انتخابات کے بعد پارلیمان سازی کے آئینی تقاضے

Image caption نئے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے بعد قائد ایوان یعنی نئے وزیر اعظم کو چنا جائے گا

پاکستان میں انتخابات کے بعد نئی حکومت کے قیام کا عمل شروع ہوگیا ہے اور آئین کے تحت صدر پاکستان اکیس دنوں کے اندر قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے پابند ہیں۔

صدر کی طرف سے طلب کردہ اجلاس میں تحلیل ہونے والی قومی اسمبلی کی سپیکر نومنتخب ارکان اسمبلی سے حلف لیں گی۔

نومنتخب ارکان قومی اسمبلی کے حلف اٹھانے کے بعد نئے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کا چناؤ کیا جائے گا اور یہ انتخاب خفیہ رائے شماری کے تحت ہوگا۔

آئین کے تحت نئے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کا عمل مکمل ہونے کے بعد قائد ایوان یعنی نئے وزیر اعظم کو چنا جائے گا۔

الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد کے مطابق الیکشن کمیشن نے چودہ دنوں کے اندر نومنتخب ارکان اسمبلی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنا ہوتا ہے اور بقول ان کے نوٹیفکشن کے اجراء کے بعد فوراً قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا جاتا ہے۔

وزیر اعظم کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے نہیں ہوتا۔ نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے جتنے امیدوار ہوں گے ان کے حامیوں کو اتنی لابیوں میں اکھٹا کیا جائے گا۔

قومی اسمبلی میں کل اراکین کی تعداد تین سو بیالیس ہے اور وزیر اعظم بننے کے لیے کم از کم ایک سو بہتر ارکان کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہے۔

نئے وزیر اعظم کو اپنے انتخاب کے بعد قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینا ہوتا ہے۔

کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ دو ہزار دو اور دو ہزار آٹھ کے انتخاب کے بعد وزیر اعظم کے انتخاب میں اکیس دنوں سے زیادہ کی مہلت لگی۔

ماہرین کی یہ رائے ہے کہ جون میں قومی بجٹ پیش ہونا ہے اس لیے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر حکومت سازی کا عمل جون سے پہلے پہلے مکمل کرلیا جائے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں سپیکر اور وزیر اعظم کے انتخاب کے بعد اہم عہدہ قائد حزب مخالف کا ہے۔

نئے قائد حزب اختلاف کا تقرر کسی انتخاب کے ذریعے عمل میں نہیں آتا بلکہ قائد حزب مخالف یا اپوزیشن لیڈر کے تقرر کا اعلان سپیکر قومی اسمبلی کرتی ہے۔

ماضی کی روایات کے مطابق جس روز وزیراعظم چنے جاتے ہیں اُسی روز اپنے منصب کا حلف اٹھاتے ہیں اور صدر مملکت نئے وزیر اعظم سے حلف لیتے ہیں۔

اسی بارے میں