ایم کیو ایم اپوزیشن بینچوں پر بیٹھےگی

Image caption اپوزیشن میں بیٹھنے کی صورت میں ایم کیو ایم حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ہوگی

متحدہ قومی موومنٹ نے پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر صوبہ سندھ میں حکومت بنانے کی بجائے صوبائی اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا اعلان کر دیا ہے۔

ایم کیو ایم سندھ میں پیپلز پارٹی کے بعد دوسری بڑی جماعت ہے اور پیپلز پارٹی کے سابق شریک چیئرمین اور پاکستان کے صدر آصف زرداری نے انہیں ساتھ لے کر چلنے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم بدھ کو متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ جماعت کی رابطہ کمیٹی نے قومی و صوبائی اسمبلیوں میں پارلیمانی کمیٹیوں کے مشورے سے حزبِ اختلاف میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم سندھ اسمبلی کے وزیراعلیٰ کے انتخاب میں بھی حصہ لے گی اور سید سردار احمد اس عہدے کے لیے امیدوار ہوں گے۔

ایم کیو ایم نے فیصل سبزواری کو سندھ اسمبلی جبکہ فاروق ستار کو قومی اسمبلی میں جماعت کا پارلیمانی لیڈر بھی مقرر کیا ہے۔

اس سے قبل بدھ کی شام متحدہ قومی موومنٹ نے سندھ اسمبلی کے سپیکر کے عہدے کے لیے خواجہ اظہار الحسن اور ڈپٹی سپیکر کے لیے ہیر اسماعیل سوہو کے کاغذات بھی جمع کروائے تھے۔

اس موقع پر جب ایم کیو ایم کے رہنما فیصل سبزواری سے پیپلز پارٹی سے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے بارے میں سوال کیا گیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ آگے کی بات ہے ابھی تک کی جو صورتحال ہے اس میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہے اس کے لیے ہم نے اپنے امیدوار سامنے لائے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم سیاسی انتہاپسند نہیں اور تمام جماعتوں سے پھر چاہے وہ پارلیمان کے اندر ہوں یہ باہر، بہتر تعلقات چاہتی ہے۔

موجودہ سندھ اسمبلی میں حکومت بنانے والی پاکستان پیپلز پارٹی کے 84 ارکان ہیں جبکہ بقیہ جماعتوں میں متحدہ قومی موومنٹ کے 48، مسلم لیگ فنکشنل کے 10، مسلم لیگ ن کے 9 اور تحریک انصاف کے چار اراکان اسمبلی میں پہنچے ہیں۔

اب اپوزیشن میں بیٹھنے کی صورت میں ایم کیو ایم حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ہوگی۔

متحدہ قومی موومنٹ پیپلز پارٹی کے گزشتہ دورِ حکومت میں سندھ اور وفاق میں اتحادی تھی تاہم پانچ سالہ دورِ اقتدار کے دوران ایم کیو ایم نے متعدد بار حکومتی اتحاد سے الگ ہوئی اور بعد میں دوبارہ اتحاد کا حصہ بنی۔

اس وقت صوبہ سندھ کے گورنر عشرت العباد کا تعلق بھی ایم کیو ایم سے ہے۔

اسی بارے میں