’الطاف حسین کی تقاریر بند کی جائیں‘

Image caption درخواست میں ایم کیو ایم کے علاوہ وفاقی حکومت، پیمرا اور پی ٹی اے کو بھی فریق بنایا گیا ہے

لاہور ہائی کورٹ نے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی تقاریر کے خلاف دائر درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ نے ایم کیو ایم، وفاقی حکومت، پاکستان میں میڈیا کے نگران ادارے پیمرا اور پی ٹی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے شِق وار جواب طلب کیے ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس خالد محمود خالد نے یہ حکم ایک وکیل فیاض احمد مہر کی جانب سے اس درخواست پر دیا جس میں ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی تقاریر کو بنیاد بنا کر ان کے خلاف کارروائی کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

درخواست میں ایم کیو ایم کے علاوہ وفاقی حکومت، پیمرا اور پی ٹی اے کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار وکیل عمران خان کی پاکستان تحریکِ انصاف کے وکلا ونگ کے صدر ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ درخواست ذاتی حیثیت میں دائر کی ہے۔

سماعت کے دوران فیاض احمد مہر نے یہ موقف اختیار کیا کہ الطاف حسین بیرون ملک سے ایسی تقاریر کر رہے ہیں جو بقول ان کے اشتعال انگیز ہیں۔

درخواست گزار فیاض احمد مہر کے مطابق الطاف حسین غیر ملکی ہیں اس لیے انہیں بیرون ملک سے تقاریر کرنے کی اجازت نہیں ہے لیکن اس کے باوجود وہ ٹیلی فون کے ذریعے بیرون ملک سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور قومی اداروں کے خلاف بات کرتے ہیں۔

فیاض مہر نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ الطاف حسین نے اپنی ایک تقریر میں کراچی کو الگ کرنے کے بارے میں بیان دیا جس پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور پیمرا اور پی ٹی اے کو حکم دیا جائے کہ چونکہ الطاف حسین غیر ملکی شہری ہیں اس لیے ان کی تقاریر ملکی ذرائعِ ابلاغ پر نشر نہ ہونے دی جائیں۔

اس درخواست پر مزید کارروائی جون کے پہلے ہفتے میں ہوگی۔

اسی بارے میں