’متفقہ وزیراعلیٰ کا نام سامنے نہیں آ سکا ‘

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حکومت سازی کے سلسلے کا پہلا اور اہم ترین مرحلہ اب تک تعطل کا شکار ہے۔

صوبائی اسمبلی میں کامیابی کے لحاظ سے سرفہرست تین جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نون، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور جماعت نیشنل پارٹی نے حکومت بنانے کے لیے اتحاد قائم کیا ہے۔

اتحاد کے فیصلے کے تحت وزیراعلیٰ مسلم لیگ (ن) سے ہوگا مگر اب تک متفقہ قائد ایوان یا وزیراعلیٰ کا نام سامنے نہیں آ سکا ہے۔

بلوچستان کی نومنتخب صوبائی اسمبلی کا قائد ایوان کون ہوگا؟ یہ فیصلہ عام انتخابات میں وفاق اور پنجاب میں واضح برتری حاصل کرنے والی جماعت مسلم لیگ نون کی قیادت نے کرنا ہے۔مگر مسلم لیگ نون ایک عجیب مشکل میں پھنسی ہوئی ہے۔ اس کے دو سرکردہ رہنما سردار ثناء اللہ زہری اور نوابزادہ چنگیز خان مری دونوں ہی وزیر اعلیٰ بننا چاہتے ہیں، اب مرکزی قیادت چنے تو کسے؟

بہرحال دونوں کو ہی مسلم لیگ نون کی مرکزی قیادت نے لاہور بلا رکھا ہے۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کہتے ہیں کہ دونوں امیدواروں کا یہی مؤقف ہے کہ وزارت اعلیٰ انہیں ملنی چاہیے کیونکہ انہوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔

’سردار ثناء اللہ زہری کہتے ہیں کہ میرا بیٹا، بھائی اور بھتیجا مسلم لیگ اور پاکستان کا نام لینے کی وجہ سے جان سے گیا جبکہ ان کے مقابلے میں نوابزادہ چنگیز مری کا مؤقف یہ ہے کہ سردار زہری کو دو تین سال ہوئے ہیں پارٹی میں آئے ہوئے، میں نے اُس وقت پاکستان کا نعرہ لگایا جب میرے والد اور بھائی ریاست کے خلاف لڑ رہے تھے جو آج بھی لڑ رہے ہیں اور میں پہاڑوں پر لڑنے والوں کے ساتھ امن مذاکرات بھی کر سکتا ہوں۔‘

شہزادہ ذوالفقار کے بقول یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قرعہ کسی تیسرے شخص کے حق میں نکل آئے۔

Image caption سردار ثناء اللہ زہری کہتے ہیں کہ میرا بیٹا، بھائی اور بھتیجا مسلم لیگ اور پاکستان کا نام لینے کی وجہ سے جان سے گیا: شہزادہ ذوالفقار

’اگر مسلم لیگی قیادت اپنی پارٹی میں سے کسی ایک کو وزیر اعلی بناتی ہے، نوابزادہ چنگیز مری کو بناتی ہے یا سردار ثناء اللہ کو بناتی ہے تو پارٹی میں دراڑ ضرور پڑے گی اور یہ آگے حکومت میں بھی نمایاں رہے گا۔‘

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مسلم لیگ نون کی قیادت اس تنازعے کو بڑھنے سے روکنے کے لیے نیشنل پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا انتخاب بھی کر سکتی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے مسلم لیگ نون کے رہنما شہباز شریف کو ڈاکٹر مالک کو قائد ایوان بنانے کی تجویز دی ہے۔

شہزادہ ذوالفقار نے کہا کہ’اگر مسلم لیگ نون کی قیادت ڈاکٹر مالک کی حمایت کرتی ہے ، تو شروع میں شاید پارٹی کے لوگ اس بات پر ناراض ہوں کہ ہمیں نظر انداز کیا گیا اور دوسروں کو ہم پر فوقیت دی گئی لیکن آگے چل کر شاید ایک مضبوط حکومت بنے۔‘

پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر عثمان کاکڑ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سب سے پہلے تو ہم نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ ہماری پارٹی سے ہونا چاہیے کیونکہ ہم نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں اور اگر ہماری پارٹی سے نہ ہو تو پھر ہمارا انتخاب ڈاکٹر مالک ہیں، وہ ہر لحاظ سے بہترین امیدوار ہیں اور پھر بلوچ علاقوں کا مینڈیٹ ان کی جماعت کو ملا ہے۔‘

مگر سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار اختر جان مینگل کی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی حکومت سازی کے اس پورے عمل سے لاتعلق ہے اور پورے انتخابی عمل پر سنگین تحفظات رکھتی ہے۔

پارٹی کے رہنما ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی کہتے ہیں کہ’بنیادی طور پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے مینڈیٹ کو چھینا گیا ہے، جو مینڈیٹ دیا جاچکا ہے، وہ سرکاری میڈیٹ ہے۔صوبائی اسمبلی کی آٹھ اور قومی اسمبلی کی چار نشستوں میں ہم واقعی جیت رہے تھے مگر ایسا نہیں ہونے دیا گیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’بلوچستان کے دور دراز علاقوں کے حلقوں کے انتخابی نتائج کا تو مخصوص حالات کے باوجود چار چھ گھنٹوں میں اعلان کر دیا گیا مگر دارالحکومت کوئٹہ شہر کے چار حلقوں کے نتائج کو جہاں بلوچستان نیشنل پارٹی جیت رہی تھی چار دنوں تک روک کے رکھا گیا اور اس کے بعد جو نتائج سامنے آئے۔ ان میں ان کی جماعت کے امیدواروں کو پچاس، سو، ڈیڑھ سو ووٹوں کے فرق سے ہارتے ہوئے بتایا گیا‘۔

ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ ’باقی جو بھی دوست حکومت بنانے کی کوشش کریں گے، بھلے ان کا مینڈیٹ غلط ہے یا صحیح، ہم ان کے خیرخواہ ہیں، دیکھتے ہیں کہ وہ یہاں حالات کس حد تک ٹھیک کرتے ہیں۔‘

غور طلب بات یہ ہے کہ حکومت سازی کی اس ساری کشاکش کے دوران بلوچستان میں پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

اسی بارے میں