امریکہ میں پاکستانی سفیر شیری رحمان مستعفی

امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے نے کہا ہے کہ امریکہ میں پاکستان کی سفیر شیری رحمان نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو بھجوا دیا ہے۔

امریکہ میں پاکستان کے سفارت خانے نے اس بات کا اعلان ٹوئٹر پر کیا ہے جسے بعد میں خود شیری رحمان نے ری ٹویٹ بھی کیا۔

شیری رحمان پیپلز پارٹی کی سابقہ مخلوط حکومت میں وفاقی وزیر اطلاعات رہیں انہیں نومبر دو ہزار گیارہ میں ان کے پیش رو حسین حقانی کے مستعفی ہونے کے بعد سفیر مقرر کیا گیا تھا۔

امریکہ نے نومبر 2011 میں شیری رحمان کی بطور پاکستانی سفیر امریکہ میں تقرری کا خیر مقدم کیا تھا۔

امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ یقیناً شیری رحمان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں تاکہ دونوں ملکوں مضبوط اور مشترکہ تعلقات کی تعمیر کی کوششیں جاری رکھ سکیں۔

شیری رحمان نے اس وقت کہا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلعقات میں کوئی رکاوٹ نہیں اور امریکہ سے تعلقات میں قومی مفاد اولین ترجیح ہے اور پاکستان کا موقف ہر فورم پر پیش کریں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیاں ضائع نہیں ہونی چاہیئیں اور وہ خود کو سونپی جانے والی ذمہ داریوں کو بھر پور طریقے سے انجام دیں گی۔

امریکہ میں پاکستان کی سفیر کی حیثیت سے شیری رحمان نے پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے حوالے سے فروری میں پاکستانی موقف بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی سرزمین پر امریکی ڈرون حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف وزری ہیں اور اگر امریکہ نے ڈرون حملے بند نہ کیے تو پاکستان امریکہ سے دہشت گردی کے خلاف کاروائیوں میں تعاون بند کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’پاکستان امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں تعاون جاری رکھے گا کیونکہ امریکہ اگلے برس افغانستان سے اپنی افواج نکال رہا ہے تاہم اس تعاون میں ڈرون حملے سرخ لکیر ہیں۔‘

اس موقع پر انہوں نے اس بات کی تردید بھی کی تھی کہ پاکستانی سرزمین پر امریکی حملوں کو پاکستان کی خاموش تائيد حاصل ہے۔

شیری رحمان پاکستانی سفیر کی حیثیت سے اس بات کی بھی تردید کرتی رہیں کہ پاکستان نے افغانستان میں طالبان کاروائيوں کی اجازت دے رکھی ہے۔

اسی بارے میں