امریکی نژاد پاکستانی بازیاب، 3 اغواکار ہلاک

Image caption پولیس کے مطابق یہ ایک مجرمانہ کارروائی تھی

کراچی میں پولیس نے چودہ مئی کو اغوا کیے جانے والے امریکی نژاد پاکستانی نوجوان امیر حمزہ کو بازیاب کروا لیا ہے۔

اس کارروائی کے دوران تین مبینہ اغوا کار ہلاک ہوئے ہیں جن کا تعلق صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقے دیر سے بتایا جاتا ہے۔

کراچی پولیس کے انٹی وائلنٹ کرائم سیل نے جمعرات کی شب سی پی ایل سی کی نشاندہی پر ڈیفنس فیز ٹو کے علاقے میں کارروائی کی۔

ایس پی نیاز کھوسو کے مطابق ملزمان نے پولیس پر فائرنگ کی اور جوابی فائرنگ میں تین ملزمان ہلاک ہوگئے۔

امیر حمزہ ایک ماہ قبل اپنے خاندان کے ساتھ کراچی آئے تھے۔ 14 مئی کو وہ اپنے دوستوں کے ساتھ بلاول ہاؤس کے قریب ہوٹل پر چائے پینے کے بعد واپس جا رہے تھے کہ انہیں اسلحے کے زور پر اغوا کرلیا گیا۔

ایس پی نیاز کھوسو کے مطابق ملزمان نے نوجوان کی بازیابی کے لیے دو کروڑ روپے تاوان طلب کیا تھا اور سٹیزن پولیس لیاژان کمیٹی نے موبائل ٹیلیفون سے رابطے پر ان کی جگہ کا سراغ لگایا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے مغوی کو جس مکان میں رکھا ہوا تھا اس سے ایک خاتون اور دو مردوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

ایس پی نیاز کھوسو کے مطابق یہ ایک مجرمانہ کارروائی تھی اور اس میں شدت پسندوں کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔

سی پی ایل سی کے سربراہ احمد چنائے کا کہنا ہے کہ اس کیس میں امریکی سفارتخانے کی بڑی دلچسپی تھی اور وہ مسلسل رابطے میں رہے۔

بازیابی کے بعد امیر حمزہ نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں ہاتھ پاؤں باندھ کر رکھا گیا تھا اور جب وہ کوئی سوال کرتے تو انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔