قومی اسمبلی کے مزید 5 حلقوں میں دوبارہ پولنگ کا فیصلہ

Image caption اس حلقے میں متحدہ قومی موومنٹ کی امیدوار خوش بخت شجاعت اور تحریک انصاف کے امیدور ڈاکٹر عارف علوی کے درمیان مقابلہ تھا

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے مزید پانچ، سندھ اسمبلی کے پانچ اور خیبر پختونخوا کی اسمبلی کے دو حلقوں کے کچھ پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا ہے۔

اس کے علاوہ پنجاب اسمبلی کے پی پی 240 اور قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 171 اور بلوچستان کے علاقے خضدار کے حلقے این اے 269 کا نتیجہ روک لیا گیا ہے۔

جن حلقوں میں دوبارہ پولنگ کا حکم دیا گیا ہے ان وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقے سے قومی اسمبلی کا حلقے این اے 41 اور این اے 46 اور سندھ سے حلقہ این اے 210، این اے 229، این اے 230 شامل ہیں۔

اس کے علاوہ سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 17، پی ایس 62، پی ایس 63، پی ایس 112 اور پی ایس 113 اور خیبر پختونخوا کی اسمبلی کے دو حلقے پی کے 71 اور پی کے 72 کے کچھ پولنگ سٹیشنوں میں دوبارہ پولنگ ہوگی

پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن کےمطابق الیکشن کمیشن نے این اے 41 کے چار اور این اے 46 کے اکیس پولنگ سٹیشن پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا ہے جبکہ این اے 269 کے دو پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ ہوگی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق اس کے علاوہ خیبر پختونخوا میں حلقہ 71 اور 72 میں بھی چار، چار پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ ووٹ ڈالے جائیں گے۔

سندھ اسمبلی سے قومی اور صوبائی اسمبلی کے جن حلقوں پر پولنگ ہو گی ان کے پولنگ سٹیشنوں کی تعداد نہیں بتائی گئی ہے۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ دوبارہ پولنگ کروانے کا فیصلہ شکایات کا بغور جائزہ لینے کے بعد کیا گیا اور این اے 46 کے علاوہ سب حلقوں میں 21 مئی کو پولنگ ہوگی جبکہ این اے 46 میں 25 مئی کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے الیکشن کمیشن نے کراچی کے حلقہ این اے 250 کے پینتالیس پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ انتخابات کا حکم دیا تھا اور یہاں اتوار 19 مئی کو پولنگ ہوگی۔

اس مرتبہ این اے 250 کے مذکورہ پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ انتخابات فوج کی نگرانی میں ہوں گے۔

اس حلقے میں متحدہ قومی موومنٹ کی امیدوار خوش بخت شجاعت اور تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی کے درمیان مقابلہ تھا اور تحریک انصاف نے الزام عائد کیا تھا کہ حلقے کے 45 پولنگ سٹیشنوں پر مبینہ طور پر دھاندلی کی گئی، انتخابی عمل تاخیر سے شروع ہوا یا عملہ غیر تربیت یافتہ تھا۔

ادھر پاکستان میں حقوقِ انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ایک بیان میں تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عام انتخابات کے نتیجے میں سامنے آنے والی عوامی رائے کا احترام کریں اور ایسی کوئی حرکت نہ کریں جس سے جمہوری نظام کے پٹڑی سے اترنے کا خدشہ ہو۔

ایچ آر سی پی نے یہ بھی کہا ہے کہ تنظیم کے انتخابی جائزہ کاروں کو الیکشن میں کسی منظم دھاندلی کو کوئی ثبوت نہیں ملا۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اگرچہ جائزہ کاروں نے بعض مقامات پر انتخابی بددیانتی کو محسوس کیا اور بلوچستان میں مناسب سکیورٹی نہ ہونے کی وجہ سے انتخابی عمل متاثر ہوا لیکن مجموعی طور پر ملک بھر میں کسی مقام پر بھی باضابطہ یا منظم دھاندلی کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

اسی بارے میں