لاہور: عمران خان ہسپتال سے گھر منتقل

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے جس کے بعد وہ لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر منتقل ہوگئے ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق عمران خان کو ڈاکٹرز نے مزید دو ہفتے آرام کرنے کرنے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے کہ تحریکِ انصاف کے سربراہ سات مئی کی شام انتخابی مہم کے دوران لاہور میں جلسے کے لیے تیار کردہ سٹیج پر چڑھتے ہوئے گر کر زخمی ہو گئے تھے۔

عمران خان ایک لفٹر کے ذریعے سٹیج پر جا رہے تھے کہ توازن کھونے پر نیچے جا گرے تھے۔ زخمی ہونے کے بعد عمران خان شوکت خانم ہسپتال لاہور میں زیرِ علاج تھے۔

منگل کی دوپہر عمران خان نے خاص طور پر بنائی گئی ریڑھ کی ہڈی کی سپورٹ کی مدد سے زخمی ہونے کے بعد پہلی بار چہل قدمی کی تھی۔

تحریکِ انصاف کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ عمران خان کی ریڑھ کی ہڈی کے متعدد ایکسرے کیے گئے جن کے مطابق ان کے ریڑھ کی ہڈی بہت خوبی سے صحت یاب ہو رہی ہے اور مہرے اپنی جگہ پر درست طریقے سے بیٹھ رہے ہیں۔

بیان کے مطابق ریڈیالوجسٹوں اور سرجنوں کی ایک ٹیم نے تحریکِ انصاف کے رہنما کے ایکسرے دیکھے تھےاور وہ کیے جانے والے علاج سے مطمئن تھے۔

خیال رہے کہ عمران خان کے زخمی ہونے کا واقعہ ملک میں عام انتخابات سے چار دن پہلے پیش آیا تھا اور انہیں اس دن سے لے بدھ تک ہسپتال میں ہی رہنا پڑا۔

علاج کے دوران ملک کے مخلتف سیاسی رہنماؤں نے عمران خان کی عیادت کی جن میں عام انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف بھی شامل ہیں۔

میاں نواز شریف نے 14 مئی کو شوکت خانم کینسر میموریل ہسپتال میں عمران خان کی عیادت کی تھی اور انھیں پھولوں کا گلدستہ بھی پیش کیا تھا۔

ملاقات کے بعد میاں نواز شریف نے میڈیا سے بات چیت میں کہا تھا کہ وہ عمران خان کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگُو ہیں تاکہ مل کر پاکستان کے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا تھا کہ عمران خان سے مختصر ملاقات کا موقع ملا اُن کی طبعیت بہتر ہونے کے بعد دوبارہ ملاقات کریں گے۔

نواز شریف نے کہا تھا کہ ہم دونوں نے غصے کو ختم کر دیا ہے اور عمران خان سے کہا کہ اب ایک ’دوستانہ میچ‘ ہونا چاہیے۔

اسی بارے میں