توانائی بحران:سی این جی کی فروخت محدود

Image caption پاکستان میں سی این جی سیکٹر گیس کی محدود سپلائی کے خلاف پہلے کئی بار ہڑتال بھی کر چکا ہے

پاکستان کی نگراں حکومت نے ملک میں گیس کی قلت کے پیش نظر ایک ہزار سی سی سے زیادہ طاقتور انجن والی نجی گاڑیوں کو سی این جی کی فروخت پر پابندی لگا دی۔

نگراں حکومت نے پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے گیس سٹیشنز کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔ البتہ پبلک ٹرانسپورٹ کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے چیئرمین غیاث نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نگراں حکومت کا اس طرح کی پابندی لگانے کا مینڈیٹ نہیں ہے۔

منگل کی رات وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ نگراں وزیر اعظم میر ہزار خان کھوسو نے ہدایت کی ہے کہ کوئی سی این جی سٹیشن ہزار سی سی سے زیادہ طاقتور انجن والی گاڑیوں میں گیس نہ بھرے۔

اس فیصلے کا اطلاق وزارت قانون کی نظرثانی کے بعد پچیس مئی سے ہوگا۔

بیان کے مطابق وزیر اعظم نے اس بات کی بھی منظوری دی ہے کہ پہلی بار خلاف ورزی کرنے والے سی این جی سٹیشن کے مالک پر پچاس ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا اور خلاف ورزی کو دہرانے پر مالک کو ایک لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا جبکہ تیسری بار خلاف ورزی کرنے والے سی این جی سٹیشن کو چھ ماہ کے لیے سربمہر کر دیا جائے گا۔

اور اگر اس کے بعد بھی خلاف ورزی ہوئی تو سی این جی سٹیشن کی بندش کی مدت ایک سال تک بڑھا دی جائے گی۔

بیان کے مطابق وزیراعظم نے یہ احکامات ملک میں گیس کی شدید قلت کے پیش نظر جاری کیے ہیں تاکہ پرائیویٹ گاڑیوں میں سی این جی کے استعمال کو محدود کیا جا سکے اور بجلی گھروں، صنعت، کھاد کے کارخانوں اور گھریلو صارفین کے لیے زیادہ سے زیادہ گیس میسر ہو۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق پبلک ٹرانسپورٹ پر نہیں ہوگا۔

بیان کے مطابق نگراں وزیر اعظم کو اس بات پر تشویش تھی کہ گیس جیسا سستا ایندھن جو نچلے اور متوسط طبقے کے لوگوں کو دستیاب ہونا چاہیے، ہزار سی سی سے اوپر والی گاڑیوں میں بےدریغ استعمال ہو رہا ہے۔

نگراں وزیراعظم کھوسو نے امید ظاہر کی ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات اس اقدام کو اسی نظر سے دیکھیں گے۔ انہوں نے پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کی وزارت کو حکم دیا ہے کہ اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے وہ وزارت قانون سے مشاورت کرے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں گیس کی قلت کے پیش نظر سی این جی کی فروخت کو پہلے ہی محدود کیا گیا ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں اسکی فروخت ہر ہفتے دو سے چار دنوں تک بند رہتی ہے۔

پاکستان میں توانائی کا بحران گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے۔ سردیوں میں قدرتی گیس کی سپلائی متاثر رہتی ہے جبکہ گرمیوں میں بجلی کی طویل بندش کا مسئلہ رہتا ہے۔ ملک میں توانائی کے بحران کے خلاف آئے روز احتجاجی مظاہرے بھی ہوتے ہیں۔

دوسری جانب آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے چیئرمین غیاث پراچہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔

Image caption پاکستان میں گیس کی قلت کے باعث سی این جی سیکٹر کو گیس کی سپلائی پہلے ہی محدود ہے جس کی وجہ سے گیس سٹیشنز کے سامنے گاڑیوں کی طویل قطاریں نظر آتی ہیں

انہوں نے کہا کہ نگراں حکومت کا اس طرح کی پابندی لگانے کا اختیار نہیں ہے اور چند روز میں نئی حکومت نے آنا ہے اور ان کو عوام نے مینڈیٹ دیا ہے اور انہوں نے یہ فیصلہ کرنا ہے تو کریں۔

انہوں نے کہا کہ بدھ کو ایسوسی ایشن کا اجلاس بلایا ہے اور اجلاس کے بعد نیوز کانفرس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا لیکن ہمارا موقف یہ ہی ہے کہ نئی حکومت آ جائے اور وہ یہ معاملات دیکھے۔

انہوں نے کہا کہ’گزشتہ حکومت کے وزیرِ پیٹرولیم نے اس طرح کی پابندی لگانے کی تجویز دی تھی لیکن وزارتِ قانون نے یہ تجویز مسترد کی دی تھی کہ عوام کے ساتھ امتیازی سلوک اختیار نہیں جا سکتا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ اس پابندی پر عمل درآمد کرنا بہت مشکل ہے، آپ کس طرح سے ایک گاڑی کو گیس فروخت کریں گے اور دوسری کو نہیں‘۔

غیاث پراچہ کے بقول ’انہوں نے گیس کے بحران اور سی این جی سیکٹر کے حوالے سے اخبارات کے ذریعے نئی حکومت کو پانچ تجاویز دی ہیں اور ہمیں ان تجاویز پر عمل درآمد کے لیے موقع دیا جائے تو سی این جی سیکٹر گیس کی فراہمی کے مسائل کافی حد تک خود ہی حل کر لے گا‘۔

اسی بارے میں