بھارت کی نواز شریف سے امیدیں

Image caption انتخابی مہم کے دوران نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ وہ انڈیا جائیں گے، چاہے انڈیا بلائے یا نہیں۔

جیسے ہی یہ واضح ہوا کہ میاں نواز شریف پاکستان کے نئے وزیر اعظم ہوں گے، منموہن سنگھ نے انہیں ہندوستان آنے کی دعوت دے دی۔

اس دعوت نامے سے تاثر ملتا ہےکہ بھارتی حکومت باہمی رشتوں کی بہتری کے لیے پھر بلا تاخیر ایک نئی شروعات کرنے کے لیے تیار ہے لیکن اس کی وجہ کیا ہے؟

جنوری میں جب لائن آف کنٹرول پر کشیدگی عروج کو پہنچ رہی تھی اور یہ الزام لگایا گیا کہ پاکستانی فوجی ایک بھارتی جوان کا سر کاٹ کر لےگئے ہیں تو منموہن سنگھ نے اعلان کیا تھا کہ ’ اب باہمی رشتے اس طرح جاری نہیں رہ سکتے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔’

تو جنوری سے اب تک کیا بدلا ہے؟ بظاہر تو کچھ نہیں۔ پاکستان میں ابھی صرف حکومت بدلنے کو ہے، پالیسی میں تبدیلی کے وعدے ہیں اور یہ وعدہ بھی کہ باہمی رشتوں کی ڈور انیس سو ننانوے میں لاہور اعلامیہ کے وقت جہاں سے ٹوٹی تھی، وہیں سے جْڑی جائے گی۔

بھارت میں بھی اب پارلیمانی انتخابات قریب ہیں اور وزیر اعظم منموہن سنگھ ممکنہ طور پر اپنے دورِ اقتدار کے آخری مراحل میں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اقتدار چھوڑنے سے پہلے باہمی رشتوں کودوبارہ پٹڑی پر لانے کی ایک آخری کوشش کرنا چاہتے ہوں کیونکہ عام طور پر یہ ماناجاتا ہے کہ بھارتی حکومت میں وہ پاکستان سے دوستانہ تعلقات کے سب سے بڑے علم بردار ہیں۔

یا پھر شاید حکومت کو لگتا ہے کہ نواز شریف کی آمد ایک نئی شروعات کا اچھا موقع ہے کیونکہ گذشتہ پانچ برسوں کے برعکس اقتدار کی باگ ڈور حقیقی معنوں میں خود پاکستان کے وزیر اعظم کے ہاتھوں میں ہوگی۔

حکومت کی پالیسی میں اگر واقعی کوئی تبدیلی ہے تو وہ آئندہ چند دنوں میں واضح ہوجائےگی لیکن سابق سفارتکاروں اور بین الاقوامی امور کے تجزیہ نگاروں میں یہ اس بات پر کم و بیش اتفاق نظر آتا ہے کہ نواز شریف کا برسراقتدار آنا بھارت کے لیے اچھی خبر ہے لیکن وہ باہمی رشتوں کو بہتر بنانےمیں کس حد تک کامیاب ہوں اس پر رائے تقسیم ہے۔

مبصرین کے مطابق بڑی حد تک اس کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ نواز شریف فوج کو عملی طور پر سویلین حکومت کےماتحت لانے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔ انگریزی زبان کے روزمامہ ہندو نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ’ انڈیا ضرور یہ امید کرے گا کہ وہ اس کوشش میں کامیاب ہو جائے۔‘

ٹی وی چینلوں پر بحث مباحثوں میں یہ کہا جا رہا ہے کہ’ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید نواز شریف کے قریب مانے جاتے ہیں، وہ ان کے خلاف کارروائی تو شاید نہ کرسکیں لیکن انہیں خاموش بیٹھنے کے لیے تو کہہ سکتے ہیں۔۔۔نواز شریف کے دور میں ہی افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا گیا تھا اور یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ نواز شریف کے سامنے بہت بڑے بڑے چیلنجز ہیں، اندرون ملک بھی اور مغربی سرحد پر بھی۔‘

مختلف الفاظ میں اس بات کی عکاسی بھارتی اخبارات میں بھی کی گئی ہے: ’ نواز شریف کی پارٹی سینٹر رائٹ‘ کی سیاست کرتی ہے اور ان ’غیر سیکولر جماعتوں میں شامل تھی جو تحریک طالبان پاکستان کے عتاب سے محفوظ رہیں۔۔۔اپنے سابقہ دور اقتدار میں بھی نواز شریف نے جہادی تنظیموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔‘

لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انیس سو ننانوے سے نواز شریف نےایک لمبا اور دشوارگزار سیاسی سفر طے کیا ہے۔ وہ اب ایک زیادہ تجربہ کار، میچور اور ذمہ دار سیاسدان ہیں اور اس کی ایک مثال یہ ہےکہ انہوں نے پیپلز پارٹی کی حکومت کو وقت سے پہلے گرانے کی کوشش نہیں کی۔

مبصرین کا یہ بھی خیال ہے کہ نواز شریف ایک بزنس مین ہیں اور کاروبار کی اہمیت کو سمجھتے ہیں لہٰذا ان کی کوشش ہوگی کہ باہمی تجارت کا فروغ تعلقات کی بہتری کا اہم عنصر رہے۔ یہی خواہش ٹائمز آف انڈیا نےاپنے صفحہ اول پر ظاہر کی ہے۔

اخبار نے ان پانچ اقدامات کی فہرست ترتیب دی ہے جن کی اس کے بقول انڈیا کو توقع ہے۔ان میں سر فہرست انتہائی پسندیدہ ملک کا درجہ، باہمی تجارت کو فروغ، پاکستان کی فوج پر زیادہ سویلین کنٹرول، بھارت کے خلاف دہشت گردی کی سرگرمیوں کی روک تھام اور پاکستان کے اندر مذہبی شدت پسندی پر قابو۔

انتخابی نتائج سے جب یہ واضح ہونے لگا کہ مسلم لیگ نواز تنہا حکومت بنانے کی طرف بڑھ رہی ہے تو میاں نواز شریف سے ایک بھارتی ٹی وی چینل نے پوچھا کہ انڈیا کے لیے ان کا کیا پیغام ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ’دوستی اور محبت کا پیغام ہے، جہاں تک پہنچے۔‘

انتخابی مہم کے دوران نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ وہ ’ انڈیا جائیں گے، چاہے انڈیا بلائے یا نہیں۔‘

یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ یہ پیغام کہاں تک پہنچتا ہے کیونکہ ماضی میں بھی ایسے موڑ کئی مرتبہ آئے ہیں لیکن شاید منموہن سنگھ نے دعوت دینے میں اس لیے بھی دیر نہیں کی کہ کہیں اس پیغام کے ساتھ نواز شریف واقعی بن بلائے دلی نہ پہنچ جائیں!

اسی بارے میں