لندن پولیس نے شواہد اکھٹے کرنے شروع کر دیے

الطاف حسین
Image caption الطاف حسین کے بیان کا ترجمہ کروایا جا رہا ہے: برطانوی پولیس ترجمان

اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن کے بیان کے بعد لندن میں میٹرپولیٹن پولیس نے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کی متنازعہ تقریر کے بارے میں شواہد اکھٹے کرنے شروع کر دیے ہیں۔

لندن میں میٹروپولیٹن پولیس کے ترجمان جیمز ہیوم نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ الطاف حسین کی تقریر جس پر انھیں برطانیہ اور پاکستان سے ان گنت شکایات موصول ہوئی تھیں اُس تقریر کا ترجمہ کرایا جا رہا ہے۔

میٹروپولیٹن پولیس کے ترجمان نے کہا کہ انھیں الطاف حسین کی تقریر کے بارے میں سینکڑوں کی تعداد میں شکایات موصول ہوئی تھیں جن پر اب کارروائی کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پولیس ترجمان سے جب یہ پوچھا گیا کہ اس ضمن میں کس قانون کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے تو انھوں نے کہا کہ ایک مرتبہ تقریر کا ترجمہ حاصل کر لیا جائے اور اس کا جائزہ لے لیا جائے تو پھر اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ کس قانون کا اطلاق ہوتا ہے۔

اس سوال پر کہ کیا پولیس کسی سے پوچھ گچھ بھی کر سکتی ہے تو انھوں نے کہا کہ اس بات کا فیصلہ بھی ترجمے کی روشنی میں ہی کیا جائے گا۔

لندن پولیس کو الطاف حسین کی تقریر کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں شکایات موصول ہونا شروع ہو گئی تھیں۔

اس سے قبل میں پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنرایڈم تھامسن نے کہا تھا کہ وہ انتخابات کے بعد الطاف حسین کے بیان سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔

برطانوی ہائی کمشنر نے الطاف حسین کی حوالگی سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ’اس کے لیے ملزمان کی حوالگی کے تمام مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، اور پاکستان اور برطانیہ کے مابین کوئی ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ نہ ہونے سے حوالگی ناممکن نہیں ہے لیکن بہت مشکل ہے۔

برطانوی ہائی کمشنر ایڈم تھامسن نے کہا کہ ان کے علم کے مطابق الطاف حسین نے کہا ہے کہ انہوں نے اس قسم کا بیان نہیں دیا ہے اور انہیں کسی اور معنی میں لیا گیا ہے۔

برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ تشدد کو بھڑکانے اور نفرت پھیلانے کے حوالے سے برطانیہ کے قوانین انتہائی سخت ہیں۔

برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ برطانیہ میں پولیس حکومت سے پوری طرح سے آزاد ہے اور یہ پولیس کا کام ہے کہ وہ تشدد کو بھڑکانے یا نفرت کو ہوا دینے کے الزامات کی تحقیقات کریں اور اپنی رائے قائم کریں کہ آیا وہ کامیابی سے عدالتی پیروی کر سکتے ہیں کہ نہیں۔

یاد رہے کہ انتخابات کے نتائج منظرعام پرآنے کے بعد ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ کراچی کے مینڈیٹ کوتسلیم نہ کیا گیا تووہ ہرکارکن کو ردعمل سے روک نہیں سکیں گے اوراگر کسی کو کراچی کا مینڈیٹ پسند نہیں تو وہ کراچی کو پاکستان سے الگ کر دے۔

اس بیان کے منظرعام پرآنے کے بعد پاکستان اور دنیا بھرسے لندن پولیس کو فون کالز ملنا شروع ہوگئی تھیں جس میں ان سے الطاف حسین کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں