’وزیراعلیٰ تحریکِ انصاف کا، جماعتِ اسلامی کی 3 وزارتیں‘

Image caption تحریکِ انصاف تاحال صوبے میں اپنے پارلیمانی لیڈر کے نام کا فیصلہ نہیں کر سکی ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر خیبر پختونخوا میں حکومت سازی کے لیے پاکستان تحریکِ انصاف کے جماعتِ اسلامی سے معاملات طے پا گئے ہیں جبکہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی جماعت قومی وطن پارٹی نے بھی اس اتحاد کی اصولی حمایت کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ضلع صوابی کی سطح پر قائم عوامی جمہوری اتحاد کے تین اراکین نے بھیق تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

صوبے میں گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں کوئی بھی جماعت حکومت سازی کے لیے واضح اکثریت حاصل نہیں کر پائی تھی تاہم پاکستان تحریک انصاف 35 نشستوں کے ساتھ اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔

بدھ کی شام لاہور میں عمران خان کی عیادت کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے جماعتِ اسلامی کے امیر منور حسن نے کہا کہ تحریکِ انصاف کا مینڈیٹ بہت واضح ہے اور اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں جماعتِ اسلامی کو خزانہ، تعلیم اور زکوۃ و عشر کی وزارتیں ملیں گی جبکہ قومی وطن پارٹی اور ضلع صوابی کی سطح پر قائم عوامی جمہوری اتحاد کو بھی 3 وزاتیں دی جائیں گی۔

اس سے قبل جماعت اسلامی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات اسرار اللہ ایڈوکیٹ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ منگل کی رات جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کا اجلاس رات گئے تک جاری رہا جس میں فیصلہ ہوا ہے کہ وہ دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر صوبے میں حکومت قائم کریں گے اور انہیں اکیاون اراکین کے حمایت حاصل ہو گئی ہے۔

اسرار اللہ خان نے کہا کہ اجلاس میں پی ٹی آئی کی جانب سے پرویز خٹک اور اعظم سواتی جبکہ جماعت کی جانب سے پروفیسر ابراہیم اور سراج الحق شریک ہوئے۔

ان کے مطابق اجلاس میں ہونے والے فیصلے کے مطابق جماعت اسلامی کو تین وزارتیں دی جائیں گی جبکہ وزیراعلیٰ تحریک انصاف کا ہوگا۔ انھوں نے کہا ان کی جماعت کو اس سے کوئی سرو کار نہیں ہے کہ تحریک انصاف وزارت اعلیٰ کے لیے اپنے کس امیدوار کو نامزد کرتی ہے۔

Image caption جمعیت علمائے اسلام کے کیمپ میں منگل کو پی ٹی آئی کے بغیر حکومت سازی کے اعلان کے بعد اب خاموشی پائی جاتی ہے

حکومت کے لیے اتحاد کے باوجود تحریکِ انصاف تاحال صوبے میں اپنے پارلیمانی لیڈر کے نام کا فیصلہ نہیں کر سکی ہے اور پارٹی کے ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں اہم صوبائی رہنما بدھ کو لاہور میں عمران خان سے ملاقات کر رہے ہیں جس میں جماعت کے پارلیمانی لیڈر کا فیصلہ ہوگا۔

صوبے کی وزارتِ اعلیٰ کے لیے جماعت کے مرکزی جنرل سیکرٹری پرویز خٹک اور صوبائی صدر اسد قیصر کے نام سامنے آ رہے ہیں اور دونوں رہنما اپنے طور پر یہ عہدہ حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔

تحریک انصاف کے ان دونوں رہنماؤں نے صوبے میں حکومت سازی کے لیے آفتاب احمد خان شیر پاؤ سے بھی رابطے کیے ہیں اور اطلاعات کے مطابق ان کی جماعت نے تحریک انصاف کی حمایت کا اصولی فیصلہ تو کیا ہے لیکن اب تک اس کا باقاعدہ اعلان نہیں ہوا ہے۔

ادھر صوبے میں دوسری سب سے بڑی جماعت جمعیت علمائے اسلام کے کیمپ میں منگل کو پی ٹی آئی کے بغیر حکومت سازی کے اعلان کے بعد اب خاموشی پائی جاتی ہے۔

منگل کو خیبرپختونخوا میں جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا اکرم خان درانی نے کہا ہے کہ وہ دیگر تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر ایک مضبوط حکومت قائم کریں گے جس میں تحریک انصاف شامل نہیں ہوگی۔

تاہم ان کے اس منصوبے کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب صوبے میں تیسری بڑی جماعت مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نواز شریف نے لاہور کے شوکت خانم ہسپتال میں عمران خان کی عیادت کے بعد کہا تھا کہ وہ خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں اور وہاں تحریک انصاف کو حکومت قائم کرنی چاہیے۔

اسی بارے میں