نیٹو سامان چوری کے ملزمان پولیس کےحوالے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر حیدر آباد کی ایک عدالت نے نیٹو کے سامان کی چوری کے الزام میں گرفتار پانچ ملزمان کو چھ دن کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

ہٹڑی پولیس نے بدھ کو زر محمد، ضمیر خان، اختر حسین، نور اکبر اور معراج خان کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا۔

پولیس نے گزشتہ روز نیٹو کے سامان سے لدے تین ٹرالر کو قبضے میں لیکر ان کے ملزمان کو حراست میں لیا تھا۔

ایس ایچ او ہٹڑی پولیس منیر عباسی کا کہنا ہے انہیں اطلاع ملی تھی کہ ٹرک اڈوں پر جب یہ ٹرالر رکتے ہیں تو ان میں سے سامان کی چوری کی جاتی ہے اور اس میں ٹرالر ڈرائیور ملوث ہیں۔

منیر عباسی کے مطابق پولیس جب موقع پر پہنچی تو ان ٹرالوں سے سامان نکالا جارہا تھا اور انھیں دیکھ کر ملزمان نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن علاقے سے ناواقف ہونے کی وجہ سے وہ پکڑے گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان ان ٹرالوں سے وائرلیس، بیٹریاں، ایئر کنڈیشنر اور سرچ لائٹس نکالتے تھے، جو پاکستان کے بڑے شہروں میں فروخت کی جاتی تھیں۔

گرفتار ہونے والوں میں گروہ کا سربراہ زر محمد، ضمیر خان میکنیک، نور محمد اور معراج خان ڈرائیور ہیں جن کا تعلق لنڈی کوتل سے ہے۔

کراچی سے نامہ نگار کے مطابق اس سے پہلے بھی سندھ پولیس ڈرائیوروں کو کنٹینر چھیننے اور چوری کے الزام میں گرفتار کرچکی ہے، ان میں سے کچھ واقعات کراچی میں پیش آئے ہیں، یہ سامان پشاور، کوئٹہ اور کراچی میں فروخت ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ کراچی کی دونوں بندرگاہوں سے نیٹو افواج کو افغانستان میں تیل اور دیگر سامان کی رسد ہوتی ہے، روزانہ کئی ٹرالر اور ٹینکر طورخم اور چمن بارڈر سے افغانستان میں داخل ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے نیٹو کے آئل ٹینکروں کی چوری یا ان پر حملوں کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں