کرم:آپریشن کے باعث لوگوں کی نقل مکانی

Image caption علاقے میں کچھ لوگ ہلاک بھی ہوئے ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے علاقے پاڑہ چکمنی میں شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے باعث علاقے سے بڑی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

متاثرہ افراد پاڑہ چنار اور دیگر علاقوں میں پہنچ رہے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے غیر اعلانیہ کارروائی شروع کی ہے جس سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

کرم ریفارمز کمیٹی کے جنرل سیکرٹری عطاء اللہ نے پاڑہ چنار سے ٹیلیفون پر بی بی سی کو بتایا کہ پاڑہ چنار تک راستے میں بے سروسامانی کی حالت میں لوگ سفر کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاڑہ چمکنی کا یہ علاقہ پہاڑی سلسلے پر واقعہ ہے جس کی سرحدیں خیبر ایجنسی، اورکزئی ایجنسی اور افغانستان کے ساتھ ملتی ہیں۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ علاقے میں کچھ لوگ ہلاک بھی ہوئے ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

مقامی لوگوں کے مطابق علاقے میں غربت اور سہولیات کے فقدان کی وجہ سے لوگوں کو نقل مکانی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور راستے میں بیماریوں سے لوگ بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومتی کی جانب سے متاثرہ افراد کو کسی قسم کی کوئی امداد فراہم نہیں کی جا رہی۔ بیشتر لوگ محفوظ علاقوں میں اپنے رشتہ داروں یا جان پہچان والے افراد کے پاس پناہ کے لیے پہنچے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ کرم ایجنسی کے علاقے میں یہ آپریشن پاڑہ چنار میں ایک انتخابی مہم کے دوران دھماکے کے کچھ دن بعد شروع کر دیا گیا تھا۔ اس کارروائی میں سکیورٹی اہلکاروں کا کچھ جانی نقصان بھی ہوا تھا تاہم اب پاڑہ چکمنی کے بعض علاقوں سے شدت پسندوں کو پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق علاقے سے نقل کانی کا حکم کسی کو نہیں دیا گیا لیکن لوگ خود خوف کی وجہ سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔

یاد رہے انتخابات سے چند روز پہلے کرم ایجنسی کے علاقے پاڑہ چنار کے قریب جمعیت علماء اسلام کے امیدوار منیر اورکزئی کی انتخابی مہم کے دوران دھماکہ ہوا تھا جس میں پچیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

ان واقعات کے بعد کرم ایجنسی میں انتخابات ملتوی کر دیے گئے تھے اور علاقے میں فوجی کارروائی شروع کر دی گئی تھی۔ اب تک شدت پسندوں کے جانی نقصان یا کسی قسم کی کوئی گرفتاری کی اطلاع نہیں ہے۔

اسی بارے میں