میران شاہ: دو غیر ملکی افراد گرفتار

پاکستان کے خفیہ اداروں نے دو غیر ملکیوں کو گرفتار کیا ہے جن کے بارے میں حکام کا کہنا تھا کہ وہ مبینہ طور پر چین کے مسلمان آبادی والے صوبے سنکیانگ میں بدامنی اور وہاں کے مسلمانوں کو حکومت کے خلاف اکسانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

گرفتار ہونے والے افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ چیچن باشندے ہیں اور ان سے تفتیش کے بعد اس گروہ میں شامل دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

خفیہ ادارے کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ گرفتار ہونے والے ان دو افراد کو قبائلی علاقے میران شاہ میں چند روز قبل ہونے والی کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔

اہلکار کے مطابق ان چیچن باشندوں میں سے ایک کا نام عبدالرحیم سمرنوف ہے۔ سمرنوف کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کی اس طرح برین واشنگ کرتا ہے کہ وہ کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ دوسرے گرفتار شخص کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ اُزبک ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق حکومت کی جانب سے گوادر پورٹ کا ٹھیکہ چین کو دینے کے بعد شدت پسند پاکستان کی سرحد کے ساتھ ملنے والے چین کے سنکیانک صوبے میں اپنی کارروائیاں تیز کرنے سے متعلق حکمت عملی تیار کر رہے تھے۔

ذرائع کے مطابق کچھ عرصہ قبل چین کے سیکورٹی اداروں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں سے چین کے سنکیانک صوبے میں شدت پسندوں کی جانب سے ممکنہ کارروائی سے متعقلہ پاکستانی حکام کو آگاہ کیا تھا اور اس ضمن میں چند شدت پسندوں کے نام بھی دیے گیے جن میں عبدالرحیم سمرنوف کا نام بھی شامل تھا۔

خفیہ ایجنسی کے اہلکار کے مطابق مذکورہ شخص کا تعلق اسلامک موومنٹ آف از بکستان سے بھی رہا ہے اور اس تنظیم کے دیگر ارکان کے قبائلی علاقوں میں بھی سرگرم ہونے سے متعلق اطلاعات ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان افراد کی گرفتاری کو حساس ادارے بڑی اہم کامیابی قرار دے رہے ہیں اور اس سے دونوں ممالک کے خفیہ اداروں کے درمیان اعتماد میں مذید اضافہ ہوگا۔

اس پیش رفت سے متعلق چینی وزیر اعظم لی کیچیانگ کو بھی آگاہ کیا جائے گا جو بائیس مئی کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں۔

اسی بارے میں