بہتر یہی ہے کہ شیر فی الحال خود پر ہی دھاڑ لے

صدر براک اوباما نے اختتامِ ہفتہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں جو خطاب کیا اس کے بعد اب یہ سوال کسی بھی جانب سے اٹھانا محض وقت کا ضیاع ہے کہ آیا پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکی ڈرون حملے بند یا کم ہوسکتے ہیں؟

ایک ایسی جنگ جس پر امریکہ بقول اوباما ایک ٹریلین ڈالر سے زائد خرچ کرچکا ہے اور عراق اور افغانستان کو ملا کر نائن الیون کے بعد سے اب تک اس کے سات ہزار فوجی ہلاک، تین گنا زخمی اور چار سے پانچ گنا ذہنی دباؤ کا شکار ہوچکے ہیں۔ اتنا آگے آنے کے بعد ڈرون حملے محض اس لیے بند یا کم کرنا کہ کوئی خفا نہ ہوجائے، کوئی امریکہ کو دوسرے انسانوں کے بارے میں بے حس نہ سمجھ لے، کوئی اسے بین الاقوامی قوانین کی پامالی کے طعنے نہ دے۔ بہت مشکل ہے کہ ڈرون حملوں کو امریکہ کے مجموعی عسکری نظریے سے علیحدہ کرکے دیکھا جا سکے۔

صدر براک اوباما کے بقول ڈرون حملوں سے جو انسانی اتلاف ہوا اس کا دکھ وہ اور ان کے ساتھی مرتے دم تک نہیں بھول پائیں گے لیکن بطور کمانڈر انچیف حالتِ جنگ میں ان کی مجبوری ہے کہ امریکیوں کے دفاع کے لیے کچھ ایسا کیا جائے کہ دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کے چکر میں خود ان کے ہم وطنوں کے حقوق پامال نہ ہوتے رہیں۔

گویا یہ بات طے ہے کہ کم ازکم دو ہزار چودہ کے اختتام تک امریکہ یہ حق محفوظ رکھتا ہے کہ اسے کب کس کے خلاف، کہاں، کیوں اور کتنے ڈرون حملے کرنے ہیں۔ چاہے کوئی کچھ بھی کہے۔

پاکستان بھلے سرکاری طور پر عوام کی تسلی کے لیے کتنا بھی مذمتی اور مطالباتی شور مچاتا رہے لیکن ڈرون حملوں پر اس کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہنے کے باوجود نیٹو کی آدھی سے زیادہ سپلائی بھی کراچی کے ہی راستے واپسی کا سفر کرے گی۔

حالانکہ صدر اوباما اپنے خطاب میں ڈرون حملوں کی مجبوری اور ان کے نتیجے میں گیہوں کے ساتھ گھن پسنے کے اعتراف کے بعد یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ امریکہ حملے تو شائد نہ بند کر پائے مگر اتنا ضرور کرسکتا ہے کہ جو بے گناہ مارے گئے ہیں ان کے وارثوں کی اشک شوئی کے لیے کچھ نا کچھ مالی تلافی ضرور کی جائے۔ مگر امریکی صدر کا اس جانب دھیان بھی نہیں گیا۔

نہ ہی پاکستان کی کوئی حکومت امریکہ سے اپنے شہریوں کی ہلاکت کی مالی تلافی کا مطالبہ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ کیونکہ پھر یہ انگلیاں اٹھ سکتی ہیں کہ اچھا ۔۔۔ تو آپ امریکہ کے حملے رکوانے میں ناکامی کے بعد اب اپنے لوگوں کو بطور بارہ سنگھا امریکہ کی ٹرافی ہنٹنگ کے لیے پیش کررہے ہیں۔ یعنی فی بارہ سنگھا دو، پانچ یا دس ہزار ڈالر!!!

اب اگر کوئی سوال باقی ہے تو یہ کہ جن جماعتوں اور رہنماؤں نے ڈرون حملے بند یا کم کروانے کے وعدے پر گیارہ مئی کو ووٹ لیے ان کا کیا ہوگا؟ کیا تاویل پیش کریں گے؟ کس پر الزام لگائیں گے؟ کیا کہانی سنائیں گے؟ کیا وہ پھر یہ راگ الاپیں گے کہ ڈرون مسئلہ ہم نے پیدا نہیں کیا بلکہ ورثے میں ملا ہے؟ یا پھر یہ کہیں گے کہ ہم کوشش تو کررہے ہیں لیکن ذرا وقت لگے گا۔ ٹھیک ہے آپ نے ہمیں ووٹ دیے آپ کی بہت مہربانی مگر ہمارے پاس الہ دین کا چراغ تھوڑا ہے۔

بالخصوص وہ جماعتیں جو متحدہ مجلسِ عمل کی چھتری تلے دو ہزار دو کے نورا انتخابات کے نتیجے میں پانچ سالہ ڈرون نواز دورِ مشرف میں خاصا دین اور دنیا کما چکیں اور گذشتہ چھ برس سے حزبِ اختلاف کے مزے بھی لوٹ رہی ہیں۔ اب وہ کیا فرمائیں گی بیچ اس مسئلے کے؟

چنانچہ بہتر یہی ہے کہ شیر فی الحال خود پر ہی دھاڑ لے، بلا اپنی ہی وکٹ پر دے مارا جائے، ترازو میں خود ہی تل جایا جائے اور کتاب اپنے ہی سر پر رکھ لی جائے ۔۔۔ کم ازکم دسمبر دو ہزار چودہ تک۔

اسی بارے میں