انتخابات: بازارِ حصص میں غیر معمولی تیزی

پاکستان میں گیارہ مئی کے انتخابات کے بعد سے اب تک کراچی سٹاک مارکیٹ میں تقریباً چھ سو پوائنٹس میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

جمعرات کوحصص بازار میں منافع کا رجحان ہونے کی وجہ سے ڈیڑھ سو پوائنٹس کی کمی بھی ہوئی۔ لیکن اس کے باوجود ملکی تاریخ میں پہلی بار سٹاک مارکیٹ بیس ہزار کی حد عبور کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

عارف حبیب گروپ کے چیئرمین عارف حبیب اس مثبت رجحان کی تین وجوہات بتاتے ہیں۔

ایک تو یہ کہ اتنے مشکل حالات میں انتخابات ہوگئے اور پھر ایک جماعت کو اکثریت بھی مل گئی جبکہ انتخابات سے پہلے تمام تجزیہ کار یہ کہہ رہے تھے کہ مخلوط حکومت ہی وجود میں آئے گی۔

سرمایہ کار ی کے لیے ہمیشہ ایک جماعت کی حکومت بہتر سمجھی جاتی ہے کیونکہ مخلوط حکومت میں اصلاحات کا عمل بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

دوسرا یہ کہ مسلم لیگ نون کا نج کاری کے بارے میں ٹریک ریکارڈ بہت اچھا ہے اور اس وجہ سے بھی مارکیٹ پر اچھا اثر پڑا ہے۔

تیسرا یہ کہ خاص کر مسلم لیگ نون کے عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب سےجو تعلقات ہیں اسے سرمایہ کار اچھی نظر سےدیکھتے ہیں۔

تاہم عارف حبیب نے نامہ نگار حسن کاظمی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں اس رجحان کے جاری رہنے یا نہ رہنے کا انحصار جون میں پیش کیے جانے والے بجٹ اور مسلم لیگ ن کی حکومت کی معاشی پالیسی کے اعلان پر ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت ایسا لگتا ہے کہ بہتری ہی آئے گی تاہم حکومت کے پاس زیادہ گنجائش نہیں ہے کیونکہ اس کا پہلا ہدف بجٹ میں دی جانے والی رعایات کو کم کرنا اور ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کرنا ہوگا جو مشکل عمل ہے اور جس سے مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس بارے میں ظفر موتی کیپیٹل سکیوریٹیز کے چیف ایگزیکٹو ظفر موتی کہتے ہیں کہ اگر حکومت چاہے تو مارکیٹ 23 ہزار پر بھی جاسکتی ہے کیونکہ حکومت کے پاس پی ایس او، پی ٹی سی، پی پی ایل سمیت کئی ایسے ادارے ہیں جن کے حصص اگر مارکیٹ میں رکھے جائیں تو سرمایہ کار ان میں گہری دلچسپی لیں گے۔

اسی بارے میں