بلوچستان میں حکومت سازی کے لیے کوششیں تیز

پاکستان میں 11 مئی کے عام انتخابات میں بلوچستان سے کسی پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی جس کے باعث وہاں کامیابی حاصل کرنے والی سیاسی جماعتوں کو حکومت سازی کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

11 مئی کو صوبہ بلوچستان کی 51 عام نشستوں میں سے 50 نشستوں پر انتخابات ہوئے۔

انتخابی نتائج کے مطابق پشتون قوم پرست جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی دس نشستیں حاصل کر کے سر فہرست رہی جبکہ مسلم لیگ نواز نو نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔

الیکشن 2013 کے انتخابی نتائج

بلوچستان میں نیشنل پارٹی سات اور جمعیت علمائے اسلام (ف) چھ نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی۔ اسی طرح مسلم لیگ (ق) کو پانچ اور بلوچستان نیشنل پارٹی(مینگل) کو دو نشستیں ملیں۔

عوامی نیشنل پارٹی، مجلس وحدت المسلمین اور جاموٹ قومی موومنٹ کا ایک ایک امیدوار کامیاب ہوا جبکہ سات آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔

مخصوص نشستوں کو ملا کر بلوچستان اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد 65 ہے۔

بلوچستان میں سادہ اکثریت سے حکومت بنانے کے لیے33 اراکین کی ضرورت ہوتی ہے۔

اکثریتی امیدواروں کی حمایت اور حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ نواز، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی نے کوششیں تیز کردی ہیں۔

ماضی میں بلوچستان میں زیادہ تر مخلوط حکومتیں بنتی رہی ہیں اور اس مرتبہ مسلم لیگ نواز کی صوبائی قیادت کی کوشش ہے کہ مخلوط حکومت پارٹی کی ہی قیادت میں بنے۔

بلوچستان سے آزاد حیثیت سے کامیاب ہونے والے دو اراکین سرفراز بگٹی اور سردار محمد صالح بھوتانی کی مسلم لیگ نواز میں شمولیت سے پارٹی کے اراکین کی تعداد 11 ہوگئی ہے جبکہ پارٹی کو خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں میں سے کم از کم پانچ نشستیں ملیں گی۔

مسلم لیگ نواز کو اس وقت تک حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ (ق) کے پانچ اراکین کے علاوہ مجلس وحدت المسلمین کے واحد رکن کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔

مسلم لیگ نواز کے صوبائی صدر اور چیف آف جھالاوان نواب ثناءاللہ زہری پر اعتماد ہیں کہ ان کی جماعت آسانی کے ساتھ بلوچستان میں حکومت قائم کر لے گی۔

نواب ثناءاللہ زہری نے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ پارٹی حکومت سازی کے قریب پہنچ گئی ہے اور اسے 22 اراکین کی حمایت حاصل ہو جائے گی۔

مسلم لیگ نواز کی جانب سے حکومت سازی کے لیے دیگر جماعتوں سے بات چیت کے لیے کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔

بلوچستان میں حکومت سازی کے لیے لائحۂ عمل طے کرنے کے لیے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کے علاوہ دیگر جماعتوں کے اجلاس کوئٹہ میں جاری ہیں۔

کوئٹہ میں حکومت سازی کے لیے نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنماوں کے درمیان بھی بات چیت ہوئی ہے۔

براہ راست انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے باعث پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اکثریتی پارٹی ہونے کی بنیاد پر وزارت اعلیٰ کا عہدہ انھیں دیا جائے۔

پارٹی کے صوبائی صدر عثمان کاکڑ نے بی بی سی کو بتایا ’جس طرح اصولوں کی بنیاد پر مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نواز شریف نے خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف، پنجاب میں مسلم لیگ نواز اور سندھ میں پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کے حق کو تسلیم کیا ہے اسی طرح بلوچستان میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی واحد اکثریتی پارٹی بن گئی ہے اس لیے وزارت اعلیٰ کا عہدہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کو دیا جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ایک منظم جماعت ہے اور وہ بلوچستان کے مسائل کو حل کر سکتی ہے۔

جہاں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی جانب سے وزارت اعلیٰ کے عہدے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے وہاں بلوچ قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی بھی حکومت سازی کے لیے کوشاں ہے۔

مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نواز شریف بلوچستان کی مخصوص صورت حال کے پیش نظر یہاں کی بلوچ اور پشتون قوم پرست جماعتوں کو زیادہ سے زیادہ اکاموڈیٹ کرنا چاہتے ہیں۔

بلوچستان کے سینیئر صحافی سلیم شاہد کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف کے قوم پرست جماعتوں کے ساتھ اچھے مراسم ہیں اور اس بات کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ وہ وزارت اعلیٰ کا عہدہ کسی قوم پرست جماعت کو دے دیں۔

تاہم بعض دیگر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نواز کی صوبائی قیادت اس بات کے لیے تیار نہیں کہ وزارت اعلیٰ کا عہدہ کسی دوسری جماعت کو دیا جائے۔

ان مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرمسلم لیگ نواز کی مرکزی قیادت وزارت اعلیٰ کا عہدہ کسی اور جماعت کو دینے کے لیے تیار نہ ہوئی تو وہ بلوچستان میں دوسری جماعتوں کے مقابلے میں آسانی کے ساتھ حکومت قائم کر سکتی ہے۔

پارٹی کے ذرائع کے مطابق پارٹی کی جانب سے وزارت اعلیٰ کے عہدے کے لیے متوقع امیدواروں میں نواب ثناءاللہ زہری، نوابزادہ چنگیز مری اور میر جان محمد جمالی شامل ہیں۔

ان ذرائع کے مطابق پارٹی کے زیادہ تر رہنما اور نو منتخب اراکین اس بات کے حق میں ہیں کہ وزارت اعلیٰ کا عہدہ پارٹی کے صوبائی صدر نواب ثناءاللہ زہری کو دیا جائے۔

اسی بارے میں