سندھ: مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف ہڑتال

پاکستان کے صوبہ سندھ میں حالیہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف مسلم لیگ فنکشنل کی اپیل پر کئی شہروں میں کاروبار بند رہا اور تشدد کے ایک واقعے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔

سندھ سے تعلق رکھنے والی دس جماعتوں پر مشتمل اتحاد نے بھی جمعرات کو اس ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

لاڑکانہ، عمرکوٹ، سانگھڑ، خیرپور، میرپورخاص، مٹھی، شکار پور اور شھداد کوٹ سمیت کئی شہروں میں کاروبار بند رہا اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

خیرپور کے علاقے کنب میں دو گروہوں میں تصادم ہوگیا اور فائرنگ کے نتیجے میں مسلم لیگ فنکشنل کے تین کارکن ہلاک ہوگئے۔

الیکشن 2013 کے انتخابی نتائج

سندھ کے دارالحکومت کراچی میں اس ہڑتال کا اثر کہیں نظر نہیں آیا۔ مسلم لیگ فنکنشل کے چند درجن کارکنوں نے تین تلوار اور بعد میں پریس کلب کے باہر جمع ہو کر احتجاج کیا، جس میں اتحادی جماعتوں کی شرکت نظر نہیں آئی تاہم مسلم لیگ فنکشنل کی قیادت کا کہنا ہے کہ اتحاد ابھی تک قائم ہے۔

مسلم لیگ فنکشنل کے مرکزی سیکرٹری جنرل امتیاز شیخ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابات کے دوران دھاندلی کی ہے، جس کے لیے بیورو کریسی کا استعمال کیا گیا۔

ان انتخابات میں مسلم لیگ فنکشنل نے قومی اسمبلی کی چار اور صوبائی اسمبلی کی سات نشتسوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ قوم پرست کوئی نشست حاصل نہیں کر سکے۔

امتیاز شیخ کا کہنا تھا کہ انتخابات سے پہلے جس طرح سے افسران کے تبادلے کیے گئے، اس سے دھاندلی کے خدشات تھے جو بعد میں درست ثابت ہوئے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر اور سابق صوبائی وزیر شازیہ مری نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جمہوریت دشمن قوتوں نے بیورو کریسی اور اسٹیبلشمنٹ سے مل کر دھاندلی کی ہے اور اس سے پہلے وہ انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جعلی ووٹوں کا اخراج کر کے نتائج کا اعلان کیا جائے۔

دریں اثناء جماعت اسلامی کی جانب سے کراچی میں مبینہ دھاندلیوں کے خلاف جمعرات کی شب شاہراہ فیصل پر دھرنا دیا گیا۔

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ شہر میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں، اسی مطالبہ کے تحت تحریک انصاف کی جانب سے جوہر موڑ پر دھرنا دیا گیا۔

اسی بارے میں