حکومت کی تشکیل کے لیے صلاح مشورے جاری

Image caption مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا ایک غیر رسمی اجلاس رائے ونڈ میں ہوا جس میں حکومت سازی کے حوالے سے غور کیا گیا

پاکستان میں گیارہ مئی کے عام انتخابات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والی پاکستان مسلم لیگ (ن) نے مرکزی حکومت کی تشکیل کے لیے مشاورت شروع کردی ہے اور آزاد اراکین کو پارٹی میں شامل کرنے کے لیے رابطے کر رہی ہے۔

قانون کے مطابق امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے تین روز کے اندر انہیں کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہونے کا موقع دیا جاتا ہے۔اس کے بعد سیاسی جماعتوں کے کامیاب امیدواروں کی حتمی فہرست جاری ہوتی ہے جس کی بنا پر اقلیتوں اور خواتین کی مخصوص نشستیں الاٹ کی جاتی ہیں۔

پاکستان کے انتخابات 2013: خصوصی ضمیمہ

انتخابات کے غیر حتمی نتائج کا ٹیبل

مبصرین کے مطابق الیکشن کمیشن نے اس بار نتائج کے اعلان میں غیر ضروری تاخیر کی ہے اور تاحال نتائج مکمل نہیں ہو سکے ہیں لیکن غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے لیے حکومت بنانے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔

لاہور سے نامہ نگار عباد الحق نے بتایا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا ایک غیر رسمی اجلاس رائے ونڈ میں ہوا جس میں حکومت سازی کے حوالے سے غور کیا گیا۔

ماہرین کی یہ رائے ہے کہ جون میں قومی بجٹ پیش ہونا ہے اس لیے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر حکومت سازی کا عمل جون سے پہلے پہلے مکمل کرلیا جائے۔

ادھر خیبر پختونخواہ میں حکومت سازی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے مختلف سطح پر اجلاس ہو رہے ہیں ، جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ عوام نے جس جماعت کو منڈیٹ دیا ہے اسے حکومت سازی کا حق ملنا چاہیے۔

ہمارے نامہ نگار عزیزاللہ خان کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی چار رکنی کمیٹی نے قومی وطن پارٹی کے سربراہ سابق وفاقی وزیر آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے ساتھ رابطے کیے ہیں ۔

پی ٹی آئی کے صوبائی صدر اسد قیصر نے جماعت اسلامی کے رہنماؤں سے رابطے کیے ہیں تاکہ خیبر پختونخواہ میں ان کی جماعت حکومت قائم کر سکے۔ پی ٹی آیی کی کمیٹی کے قیادت سینیئر پارلیمنٹیرین پرویز خٹک کر رہے ہیں۔ پرویز خٹک ماضی میں آفتاب شیرپاؤ کی جماعت کے ارہم عہدے پر رہ چکے ہیں۔

ادھر جماعت اسلامی نے آج شام اپنی جماعت کی صوبائی مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کیا ہے جس میں حکومت سازی کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی۔

جماعت اسلامی کے صوبائی ترجمان اسرار اللہ ایڈووکیٹ نے کہا ہے ان کی جماعت کا یہ موقف ہے کہ عوام نے جسے مینڈیٹ دیا ہے اس جماعت کو حکومت سازی کا حق حاصل ہے اور اس میں رکاوٹیں نہ پیدا کی جائیں۔

Image caption آئین کے مطابق صدرِ پاکستان نئے قائدِ ایوان یعنی وزیرِ اعظم کے چناؤ کے لیے اکیس دنوں میں قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے پابند ہیں

خیال رہے کہ انتخابات کے مکمل نتائج ابھی پہنچے نہیں تھے کہ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف سے رابطے شروع کر دیے تھے جس میں صوبہ خیبر پختونخواہ میں حکومت سازی پر بھی بات چیت کی گئی تھی۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان مسلم لیگ اور آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی جماعت قومی وطن پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت سازی کر سکتے ہیں۔

پشاور میں اطلاعات ہیں کہ جمعیت علماء اسلام نے آزاد اراکین اور دیگر جماعتوں سے رابطے تیز کر دیے ہیں۔ خیبر پختونخواہ میں اگر یہ تینوں جماعتیں مل بھی جائیں تو ان کے ارکان کی کل تعداد پینتیس تک ہوتی ہے۔ انھیں مذید پندرہ ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ بھی مولانا فضل الرحمان کے ساتھ حکومت سازی پر متفق ہے اور تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے کیے جا رہے ہیں۔

آزاد اراکین کو الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ تین دن کے اندر اندر کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کریں۔ اب زیادہ انحصار جماعت اسلامی اور آزاد اراکین پر ہوگا کہ وہ حکومت سازی کے لیے کس جماعت کی حمایت کرتے ہیں۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے اراکین کی تعداد چونتیسں ہے جبکہ جماعت اسلامی کے سات ، آزاد تیرہ ہیں۔ دوسری جانب جمعیت علماء اسلام کے اراکین کی تعداد سولہ ، پی ایم ایل کی بارہ شیرپاؤ گروپ کی سات ہے ۔ اس کے علاوہ تین ارکان عوامی نیشنل پارٹی کے ، دو پیپلز پارٹی کے اور چار اراکین دیگر جماعتوں سے منتخب ہو کر آئے ہیں۔

قومی اسمبلی میں اقلیتوں کی دس اور خواتین کی ساٹھ نشستیں ہیں۔ قومی اسمبلی میں چار اعشاریہ پانچ تین عمومی نشستوں پر خواتین کی ایک نشست سیاسی جماعتوں کو ملے گی۔ جبکہ اقلیت کی ایک نشست ستائیس اعشاریہ دو نشستوں پر سیاسی جماعتوں کو ملے گی۔

خصوصی نشستوں کی الاٹمنٹ کے بعد الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کی حتمی فہرست صدرِِ پاکستان اور سپیکر قومی اسمبلی کو بھیجے گا۔ جس کے بعد اکثریت رکھنے والی جماعت کو صدرِ مملکت حکومت سازی کی دعوت دیں گے اور سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اراکین کی حلف برداری کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں گی۔

اراکین کی حلف برداری کے بعد قومی اسمبلی کے نئے سپیکر کا اننتخاب ہوگا اور نو منتخب سپیکر کی صدارت میں ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہوگا۔ جس کے بعد قائد ایوان کا انتخاب ہوگا اور اس کے لیے تین سو بیالیس اراکین کے ایوان میں سادہ اکثریت یعنی دو سو بہتر ووٹ درکار ہوتے ہیں اور منتخب ہونے والے قائد ایوان سے صدرِ پاکستان وزیراعظم کا حلف لیں گے۔

اگر میاں محمد نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بنتے ہیں تو یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ریکارڈ ہوگا کہ کوئی شخص تیسری بار اس عہدے پر پہنچے گا۔

اسی بارے میں