گیا اور میں نے اسی دوران الیکشن کمیشن کی انتظامیہ کو خط ارسال کیا لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا اور کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ ہمارے ووٹ حریف جماعتوں کو دیے جا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن بےبس ہے اور پولنگ کے دوران اکثر پولنگ مراکز پر عملے کی کمی تھی اور کئی علاقوں میں سکیورٹی نہ ہونے کے برابر تھی۔

’الیکشن کمیشن کی ذمہ داری تھی کہ وہ نتائج کو اپنی تحویل میں لیتے لیکن جو نتیجہ 12 سے 18 گھنٹوں کے بعد باہر آیا وہ نہ عوام کی رائے سے بنا تھا، نہ الیکشن کمیشن کا تھا بلکہ وہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کا بنایا ہوا تھا۔ان کے سامنے پارلیمنٹ بے بس ہے تو الیکشن کمیشن کیا کرے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اول روز سے ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔‘

بلوچ رہنما نے کہا کہ بلوچ قوم پرست پہلی بار پارلیمنٹ میں نہیں آئے۔ ’اس سے پہلے بھی ہم نے پارلیمنٹ کے ذریعے اپنی آواز بلند کرنی چاہی لیکن ہمیں روکا گیا۔ ہماری منتخب حکومتوں کو ختم کیا گیا تاکہ نیشنلسٹ جماعتوں کو پارلیمنٹ سے باہر رکھا جائے اور ان کے بنائے ہوئے قوم پرستوں اور بنیاد پرستوں کو بلوچستان پر حکمرانی کرنے کا موقع دیا جائے تاکہ یہ جو کچھ بھی کریں وہ اس پر حسب روایت تماش بین بنے رہیں‘۔

خیال رہے کہ پولنگ کا وقت ختم ہونے کے اکیس گھنٹے سے زائد کا وقت گزرنے کے بعد بھی الیکشن کمیشن کی جانب سے بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کا بھی نتیجہ جاری نہیں کیا گیا تھا۔

اس تاخیر پر الیکشن کمیشن کے حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ نتائج کا جلد اجراء ان کے اختیار میں نہیں اور جب ریٹرننگ افسر کی جانب سے الیکشن کمیشن کو نتیجہ بھیجا جاتا ہے تو تصدیق کے بعد اسے جاری کر دیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں