ملاکنڈ ڈویژن میں ذہنی مریضوں کی تعداد میں اضافہ

Image caption ڈاکٹروں کے مطابق نفسیاتی امراض میں اضافے کی بڑی وجہ خونریزی کے واقعات، سر کٹی لاشیں یا دیگر خوفناک مناظر دیکھنا ہیں

ملاکنڈ ڈویژن سے بے گھر ہونے والے افراد کی واپسی کو اگر چہ تین سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے لیکن اس علاقے کی آبادی میں اب نفسیاتی امرض میں اضافہ ہو گیا ہے۔

سیدو شریف میں واقع الشفا سنٹر کے سائکاٹرسٹ ڈاکٹر میاں نظام علی نے بی بی سی کو بتایا کہ کشیدہ حالات سے پہلے ان کے پاس روزانہ سو سے کم نفسیاتی مریض آتے تھے مگر آئی ڈی پیز کی واپسی سے لے کر اب تک ان مریضوں کی تعداد میں 30 سے 40 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ان کی تعداد 140 سے تجاوز کر گئی ہے۔

نفسیاتی امراض میں مبتلا مریضوں کی اکثریت ڈپریشن، انتشارِ ذہنی اور پی ٹی ایس ڈی یعنی پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر کے شکار ہیں۔ اگر علاقے میں فوج کی نقل و حرکت معمول سے زیادہ ہو جاتی ہے یا قدرتی آفات کا خدشہ ہوتا ہے تو یہ لوگ وقت سے پہلے خوف زدہ ہو جاتے ہیں اور ان کے ذہن میں تباہی و بربادی کے وہی پرانے خیالات جنم لیتے ہیں جس سے وہ اضطراب کے مرض کا شکار ہوجاتے ہیں جس سے ان کے رویے میں تبدیلی آ جاتی ہے اور مریض چڑچڑا ہو جاتا ہے۔

مریضوں کی خاصی تعداد پی ٹی ایس ڈی کا بھی کے شکار ہے۔ اس مرض کی علامات ناخوشگوار واقعات کے کچھ عرصے بعد رونما ہوتی ہیں جس میں وہ واقعات ذہن میں دہرائے جانا شروع ہو جاتے ہیں اور انسان سوچوں میں گم رہنے لگتا ہے اور اس جگہ جانے سے بھی گریز کرتا ہے جہاں پر واقعہ ہوا ہو۔

اس قسم کے امراض میں انسان کی شخصیت میں تبدیلی آ جاتی ہے نیند کا کم ہونا اس کی علامات میں شامل ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق نفسیاتی امراض میں اضافے کی بڑی وجہ خونریزی کے واقعات، سر کٹی لاشیں یا دیگر خوفناک مناظر دیکھنا ہیں۔

خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کی جانب سے جاری پر تشدد کارروائیاں، شورش، قتل و غارت نفسیاتی دباؤ میں اضافے کی بڑی وجوہات بتائی گئی ہیں۔

سوات کے علاقے شریف آباد کے رہائشی رحیم اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے جواں سال بیٹے انعام اللہ کی شادی کو صرف آٹھ ماہ ہوئے تھے۔ وہ پولیس میں بھرتی کے پہلے ہی روز مینگورہ پولیس سٹیشن پر ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہو گیا۔

رحیم اللہ کے مطابق اس صدمے نے ان کو ذہنی طور پر مفلوج کردیا ہے:

’اب میری یہ کیفیت ہے کہ میں اپنے بیٹے کی تصویر اور شناختی کارڈ اپنی جیب میں رکھتا ہوں، وہ ہر وقت میری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے، میری نیند ختم ہوگئی ہے اب میں ہر رات نیند کی گولیاں استعمال کرتا ہوں۔‘

طالبانائزیشن اور ملڑی آپریشن کے نتیجے میں ملاکنڈ ڈویژن میں بڑے پیمانے پر عمارتیں اور مکانات تباہ ہوئے۔ مالیاتی اثاثوں سے محرومی کے نتیجے میں بھی بیشتر لوگ ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں۔ تحصیل کبل کے علاقے کوزہ بانڈی کے رہائشی کشور نے بتایا کہ کشیدہ حالات اور دوران آپریشن ان کے کئی مکانات تباہ ہوئے انکے مطابق اس علاقے میں کئ غریبوں کے مکانات بھی تباہ ہوئے ہیں مالیاتی خسارے کے باعث یہ لوگ ذہنی انتشار کا شکار ہیں۔

طالبانائزیشن کی وجہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوئی کیونکہ سینکڑوں کی تعداد میں خواتین بیوہ ہو گئیں، جب کہ ہزاروں کی تعداد کو تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی۔ گھروں سے نکلنے پر پابندی بھی نفسیاتی مسائل کا سبب بنی۔

مٹہ کےعلاقے سے تعلق رکھنے والی خاتون رضوانہ نے بتایا کہ ان کے پانچ بچے ہیں۔ ان کا شوہر فوجی آپریشن کے دوران مارٹر گولہ لگنے سے ہلاک ہو گیا اور اب ان پانچ بچوں کی کفالت کا بوجھ ان کے کندھوں پر آ گیا ہے۔

بچوں کی تعلیم و تربیت اور دیگر اخراجات کی فکر کے باعث وہ ہر وقت بیمار رہتی ہے۔ رضوانہ کے مطابق اس نے اپنے تین بیٹوں کو یتیم بچوں کے سکول میں داخل کرا دیا ہے اور خود ایک پرائیویٹ ادارے میں پانچ ہزار ماہوار پر کام کرتی ہے۔ اس صدمے کی وجہ سے وہ سوچوں میں اتنی گم رہتی ہیں کہ جب بچوں کو سکول چھوڑنے جاتی ہے تو راستہ بھٹک کر بہت دور نکل جاتی ہے، جب کہ بار بار مرحوم شوہر کا خواب میں آنے سے ان کی نیند بھی کم ہو گئی ہے۔

سکولوں میں پڑھنے والے اکثر طلبہ و طالبات بھی نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔ ایک سروے کے مطابق کشیدہ حالات کے دوران سات ہزار کے قریب بچے یتیم اور بے سہارا ہوئے۔ دہشت گردی کے دوران یتیم ہونے والے بچوں کے لیے حکومت کے طرف سے کوئی سکول تو قائم نہیں کیا گیا تاہم صاحبِ استطاعت اور دردمند افراد نے قمبر کے علاقے میں ’پرورش‘ کے نام سے ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا ہے۔

اس سکول میں پڑھنے والے ایک طالب علم حمزہ نے بتایا کہ اس کا والد سکول میں ٹیچر تھے اور سکول جاتے ہوئے عسکریت پسندوں نے انھیں قتل کردیا۔ حمزہ کے مطابق اس سکول نے ان کو سہارا دیا ہے۔ تباہ شدہ سکولوں میں کھلے آسمان تلے پڑنے والے بچے ان سوچوں میں گم رہتے ہیں کہ آخر ان کا کیا قصور تھا کہ طالبان نے ان کے سکولوں کو تباہ کیا ہے۔