باجوڑ میں پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم پر حملہ

پولیو مہم
Image caption پاکستان میں پولیو قطرے پلانے والی ٹیم پر حملے کے بعد انہیں سکیورٹی فراہم کی گئی ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں انسداد پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم پر حملے میں ایک لیویز اہلکار ہلاک ہو گيا ہے۔

باجوڑ سے سیاسی انتظامیہ کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ تحصیل ماموند کے علاقہ کلان میں انسداد پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم کی حفاظت کے لیے تعینات ہلاک ہو نے والے لیویز اہلکار کا نام شاد گل تھا۔

یہ علاقہ ایجنسی ہیڈ کوارٹر خار کے مغرب میں 15 کلومیٹر کے فاصلے پر پاک افغان سرحد کے قریب واقع ہے۔

سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ اس علاقے میں کچّی آبادیاں ہیں اور مکان دور دور واقع ہیں جب کہ کوئی پختہ سڑک بھی نہیں ہے۔

حملہ آوروں نے لیویز اہلکار شاد گل پر فارنگ کی اور موقعے سے فرار ہو گئے۔ بہر حال انسدادِ پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم اس حملے میں محفوظ رہی ہے۔

حکام کے مطابق باجوڑ ایجنسی میں حالیہ مہم ایک بڑے وقفے کے بعد شروع کی گئی ہے اور اس کے لیے 624 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ اس مہم کے دوران دو لاکھ 20 ہزار بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائے جانا ہے۔

اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ مہم جاری رہے گی یا اس معطل کردیا جائےگا۔ اس بارے میں یہاں کے حکام سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

Image caption گزشتہ سال ہلال خان نامی انسداد پولیو کارکن کو نشانہ بنایا گیا تھا

خیال رہے کہ پاکستان میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران پولیو مہم میں حصہ لینے والے رضاکاروں اور ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

رواں ماہ کی دس تاریخ کو صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں پولیو مہم کے کارکنان کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملے کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا تھا۔

گذشتہ سال پاکستان میں 58 بچوں میں پولیو کے وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جن میں سے 27 کا تعلق خیبر پختونخوا جب کہ 20 کا تعلق فاٹا سے تھا۔

پاکستان میں انسدادِ پولیو کی مہم ایک عرصے سے جاری ہے لیکن اس کے باوجود اس وائرس کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔

پولیو ٹیموں پر حملوں پر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان گی مون نے ’ظالمانہ، احساس سے عاری اور ناقابل معافی‘ قرار دیا تھا۔

گذشتہ سال پولیو کے قطرے پلانے والے کارکنان پر کئی بار حملہ کیا گیا جس میں متعدد کارکنان ہلاک ہوئے تھے اور ان حملوں کے بعد پولیو مہم میں حصہ لینے والے کارکنوں کے ساتھ پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

ان حملوں کے بعد اقوامِ متحدہ نے پاکستان میں جاری پولیو مہم میں شریک اپنے عملے کو واپس بلا لیا تھا اور یونیسف اور عالمی ادارۂ صحت کے فیلڈ سٹاف کو مزید احکامات تک پولیو مہم میں شرکت سے روک دیا تھا۔

اسی بارے میں