’نیا خیبر پختوانخوا‘

Image caption پاکستان میں حالیہ انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے والی جماعتوں کا ڈرون حملوں کے خلاف موقف زیادہ سخت ہے

بعض اوقات پیغامات ڈاک، زبان یا اشاروں کی مدد سے دیے جاتے ہیں لیکن کئی مرتبہ اس میں سے کسی کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔

آپ کی کارروائی سب واضح کر دیتی ہے۔ یہی پالیسی اکثر شدت پسندی کے خلاف بظاہر جنگ میں دو اتحادی پاکستان اور امریکہ بھی ایک دوسرے کو دینے کے لیے کرتے ہیں۔

نو ستمبر دو ہزار ایک کے واقعات کے نتیجے میں افغانستان میں امریکی مداخلت سے کوئی بھی خوش نہیں تھا۔ لہذٰا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں دو ہزار دو کے عام انتخابات میں مذہبی جماعتوں کو وہ کامیابی ملی جس پر ہر کوئی حیران اور بعد میں پریشان بھی رہا۔ اس کامیابی سے جو سرحد پار اشارہ دیا جا رہا تھا وہ واضح تھا۔

لیکن ایک دہائی بعد آپ اُس کے نتائج پر نظر ڈالیں تو خیبر پختونحوا کو کم از کم کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ ترقی کی شاہراہ پر وہ پیچھے ہی رہا اور شدت پسندی نے جو سر اس وقت اٹھایا وہ مسئلہ قبائلی علاقوں سے نکل کر سوات جیسی جنت نظیر وادی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے گیا۔

حالیہ انتخابات میں ایک مرتبہ پھر خیبر پختوخوا میں ایک نیا تجربہ کیا گیا ہے۔ عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف نے غیرمعمولی کامیابی حاصل کی۔ یہ ایک ایسی جماعت تھی جس نے بدعنوانی کے خاتمے کے علاوہ ایک بڑا نعرہ ڈرونز کو گرانے کا لگایا۔

خیبر پختوخوا کے ووٹرز نے شاید اسے ووٹ نہ تو ڈرون گرانے کے نعرے پر دیے نہ بدعنوانی کے خاتمے پر لیکن جس بڑے مقصد کے لیے وٹ دیے وہ شاید امن و امان کی صورتحال میں بہتری کی امید تھی۔

لیکن آج جب ہم خیبر پختونخوا اسمبلی کی حلف برداری کی تقریب دیکھ کر ایک ’نئے پاکستان‘ کی نہ سہی ’نئے خیبر پختونخوا‘ کو ابھرتے دیکھ رہے تھے امریکی جان لیوا بغیر پائلیٹ کے طیاروں نے انتخابی چھٹیوں کے بعد ایک اور وار کیا ہے۔

نئی صوبائی اسمبلی اور عمومی طور پر تمام پاکستان کو امریکی پیغام کافی واضح تھا کہ جب ان کے خیال میں ہدف قدرے سامنے ہو تو ان کی انگلیاں بٹن دبانے سے نہیں چوکیں گی۔

تاہم یہ اکثر ابہام رہتا ہے کہ آیا خیبر پختونخوا کا کتنا اختیار ہے قبائلی علاقوں کے امور پر۔ فاٹا کا انتظام مرکزی حکومت صوبائی گورنر کے ذریعے چلاتی ہے۔ اس میں صوبائی حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ لہٰذا اگر امریکی فوج خیبر پختونخوا کے لوگوں کو کوئی پیغام دینا چاہتی تھی کہ انہوں نے ڈرون کے خلاف ووٹ دیا ہے تو ایسا سمجھنے میں وہ غلط ہے۔

امریکی صدر براک اوباما کی گزشتہ دنوں ڈرون سے متعلق پالیسی تقریر سے واضح تھا کہ ایک ایسے ملک میں جس کے خلاف اعلان جنگ نہیں کیا ہو ڈرون حملوں کا کوئی جواز نہیں لیکن چونکہ انہیں خطرہ ہے تو لہٰذا وہ یہ حملے کم یا زیادہ تعداد جتنی بھی ہو جاری رکھیں گے۔

ایک ایسے صدر کے منہ سے یہ بات کوئی زیادہ اچھی نہیں لگی جو امن کا نوبل انعام بھی حاصل کر چکے ہوں۔ لیکن ڈرون کی زبان امریکیوں نے بولنی ہے سو وہ بولتے رہیں گے چاہے ہدف بننے والے ملک کی نمائندہ پارلیمان اس کے خلاف قرار داد منظور کرے یا صوبائی اسمبلی۔

اسی بارے میں