’مشرف کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ دیا جائے گا‘

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کرے یا نہ کرے لیکن وہ ان کے خلاف آئین توڑنے پر غداری کا مقدمہ چلانے سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ ضرور دے گی۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا ہے کہ ملک کا آئین توڑنے اور ایمرجنسی کے نفاذ پر آئین کے آرٹیکل چھ کی تشریح پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے سے متعلق دائر درخواستوں میں ہی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے کسی بھی آمر کے خلاف کارروائی سے متعلق آئین کی اس شق کی تشریح نہیں کی گئی۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ان درخواستوں کی سماعت کے دوران بینچ کی جانب سے جو ریمارکس آئے اُس سے ان درخواستوں پر متوقع فیصلوں کی کسی حد تک نشاندہی ہوتی ہے کہ یہ فیصلے کیا ہوسکتے ہیں۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بیچ نے سابق آرمی چیف پرویز مشرف کی جانب سے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ پر ان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ آرمی چیف سیکرٹری دفاع کے ماتحت ہوتا ہے اور وہ کیسے اپنے افسر کو بتائے بغیر ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کرسکتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ ان درخواستوں کی مد میں پرویز مشرف نے اپنے تحریری جواب میں یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے ملک میں ایمرجسنی کے نفاذ سے پہلے کور کمانڈرز سے مشاورت کی تھی۔

درخواست گزار مولوی اقبال حیدر کے وکیل اے کے ڈوگر کا کہنا تھا کہ ملکی اخبارات میں یہ خبریں شائع ہو رہی ہیں کہ سابق صدر ملک سے جانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جس پر پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے عدالت کو بتایا کہ ان کی بدھ کی رات کو اپنے موکل سے ملاقات ہوئی تھی اور انہوں نے کہا ہے کہ وہ ملک میں ہی رہ کر اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کریں گے۔

احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت تو پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کا ادارہ نہیں رکھتی اب دیکھنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت ان کے موکل کے خلاف کارروائی کرے گی یا نہیں کیونکہ آئین توڑنے والے کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ سابق منتخب حکومت نے بھی پرویز مشرف کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

اُنہوں نے کہا کہ کوئی حکومت اس ضمن میں اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے یا نہ کرے لیکن عدالت سپریم کورٹ کے 31 جولائی سنہ 2009 کے چودہ رکنی بینچ کے فیصلے سے باہر نہیں جاسکتی جس میں تین نومبر سنہ 2007 کے سابق آرمی چیف پرویز مشرف کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل چھ کے تحت آئین توڑنے کی سزا موت ہے یا عمر قید اس کا فیصلہ بھی انہی درخواستوں کی سماعت کے دوران ہی ہوگا۔

بینچ میں موجود جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ جب تک سابق فوجی صدر کے خلاف ٹرائیل نہیں ہوگا اس وقت تک سزا کا تعین نہیں ہوسکے گا۔

ان درخواستوں کی سماعت تین جون تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

اسی بارے میں