’فصیح بخاری کی تقرری کالعدم، نیا چیئرمین نیب لانے کا حکم‘

Image caption صدر مملکت نے اس خاموشی کو نیم رضا مندی سمجھا اور فصیح بخاری کو نیب کا چیئرمین مقرر کر دیا:سردار لطیف کھوسہ

سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین ایڈمرل ریٹائرڈ فصیح بخاری کی تقرری کو کالعدم قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو اس عہدے کے لیے نئی تقرری کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا ہے کہ چیئرمین نیب کی تقرری میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے ساتھ بامقصد مشاورت کا عمل پورا نہیں کیا گیا جو کہ نیب آرڈیننس کے آرٹیکل چھ کی خلاف ورزی ہے۔

جسٹس تصدق حیسن جیلانی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کی درخواست پر یہ مختصر فیصلہ سُنایا۔ فیصلے کے مطابق تقرری کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی وجوہات تفصیلی فیصلے میں جاری کی جائیں گی۔

اس پہلے سپریم کورٹ نیب کے سابق چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ دیدار حسین شاہ کی تقرری کو بھی کالعدم قرار دے چکی ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ دیدار حیسن شاہ کو بھی سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے تعینات کیا تھا اور ان کی تقرری کو بھی پاکستان مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے ہی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

منگل کے روز ایڈمرل ریٹائرڈ فصیح بخاری کی بطور چیئرمین نیب تقرری سے متعلق چوہدری نثار علی خان کی درخواست کی سماعت کے دوران چیئرمین نیب کے وکیل سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ درخواست گُزار کے ساتھ مشاورت کا عمل مکمل کیا گیا تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی طرف سے قائد حزب اختلاف سے مشاورت کا عمل مکمل کیا گیا تھا جس کے چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں اُن کے موکل کی تعیناتی پر کوئی تقریر نہیں کی تھی۔

اُنہوں نے کہا کہ صدر مملکت نے اس خاموشی کو نیم رضا مندی سمجھا اور فصیح بخاری کو نیب کا چیئرمین مقرر کر دیا۔

بینچ میں موجود آصف سعید کھوسہ نے سردار لطیف کھوسہ سے استفسار کیا کہ خاموشی کو کیسے رضامندی تصور کر لیا گیا جبکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر درخواست گُزار کو اپنی درخواست واپس لے لینی چاہیے تھی۔

سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے ایڈمرل ریٹائرڈ فصیح بخاری کو بحریہ کا سربراہ مقرر کیا تھا جس پر بینچ میں موجود اطہر سعید کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے تو جنرل پرویز مشرف کو بھی تو آرمی چیف مقرر کیا تھا۔

سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ جب پرویز مشرف کو آرمی چیف بنایا گیا تو اُن کے موکل نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

آئینی ماہر ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ چیئرمین نیب کی تقرری کی شق میں ترمیم کرنی چاہیے اور اس کو اتفاق رائے کی بجائے کثرت رائے کو ترجیع دینی چاہیے۔

اسی بارے میں