پشاور: فائرنگ سے چار پولیس اہلکار ہلاک

Image caption متنی میں تشدد کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے متنی میں شدت پسندوں کی فائرنگ سے چار پولیس اہلکار ہلاک اور ضلعی پولیس آفیسر سمیت متعدد زخمی ہو گئے۔

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق کوہاٹ کے ضلعی پولیس آفیسر دلاور بنگش پشاور سے کوہاٹ جا رہے تھے کہ متنی کے قریب ان کے قافلے پر شدت پسندوں نے فائرنگ کر دی۔

فائرنگ میں چار پولیس اہلکار ہلاک اور ڈی پی او دلاور بنگش سمیت متعدد اہلکار زخمی ہو گئے۔

زخمیوں کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

پشاور کے مضافاتی علاقے متنی میں اس سے پہلے بھی سکیورٹی چیک پوسٹ اور پولیس اہلکاروں کو شدت پسندوں نے حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔

اس علاقے میں سکیورٹی اہلکار متعدد بار سرچ آپریشن بھی کر چکے ہیں۔

جمعہ کو ہی پشاور میں میں ہونے والے ایک خوکش بم دھماکے میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ دھماکا پشاور کے علاقے پجگی روڈ پر سعید آباد میں تبلیغی مرکز جامعہ علومِ اسلامیہ کے قریب ایک ورکشاپ میں ہوا۔

ایس پی سٹی خالد محمود ہمدانی نے کہا کہ دھماکے کی نوعیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ خودکش حملہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب مدرسے سے ایک لینڈ کروزر گاڑی نکلی تو راستے میں پہلے سے موجود ایک نوجوان حملہ آور نے گاڑی کے قریب اپنے آپ کو دھماکے سے اْڑایا۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے کے بعد گاڑی میں آگ لگ گئی۔ ایس پی خالد ہمدانی کے مطابق دھماکے میں پانچ سے چھ کلوگرام دھماکا خیز مواد اور بال بیئرنگ کا استعمال کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق اس حملے میں لینڈ کروزر میں سوار دو افراد سمیت تین ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ملک میں گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد پشاور میں بم دھماکے کا یہ پہلا بڑا واقعہ ہے۔

اسی بارے میں