’مسلم لیگ ن کو حکومت سازی کے لیے سادہ اکثریت مل گئی‘

پاکستان میں گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں کامیاب ہونے والے آزاد امیدواروں کی جانب سے سیاسی جماعتوں میں شمولیت کا سلسلہ جاری ہے اور سیاسی روایات کے عین مطابق بیشتر امیدواروں نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت مسلم لیگ ن کا ہی رخ کیا ہے۔

الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ نواز نے اب تک کے اعلان کردہ نتائج کے مطابق 124 نشستیں حاصل کی ہیں اور آزاد امیدواروں کی جماعت میں شمولیت کے بعد اسے حکومت سازی کے لیے درکار سادہ اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔

حکومت بنانے کے لیے کسی بھی جماعت کو 272 عام نشستوں میں سے 137 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔

پاکستان کا ایوانِ زیریں 342 مجموعی نشستوں پر مشتمل ہے جن میں سے 272 پر عام انتخابات ہوتے ہیں جبکہ 70 مخصوص نشستیں جیتنے والی جماعتوں میں ان کی فتح کے تناسب سے تقسیم کی جاتی ہیں۔

2013 کے عام انتخابات میں اٹھائیس امیدوار آزاد حیثیت میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں اور انہیں کامیابی کے سرکاری نوٹیفیکیشن کے تین دن کے اندر کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ہوگی۔

تاہم مسلم لیگ نواز کی ریکارڈ کامیابی کے بعد آزاد امیدوار نوٹیفیکشن کا بھی انتظار نہیں کر رہے اور مسلم لیگ نون کے مطابق اب تک 13 آزاد امیدوار جماعت میں شامل ہوچکے ہیں۔

مسلم لیگ نون کے رہنما طارق عظیم خان نے بی بی سی اردو کے عبادالحق کو بتایا کہ بڑی تعداد میں آزاد امیدواروں نے بدھ کو بھی مسلم لیگ نون میں شامل ہونے کے لیے جماعت کے سربراہ قائد نواز شریف سے ملاقاتیں کی ہیں۔

پاکستان ٹیلی ویژن کے مطابق مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے ملاقاتیں کرنے والوں میں پیپلز پارٹی اور مشرف دور کے سابق وفاقی وزیر رضا حیات ہراج، مشرف دور کے ہی وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ مخدوم خسرو بختیار، ٹھٹھہ کی اہم سیاسی شخصیت ایاز علی شاہ شیرازی جیسے کئی بڑے نام بھی شامل ہیں۔

ادھر الیکشن کمیشن نے کامیاب ہونے والے امیدواروں کو انتخابی اخراجات کے گوشوارے اس ماہ کی اکیس تاریخ تک ریٹرننگ افسروں کے پاس جمع کرانے کو کہا ہے۔ کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ گوشوارے ریٹرننگ افسروں کے پاس موجود مخصوص فارم پر جمع کرائے جائیں اور ان میں کامیاب اُمیدوار کے تمام اخراجات کی تفصیل ، بلوں اور رسیدوں کے ساتھ ہونی چاہیے۔

ان گوشواروں کی تصدیق کے بعد ہی الیکشن کمیشن امیدواروں کی کامیابی کا سرکاری نوٹیفیکیشن جاری کرے گا۔

پنجاب

مرکز کی طرح پنجاب میں بھی کامیاب آزاد امیدواروں کی منزل مسلم لیگ ن ہی دکھائی دے رہی ہے۔

مسلم لیگ نواز کو پنجاب اسمبلی میں بھاری اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ عام انتخابات میں جماعت نے دو سو چودہ نشستیں جیتی ہیں جبکہ آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے 40 صوبائی امیدواروں میں سے 34 مسلم لیگ ن کا حصہ بن گئے ہیں۔

پنجاب اسمبلی میں عام نشستوں پر منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی کی کل تعداد 297 ہے اور مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ حسان نے بی بی سی کو بتایا کہ پنجاب اسمبلی میں آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد مسلم لیگ نون کے ارکان اسمبلی کی تعداد دو اڑتالیس ہوگئی ہے۔

صوبے میں مسلم لیگ ن اگرچہ ان آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بغیر بھی حکومت سازی کی پوزیشن میں تھی تاہم اب اسمبلی میں جماعت کی پوزیشن انتہائی مضبوط ہو چکی ہے۔

ان انتخابات کے بعد پنجاب میں ایک کمزور اپوزیشن سامنے آئے گی جس کی قیادت تحریکِ انصاف کے پاس ہوگی جو 18 نشستوں کے ساتھ صوبائی ایوان میں دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے۔

صوبے کی وزارتِ اعلیٰ کے لیے ایک مرتبہ پھر میاں شہباز شریف کا نام گردش کر رہا ہے اور اگر وہ یہ منصب سنبھالتے ہیں تو یہ پہلا موقع ہوگا کہ جب کوئی سیاسی شخصیت تیسری مرتبہ وزارت اعلیْ کے منصب پر فائر ہو گی۔

اسی بارے میں