نواز شریف کی جیت ہمسایہ ریاستوں کی نظر میں

پاکستان میں سنہ دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں نواز شریف کی کامیابی کا ہمسایہ ممالک نے خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ مستحکم پاکستان کا باعث بنیں گے۔ تاہم زیادہ انحصار اس بات پر ہے کہ وہ پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر کتنا موثر طریقے سے کام کر سکتے ہیں۔

نواز شریف نوے کی دہائی میں دو مرتبہ ملک کے وزیرِ اعظم بنے اور بھارت کے ساتھ امن کے لیے کوششیں کی تاہم انہیں ہر قدم پر فوج کے جارحانہ اور غیر مصالحتی رویّے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ آخر کار انیس سو نناوے میں متنازعہ کشمیر کے علاقے کارگل میں جنگ چھڑ گئی۔ جس کی وجہ سے فوج کو کافی نقصان ہوا اور حکومت کا تحتہ الٹ دیا گیا۔

نواز شریف کو اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ پاکستان کے روایتی مغربی اتحادی اس وقت معاشی بحران میں مبتلا ہونے کے باعث شاید ان کے لیے زیادہ مددگار نہ ہوں۔ تاہم بھارت ایک سرمایہ کار کی حیثیت سے پاکستان کی دیوالیہ معیشت کو بحال کرنے میں کافی اہم کرادر ادا کر سکتا ہے۔

اس مرتبہ فوج بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے آمادہ نظر آتی ہے تاہم پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی ابھی پاکستان میں بھارتی سرمایہ کاری اور فیکٹریوں کے قیام کے منصوبوں پر ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔

تاہم پاکستان کے پاس بہت کم راستے ہیں اور نواز شریف کے پاس اس سے بھی کم کیونکہ پاکستانی معشیت کی بہتری کی طرف جانے والے سبھی راستے ایک ایک کر کے بند ہو رہے ہیں۔

جنرل کیانی بھی اس سال کے آخر تک اپنے عہدے سے سکبدوش ہونے والے ہیں۔ اور نیا آنے والا فوج سربراہ شاید نواز شریف اور فوج کے درمیان کشیدگی کو ختم کر دے۔

ایران پائپ لائن منصوبے پر دباؤ

فوج کو اپنے ساتھ چلانے کی غرض سے صدر آصف علی زرداری نے تو خارجہ پالیسی سے عملاً ہاتھ کھینچ لیے تھے۔

لیکن شاید نواز شریف ایسا نہ کریں بلکہ ان کی خواہش ہوگی کہ فوج کے ساتھ مل کر ایک ایسی مؤثر پالیسی بنائیں جس کی مدد سے افغانستان میں قیام امن کے لیے امریکہ ، صدر حامد کرزئی اور پاکستان میں مقیم طالبان رہنماؤں کے درمیان معاملات طے کروائے جا سکیں۔

پاکستان کے شہر کراچی کی بندرگارہ کے راستے افغانستان میں موجود امریکی افواج کا پر امن انخلاء، افغان جنگ کا خاتمہ، اور کابل میں حکومت کی بقاء ان سب چیزوں کا انحصار اس بات پر ہے کہ پاکستان طالبان کو امن کی میز پر لانے میں اپنا کردار کتنی سنجیدگی سے ادا کرتا ہے۔

نواز شریف بظاہر ایسا کرنے کے خواہش مند نظر آتے ہیں اور اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ وہ سرحد کے دونوں جانب امن کے بغیر ملک کے داخلی بحران سے نمٹنے کے قابل نہیں ہو سکتے۔

نواز شریف کو ایران کے معاملے میں بھی کافی مشکل صورتحال کا سامنا ہوگا۔ ایسے میں جب ایران پر جوہری پروگرام کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کو لے کرامریکہ کافی دباؤ ڈال رہا ہے۔ پاکستان نے حال ہی میں ایران کے ساتھ ناگزیر حالات میں گیس پائپ لائن کا معاہدہ کیا ہے۔ نواز شریف یہ منصوبہ جاری رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان میں گیس کی شدید کمی ہے۔

وسطی ایشیا کی پانچ ریاستوں تاجکستان، ازبکستان، کرغستان، کزاکستان اور ترکمانستان کو افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء اور طالبان کو کنٹرول کرنے میں امریکہ کی ناکامی کے باعث کافی تشویش ہے اور اس کے لیے وہ پاکستان فوج کی ذمہ دار مانتی ہیں۔ یہ ممالک نواز شریف کو اقتدار میں دیکھ کر کافی مطمئن ہونگے اور ان کی خواہش ہوگی کہ نواز شریف افغانستان میں امن کے لیے مصالحت کار کا کردار ادا کریں۔

چین پاکستان کا روایتی حلیف ہے جس کے خدشات حالیہ عرصے میں بڑھے ہیں اور اس نے پاکستان کی جانب سے شدت پسندی اور طالبان کے معاملے میں رویے پر تنقید بھی کی ہے۔ چین اب نواز شریف میں ایک ایسا حلیف دیکھنا چاہے گا جو فوج کے ساتھ مل کر شدت پسندی کے لیے برداشت کے رویے کو ختم کرے۔

چین کو اس لیے بھی تشویش ہے کہ اس کے صوبے سینکیانگ میں اوغر مسلمان عسکریت پسند اب بھی پاکستان سے تربیت لے کر جا رہے ہیں۔

امریکہ سے تعلقات

سب سے مشکل تعلق شاید امریکہ کے ساتھ ہو۔ دوسرے سیاستدانوں کی طرح انتخابی مہم میں نواز شریف نے بھی امریکہ مخالف جذبات کا اظہار کیا۔ ان کے بھائی اور سابق وزیرِ اعلی پنجاب شہباز شریف نے تو امریکہ کی پالیسیز اور ڈرون حملوں کے خلاف غصّے کا اظہار کرتے ہوئے صوبہ پنجاب میں امریکی فلاحی ادارے یو ایس ایڈ کے تمام منصوبے بھی روک دیے تھے۔

پاکستانی فوج کے بھی واشنگٹن کے ساتھ ڈرون حملوں کے حوالے سے کئی تنازعات ہیں۔

تاہم نواز شریف یہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ انہیں عالمی مالیاتی ادارے ، عالمی بینک اور دیگر عالمی اداروں سے مدد لینے کے لیے امریکی تعاون کی ضرورت ہوگی۔ اور وہ ایسا تب تک نہیں کر سکتے جب تک انہیں بھارت اور افغانستان کے ساتھ امن عمل کے لیے امریکہ کی حمایت نہیں ملتی۔

پاکستان اس وقت ہمسائیوں کے لیے ناپسندیدہ اور تنہائی کا شکار ہے اور اس کی ساکھ دوبارہ بنانا آسان کام نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں