نئی حکومت کو سخت فیصلے کرنا ہوں گے

Image caption عوام کے ساتھ ساتھ حکومت کے لیے بھی اقتدار کا پہلا سال مشکل ثابت ہو گا

پاکستان میں گیارہ مئی کو ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ ن اکثریت حاصل کرنے کے بعد حکومت سازی میں مصروف ہے۔

انتخابات کے بعد جہاں قوم نے نئی حکومت سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں وہیں ملک کے کاروباری حلقے بھی معیشت میں بہتری کے لیے آنے والی حکومت کی ترجیحات پر نظریں مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کا تعلق ایک صنعتی گھرانے سے ہے اور عام تصور یہی ہے کہ اُن کی حکومت صنعت دوست ہوگی۔

کراچی ایوانِ صنعت و تجارت کے صدر ہارون اگر کہتے ہیں کہ کاروباری طبقہ آنے والے وقت کے بارے میں اچھے خیالات رکھتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں بجلی کی قلت کے باعث کاروباری سرگرمیاں محدود ہو کر رہ گئیں۔ نئی صنعتیں لگنے کے بحائے پرانی صنعتیں بند ہو رہی ہیں جس کے باعث ملازمت کے مواقع نہ ہونے برابر ہیں اور بےروزگاری کی وجہ ہی سے امن و امان کی صورتحال آئے دن قابو سے باہر ہو جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’نئی حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ توانائی کا بحران ختم کیا جائے اور کاروبار کی راہ میں حائل سرخ فیتے ختم کیے جائیں۔ کاروبار کرنا ہمارا کام ہے۔ ہم خود باہر کی کمپنیوں کو پاکستان لائیں گے۔‘

پاکستان میں وفاق ایوان صنعت و تجارت کے صدر فضل قادر شیرانی کو توقع ہے کہ نئی حکومت پالیسی سازی میں کاروباری طبقے کو اعتماد میں لے گی۔

انھوں نے کہا کہ سالانہ بجٹ کی تیاری، تجارتی پالیسی اور ٹیکسوں میں ردوبدل اگر کاروباری طبقے کی مشاورت سے کیا جائے تو اس سے ملک میں کاروبار کی فضا سازگار ہو سکتی ہے۔

فضل قادر شیرانی کہتے ہیں کہ توانائی کے بحران اور مہنگے متبادل ذرائع نے پاکستانی برامدات کی پیداواری لاگت بڑھا دی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں نظام میں اہم تبدیلیوں کی توقعات ہیں۔‘

لیکن اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں کسی بھی حکومت سے فوری طور پر تبدیلی کی توقعات وابستہ کرنا درست نہیں کیونکہ اقتصادی شعبے میں اصلاحات کے بغیر دیرپا اور پائیدار ترقی ممکن نہیں۔

پاکستان میں اقتصادیات پر کام کرنے والے تھینک ٹینک ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد سلہری کے نزدیک معروضی حالات کو دیکھتے ہوئے حکومت کے لیے عوام کو فوری ریلیف دینا ناممکن ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ عوام کے ساتھ ساتھ حکومت کے لیے بھی اقتدار کا پہلا سال مشکل ثابت ہوگا کیونکہ معشیت کو ترقی کی جانب گامزن کرنے کے لیے مسلم لیگ ن کی حکومت کو کٹھن اور سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت آغاز میں کاروباری طبقے کے لیے ٹیکسوں میں چھوٹ یا بجلی کی قیمت میں کمی نہیں کر سکتی بلکہ اسے مراعات ختم کر کے ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھانا ہوگا جس سے صنعت کار ناخوش ہوں گے۔

’حکومت کو معاشی ترقی کے لیے پہلے ہی سال میں غیر مقبول فیصلے کرنا ہوں گے اور اگر نئی حکومت بھی اہم لیکن غیر مقبول فیصلے کرنے میں ناکام رہی تو پھر وہ بھی پیپلز پارٹی کی طرح آئندہ مدتِ اقتدار تک مشکلات کا شکار رہے گی۔‘

پاکستان کی اقتصادی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو مالیاتی خسارہ خام ملکی پیداوار یعنی جی ڈی پی کے تقریباً نو فیصد تک پہنچ گیا ہے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور آئندہ ماہ عالمی مالیاتی فنڈ کو پچاس کروڑ ڈالر مالیت کی دو اقساط کی ادائیگی سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر بھی کم ہو گی۔

پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل اور نواز شریف کے سابق دورِ اقتدار میں وزیر خزانہ رہنے والے سرتاج عزیز کہتے ہیں کہ ’معاشی خودمختاری ہی پاکستان کی سالمیت کی ضامن ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران پاکستانی معشیت کی شرح نمو تین فیصد سے بھی کم رہی ہے اور معاشی شرح نمو کے بڑھنے ہی سے عام آدمی کی آمدن بڑھ سکتی ہے۔

توانائی کے بحران پر فوری قابو پانے کے حوالے سے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں چوبیس فیصد لائن لاسز اور خسارہ کم کر کے ہی قلیل مدت میں صورتحال بہتر کی جا سکتی ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہمیں کارکردگی کی بنیاد پر اپنی ترجیحات متعین کرنا ہوں گی تاکہ توانائی کے محدود ذرائع کا موثر استعمال کیا جا سکے۔‘

مبصرین کے خیال میں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں حکومت کے لیے کسی بھی قسم کا معاشی ریلیف دینا قدرے مشکل ہے لیکن اگر نئی حکومت اقتدار سنبھالنے کے بعد غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت شرائط، سبسڈیز میں کمی جیسے مشکل اور غیر مقبول اقدامات کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو طویل مدت میں بجلی کے بحران میں کمی، برامدات میں اضافہ اور روپے کی مستحکم قدر سے کاروباری طبقے کو سازگار اور کاروبار دوست ماحول مل سکتا ہے۔

اسی بارے میں