پارٹی میدان میں رہے گی: اعتزاز

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ وہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی شکست پر مایوس یا دلبراشتہ نہیں ہے اور پیپلز پارٹی میدان میں رہے اور دوبارہ ایک بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی۔

بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے سینٹیر اعتزاز احسن نے کہا کہ پارٹی نے بڑے نامساعد حالات میں حکومت کی اور الیکشن لڑا۔

انھوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال میں عدلیہ پیپلز پارٹی کی حکومت کی مخالف رہی اور ’جوڈیشنل ایکٹیوازم‘ کا تنہا نشانہ بنی رہی۔

انھوں نے کہا کہ وہ اس کے بے شمار مثالیں دے سکتے ہیں۔

حکومت کے پانچ سال مکمل کرنے پر انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے انتہائی نامساعد حالات کے باوجود جمہوری نظام کے پانچ سال مکمل کیئے۔انھوں نے کہا کہ بہت سارے معاملات ایسے تھے جن میں پاکستان پیپلز پارٹی نےخاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

انھوں نےگیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے لوگ نے پارٹی کو ووٹ نہیں دیا۔انھوں نے کہا اس ضمن میں حکومت ایک حد تک بے بس بھی رہی اور آئین میں ترمیم کے بعد بجلی پیدا کرنے کے اختیارات اور وسائل صوبوں کو منتقل ہوگئے تھے لیکن انھوں نے کچھ نہیں کیا جس کی قیمت پارٹی کو ادا کرنا پڑی۔

پارٹی کی ناکامی کے اسباب پر پوچھے گئے ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ اس کے بہت سے عوامل اور وجوہات رہیں جن پر بات پارٹی کے اجلاسوں میں کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ ان معاملات پر کھلے عام بات کرنا ٹھیک نہیں ہے۔

ایک اور سوال پر کہ کیا بلاول بھٹو زرداری پارٹی کی ساکھ اور مقبولیت کو بحال کر پائیں گے انھوں نے پراعتماد انداز میں کہا کہ ’بالکل کر پائیں گی۔‘ انھوں نے کہا وہ اور دوسرے سینیئر لوگ پارٹی میں رہیں گے اور بھر پور تعاون کریں گے۔

پارٹی کی شکست کے بارے میں ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا جب ذوالفقار علی بھٹو کو ضیاء الحق نے تختہ دار پر لٹکا دیا اس وقت بھی یہ کہا گیا تھا کہ ’پارٹی از اوور‘۔ لیکن پارٹی پھر ابھر کر سامنے آئی اس کے بعد بے نظیر بھٹو کی ’شہادت‘ کے بعد بھی کہا گیا کہ پارٹی ختم ہو جائے گی لیکن پھر پارٹی انتخاب اور لوگوں کا اعتماد جیتنے میں کامیاب رہی۔

خاندانی سیاست پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا مسلم لیگ بھی تو ایک خاندان کی پارٹی بن گئی ہے۔ نواز شریف، شہباز شریف، حمزا شہباز، مریم نواز اور کئی اور رشتہ دار اب حکومتی عہدوں پر فائز ہوں گے۔

انھوں کہا کہ بھارت میں چالیس سال سے لوگ گاندھی خاندان پر اعتماد کا اظہار کرتے چلے آئیں ہیں۔ انھوں نے اس مفروضے کو رد کر دیا کہ خاندانی سیاست سے جمہوریت کو نقصان پہنچتا ہے۔