پرویز مشرف: نئی حکومت کے گلے کی ہڈی

Image caption نئی حکومت کے لیے جنرل (ر) پرویز مشرف کی قسمت کا فیصلہ کرنا اہم چیلینج ہوگا۔

یکم جون سے پاکستان میں حکومت سازی کا آغاز ہوگا اور مسلم لیگ نواز پہلے ہی حکومت بنانے کے لیے سادہ اکثریت حاصل کرچکی ہے تاہم اس بار نئی بات یہ ہے کہ مرکز سے پہلے صوبوں میں حکومتیں بن رہی ہیں۔

نئی حکومت کے لیے توانائی کے بحران سے نمٹنا اور معیشت کی بحالی کے چیلینجز کا تو پہلے ہی سامنا ہوگا لیکن اس سے بھی شاید بڑا چیلینج جنرل (ر) پرویز مشرف کی قسمت کا فیصلہ کرنا ہوگا۔

میاں نواز شریف انتخابات سے پہلے تک یہ بات زور دے کر کہتے رہے ہیں کہ آئین توڑنے والوں کو سزا ضرور ملنی چاہیے اور وہ اقتدار میں آ کر پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلائیں گے۔

لیکن اب میاں نواز شریف جنرل مشرف کے بارے میں کافی محتاط نظر آتے ہیں۔

پرویز مشرف نے عدالت میں کہا تھا کہ آئین معطل کرنے کا فیصلہ انہوں نے اکیلے نہیں کیا تھا بلکہ فوجی قیادت بھی اس میں شامل تھی۔

سیاسی چالوں کے ماہر آصف علی زرداری یہ کیوں نہ چاہیں گے کہ میاں نواز شریف کے گلے پرویز مشرف کا معاملہ پڑے۔ اب اگر میاں صاحب مشرف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلاتے ہیں تو مشکل اور اگر ان کی حکومت میں وہ ملک چھوڑتے ہیں تو تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پرویز مشرف کے خلاف اب تک تین مقدمات ہیں۔ ایک بینظیر بھٹو قتل کیس، دوئم نواب اکبر بگٹی قتل کیس اور سوئم ججوں کی حراست کا کیس شامل ہے۔ بینظیر بھٹو قتل کیس میں ان کی ضمانت ہوچکی، ججوں کی حراست کا کیس مدعی واپس لے سکتا ہے یا ضمانت کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے چار جون کو کرنا ہے۔

اگر ان کی ضمانت ہوگئی تو وہ رہا ہوجائیں گے اور ان کے ترجمان ڈاکٹر امجد کے بقول وہ پانچ جون کو کوئٹہ ہائی کورٹ میں بگٹی قتل کیس میں ضمانت کی درخواست دیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر سکیورٹی کی وجہ سے حکومت نے اجازت دی تو کوئٹہ کے بجائے اس کیس میں ضمانت کے لیے بھی اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرسکتے ہیں۔

بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف کی حکومت کے لیے معیشت کی بحالی اور توانائی کا بحران ختم کرنے کے چیلینجز اپنی جگہ لیکن ان کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلینج جنرل پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلانے کا ہوگا جو نئی حکومت کےلیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں