سوات: امن کمیٹی کے سربراہ پر بم حملہ

پاکستان کے صوبہ خیبر پختو نخواہ کے ضلع سوات میں امن کمیٹی کے سربراہ کی گاڑی پر بم حملے میں لشکر کے سربراہ کا بیٹا ہلاک اور چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

منگل کو وادی سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے تین کلومیٹر دور منگلور کے علاقے یخ تنگے میں یہ بم حملہ کیا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے امن کمیٹی کے سربراہ کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔

اس بم حملے میں امن لشکر کے سربراہ میر شیر علی جاجا کا بیٹا برکت علی ہلاک ہو گیا اور گاڑی میں سوار امن کمیٹی کے سربراہ، دو خواتین سمیت چار افراد زخمی ہو گئے۔

حملے میں زخمی ہونے والے شیر علی جاجا اور دیگر تین افراد کو سیدو شریف ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق شیر علی جاجا اہلخانہ کے ساتھ خیبر پختو نخوا کے ضلع شانگلہ میں پیر کو بم حملے میں ہلاک ہونے والے ڈی ایس پی خان بہادر کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے جا رہے تھے کہ راستے میں بم حملے کا نشانہ بن گئے۔

سوات کے علاقے منگلور کی سرحد ضلع شانگلہ سے ملتی ہیں۔سوات میں طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کے بعد سے اس علاقے میں امن کمیٹی کے متعدد ارکان کو شدت پسندی کے واقعات میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں