مسلم لیگ ن کے ووٹ بینک میں 13 فیصد اضافہ

پاکستان کے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق مسلم لیگ نواز گیارہ مئی کو منعقد ہونے والے عام انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے اور اس نے قومی اسمبلی میں کل ووٹوں میں سے تقریباً ایک تہائی ووٹ حاصل کیے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق 2013 کے عام انتخابات میں ووٹنگ کی شرح 55 فیصد رہی ہے جو کہ 2008 کے الیکشن کی نسبت 11 فیصد زیادہ ہے۔

قومی اسمبلی کے ڈالے گئے ووٹوں کے تناسب سے عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری ہے جبکہ تیسرے نمبر پر آنے والی پیپلز پارٹی کی قومی اسمبلی کے الیکشن میں ووٹ لینے کی شرح صرف پندرہ فیصد رہی جو کہ 2008 کی نسبت نصف ہے۔

کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق حالیہ انتخابات میں مرکز اور پنجاب میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت مسلم لیگ ن نے قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں مجموعی طور پر دو کروڑ اٹھہتر لاکھ تئیس ہزار تین سو چودہ ووٹ حاصل کیے

قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے ووٹوں کی تعداد 14874104 رہی جو کہ مجموعی ووٹوں کے تینتیس فیصد کے قریب ہے جبکہ گزشتہ الیکشن میں اسے قومی اسمبلی میں انیس اعشاریہ چھ فیصد ووٹ ہی مل سکے تھے۔

مسلم لیگ ن پنجاب سے 11365363 ووٹ لے کر صوبے میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والی جماعت رہی۔ اسے پنجاب سے کُل ووٹوں میں سے چالیس اعشاریہ آٹھ فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔

دیگر صوبوں میں سے خیبر پختونخوا میں نواز لیگ 856135 ووٹ لے کر سب سے زیادہ ووٹ لینے والی جماعتوں میں دوسرے اور بلوچستان میں 134758 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔

سندھ میں مسلم لیگ نواز نے اس مرتبہ گزشتہ الیکشن کی نسبت بہتر کارکردگی دکھائی اور 592954 ووٹ لیے جو کہ گزشتہ الیکشن سے تقریباً ساڑھے چار فیصد زیادہ ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی

2008 کے الیکشن کے بعد حکومت بنانے والی پیپلز پارٹی کی کارکردگی سندھ کے علاوہ تمام صوبوں اور مرکز میں مایوس کن ہی رہی۔

Image caption قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ووٹ لینے کی شرح صرف پندرہ فیصد رہی

اس الیکشن میں پیپلز پارٹی کو مجموعی طور پر ایک کروڑ اکتیس لاکھ دس ہزار دو سو بیالیس ووٹ ملے۔

پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں 6911218 ووٹ لیے جبکہ گزشتہ الیکشن میں اسے 10666548 ووٹ ملے تھے۔ یوں ووٹنگ کی مجموعی شرح میں اضافے کے باوجود پیپلزپارٹی کو سینتیس لاکھ پچپن ہزار تین سو تین ووٹ کم ملے۔

اس الیکشن میں قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ووٹ لینے کی شرح صرف پندرہ فیصد رہی جو کہ 2008 کی نسبت نصف ہے۔

سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی اگرچہ سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی لیکن یہاں بھی اس کا ووٹ بینک کم ہوا۔ سندھ میں صوبائی اسمبلی کے الیکشن میں جماعت نے3209686 ووٹ لیے جو کہ کل ووٹوں کے تو 33 فیصد کے قریب ہے لیکن 2008 کے مقابلے میں یہ تقریباً نو فیصد کم ہے۔

پنجاب میں پیپلز پارٹی کو بڑے پیمانے پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جو اس کے حاصل کردہ ووٹوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ 2008 میں صوبے میں ساڑھے پچپن لاکھ کے قریب ووٹ لینے والی یہ جماعت اس مرتبہ چوبیس لاکھ چونسٹھ ہزار آٹھ سو بارہ ووٹ ہی لے پائی اور یوں صوبے میں اس کے مجموعی ووٹ بینک میں تقریباً اٹھارہ فیصد کی کمی ہوئی۔

خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی کو 2008 کے مقابلے میں نوے ہزار کم ووٹ ملے اور یہ تعداد 472550 رہی جبکہ بلوچستان میں جماعت 51976 ووٹ لے سکی اور یہاں 2008 کے مقابلے میں فرق ایک لاکھ چودہ ہزار ووٹ کا رہا۔

پاکستان تحریکِ انصاف

Image caption تحریکِ انصاف نے سندھ میں چھ لاکھ سے زیادہ ووٹ لے کر اپنی موجودگی کا احساس دلوایا

سابق کرکٹر عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی نے 2008 میں تو الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا لیکن پانچ برس بعد الیکشن میں وہ ووٹوں کے اعتبار سے دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔

تحریکِ انصاف نے اس الیکشن میں کل ووٹ 14302302 حاصل کیے اور جہاں وہ قومی اور پنجاب اسمبلی میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والی جماعتوں میں دوسرے نمبر پر رہی وہیں خیبر پختونخوا کی اسمبلی میں اس نے سب سے زیادہ ووٹ لیے۔

خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف نے 1039719 ووٹ لے کر کُل ووٹوں کا انیس اعشاریہ چھ فیصد حاصل کیا تو سندھ میں چھ لاکھ سے زیادہ ووٹ لے کر اپنی موجودگی کا احساس دلوایا۔

پنجاب میں تحریکِ انصاف 4951216 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی اور صوبے میں نشستوں کے ساتھ ساتھ ووٹوں کے اعتبار سے بھی دوسری بڑی جماعت بنی۔

تینوں صوبوں کے برعکس صوبہ بلوچستان میں پی ٹی آئی کی کارکردگی کچھ خاص نہ تھی اور اسے صرف چوبیس ہزار ووٹ ملے جو کہ کل ووٹوں کے ایک اعشاریہ آٹھ فیصد کے برابر ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ

Image caption اس الیکشن میں ایم کیو ایم کا ووٹ بینک کم ہوا ہے

متحدہ قومی موومنٹ نے 2013 کے الیکشن میں بھی ماضی کی طرح کراچی سے ہی اپنی بیشتر نشستیں حاصل کیں لیکن اس مرتبہ یہاں اسے تحریکِ انصاف سے سخت مقابلے کا سامنا رہا۔

قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم نے اس مرتبہ 2456153 ووٹ لیے جو کہ گزشتہ الیکشن کی نسبت 2 فیصد کم ہیں۔

سندھ اسمبلی میں اگرچہ ایم کیو ایم نے پچیس لاکھ دس ہزار سے زائد ووٹ لیے لیکن 2008 کے مقابلے میں اسے اپنے ووٹ بینک میں چار اعشاریہ چھ فیصد کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

جن کو ووٹ نہیں ملے

جہاں ان انتخابات میں مسلم لیگ نواز، تحریکِ انصاف، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سب سے زیادہ ووٹ لینے والی ابتدائی چار جماعتیں رہیں وہیں اُنیس سیاسی جماعتیں ایس بھی ہیں جنہوں نے کل ایک سو سے بھی کم ووٹ حاصل کیے اور اسی فہرست میں دو جماعتیں ایسی بھی ہیں جنہیں ایک ووٹ بھی نہیں ملا۔

یہ دو جماعتیں پاکستان مزدور کسان پارٹی اور افغان نیشنل پارٹی ہیں لیکن الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ آیا ان دو جماعتوں کی طرف سے اُمیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا تھا یا نہیں۔

اعدادوشمار کے مطابق سب سے کم ووٹ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی جماعت حقیقی جاموٹ قومی موومنٹ کو ملے اور اس کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد 9 رہی جبکہ آل پاکستان یوتھ ورکنگ پارٹی نے کُل 14 ووٹ حاصل کیے ہیں۔

سابق فلمی اداکارہ مسرت شاہین کی تحریک مساوات نے 99 ووٹ حاصل کیے۔ وہ اس الیکشن میں جماعت کی واحد امیدوار تھیں اور انہوں نے جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے مقابلے میں عام انتخابات میں حصہ لیا تھا۔

اسی بارے میں