عمران اہم مسائل پر نواز سے تعاون کو تیار

Image caption خیبر پختونخوا میں نئے پاکستان کا وہ ماڈل بنانے کا موقع ملا ہے جو باقی ملک میں نافذ ہو سکے:عمران خان

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف سے سیاسی اختلافات کے باوجود دہشتگردی سمیت ملک کے اہم مسائل کے حل کے لیے ان سے مل کر کام کرنے پر تیار ہیں۔

لاہور میں ایک جلسے کے دوران زخمی ہونے کی وجہ سے ہسپتال میں زیرِعلاج عمران خان نے بدھ کو اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ملک میں انتخابات ختم ہو چکے ہیں اور اب قوم اپنے مسائل کا حل چاہتی ہے۔

خیال رہے کہ منگل کو نواز شریف نے شوکت خانم ہسپتال میں عمران خان کی عیادت کی تھی اور ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

عمران خان نے کہا کہ میاں نواز شریف سے سیاسی اختلافات ہیں لیکن انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اہم ملکی مسائل مل کر حل کریں گے۔ ’ہم سب چاہتے ہیں کہ ان مسائل پر اکھٹے مل بیٹھیں، حل سوچیں اور آگے بڑھیں نہ کہ ماضی میں رہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ دہشتگردی ہے اور اس وقت تک آگے نہیں بڑھا جا سکتا جب تک یہ مسلط کردہ جنگ ختم نہیں ہوتی۔

’جو جنگ ہم نے اپنے سر پر لی ہوئی ہے، جب تک یہ ختم نہیں ہوگی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔‘ انہوں نے کہا کہ ’اس مسئلے پر ہم چاہتے ہیں کہ وفاق، خیبرپختونخوا حکومت اور فوج بھی ایک ساتھ بیٹھے۔میں نے اس سلسلے میں جنرل کیانی سے بھی بات کی ہے۔‘

خیبر پختونخوا میں حکومت سازی کے معاملے پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کو صوبے میں نئے پاکستان کا وہ ماڈل بنانے کا موقع ملا ہے جو باقی ملک میں نافذ ہو سکے۔

خیال رہے کہ عمران خان کی تحریکِ انصاف نے خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 35 نشستیں حاصل کی ہیں اور اب اس نے جماعتِ اسلامی، قومی وطن پارٹی اور صوابی کے مقامی اتحاد کی مدد سے حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہنا کہ وہ وفاق اور پنجاب میں بھرپور طریقے سے اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے اور عوامی خواہشات کے مطابق حکومت کے صحیح اقدامات کی حمایت اور غلط کی نشاندہی کرتے رہیں گے۔

دھاندلی کے خدشات

عمران خان کا کہنا تھا کہ انہیں الیکشن کمیشن سے بہت سی توقعات تھیں لیکن کمیشن ان توقعات پر پورا نہیں اترا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کو قومی اسمبلی کے 25 حلقوں کے نتائج پر خدشات ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن ان میں سے چار حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانوں کی مدد سے ووٹوں کی تصدیق اور دوبارہ گنتی کروائے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 1970 کے بعد ملک کی تاریخ میں پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں عوام نے ووٹ ڈالے اور جو لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ کر نظام کو برا بھلا کہتے تھے انہوں نے پہلی بار قطاروں میں لگ کر اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تاہم اب یہ ’لوگ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے جسے ووٹ دیا وہ شکلیں سامنے نہیں آئیں۔ اب اس میں حقیقت کتنی ہے، کتنی نہیں یہ جاننا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔‘

عمران خان نے کہا کہ سڑکوں پر احتجاج کرنے والے لوگوں کو مطمئن کرنا ضروری ہے تاکہ آئندہ بھی انتخابی عمل قابلِ قبول انداز میں چلے اور یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو مایوس نہ ہونے دے کیونکہ اگر یہ نوجوان مایوس ہوگئے تو پھر یہ انتخابی عمل میں واپس نہیں آئیں گے۔

اسی بارے میں