قبائلی علاقوں میں صحت کے مراکز کو شدید نقصان

Image caption قبائلی علاقوں میں قائم اڑسٹھ بنیادی صحت کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران لڑائی کے دوران عوام کو صحت کی بنیادی ضروریات فراہم کرنے والے مراکز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

بی بی سی کی تحقیق کے مطابق گزشتہ سات سال میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں قائم اڑسٹھ بنیادی صحت کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

فاٹا سیکریٹریٹ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ سات سال کے دوران شدت پسندوں نے اڑساٹھ صحت کے مراکز کو نشانہ بنا کر تباہ کیا ہے۔

تباہ ہونے والے صحت کے مراکز میں تیرہ مراکز باجوڑ ایجنسی،اٹھارہ مہمند ایجنسی، دو خیبر ایجنسی، سات اورکزئی، چھ شمالی وزیرستان، پانچ جنوبی وزیرستان جبکہ دس مختلف نیم قبائلی علاقوں میں قائم تھے۔

شدت پسندوں کا کہنا ہے کہ وہ اِن سرکاری عمارتوں کو نشانہ بناتے ہیں جو سکیورٹی فورسز کے زیراستعمال ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ سکیورٹی فورسز قبائلی علاقوں میں قائم بعض مراکز صحت کو اپنے مورچوں اور اسلحہ ڈپو کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ طالبان کے ان دعوؤں کی سکیورٹی فورسز سختی سے تردید کرتی ہے۔

فاٹا سیکریٹریٹ کے اہلکار کے مطابق سات قبائلی ایجنسیوں اور چھ نیم قبائلی علاقوں میں آٹھ سو چھیاسی صحت کے مراکز موجود ہیں۔ جن میں چھ ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال، چار تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال، بائیس سول ہسپتال، چار سو اُنہتر سول ڈسپنسری،آٹھ دیہی طبی مرکز، ایک سو اکہتر بنیادی صحت کے مراکز، پچہتر میٹرنٹی اینڈ چائلڈ ہیلتھ جبکہ ایک سو اُنہتر کمیونٹی مراکز کام کر رہے ہیں۔اہلکار کے مطابق سب سے زیادہ سول ہسپتال شمالی وزیرستان میں ہے جن کی تعداد سات ہے۔

انہوں نے کہا کہ تباہ کیے جانے والے نصف سے زیادہ صحت کے مراکز محتلف ممالک کے تعاون سے دوبارہ تعمیر کیا جا چکے ہیں اور ان میں دوبارہ کام شروع ہوا گیا ہے۔اہلکار کے مطابق اس کے علاوہ کچھ علاقوں میں جہاں ہسپتالوں کی زیادہ ضرورت تھی نئے ہسپتال بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔جس سے مقامی لوگ استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔

Image caption خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے ڈاکٹر شکیل آفریدی نے اُسامہ بن لادن کے پکڑنے کے لئے ویکسین لگانے کی جعلی مہم چلائی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ خُوش قسمتی سے ابھی تک صحت سے تعلق رکھنے والے کسی ڈاکٹر یا دوسرے عملے پر کوئی بڑا حملہ نہیں ہوا ہے۔اہلکار کے مطابق قبائلی علاقوں میں چند ڈاکٹروں پر حملے ضرور ہوئے ہیں لیکن ان کا شدت پسندی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

قبائلی علاقوں کے ڈاکٹروں پر حملے فرقہ واریت یا ذاتی دشمنی کی بنیاد پر ہوئے ہیں۔

تاہم اہلکار نے ڈاکٹروں پر حملے نہ ہونے کی وجہ بتانے سےگُریز کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی آپریشن میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد محکمۂ صحت میں کسی کو بھی معلومات فراہم کرنے پر پابندی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد محکمۂ صحت بُہت زیادہ بدنام ہو چکا ہے۔

واضح رہے کہ خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے ڈاکٹر شکیل آفریدی نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے تعاون سے اُسامہ بن لادن کت تلاش کے لیے ویکسین کی جعلی مہم چلائی تھی۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی اس وقت پشاور سینٹرل جیل میں قید ہیں۔

فاٹا سیکٹریٹریٹ میں انتظامیہ کے ایک اور اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ قبائلی علاقوں میں سرکاری ہسپتالوں کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں پرائیوٹ ہسپتال موجود ہیں جنہیں کبھی بھی شدت پسندوں نے نقصان نہیں پہنچا ہے۔

اہلکار کے مطابق قبائلی علاقوں میں دو طرح کے طالبان شدت پسند سرگرم ہیں۔

’ان میں چند گروہوں کو اچھے طالبان اور کُچھ کو بُرے طالبان کہا جاتا ہے۔اگر کسی واقعہ میں اچھے طالبان گروپ میں سے کوئی شدت پسند زخمی ہو جاتا ہے۔تو ان کا علاج سرکاری ہسپتالوں میں ہی کیا جاتا ہے لیکن برے طالبان کے گروپ کے زخمی شدت پسند کو علاج کے لیے نجی ہسپتال لایا جاتا ہے۔ان نجی ہسپتالوں میں بھی طبی خدمات سرکاری ڈاکٹرز ہی دے رہے ہیں‘۔

تاہم اچھے اور برے طالبان کے درمیان فرق کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ قبائلی علاقوں میں ڈاکٹروں پر حملے نہ ہونے کی وجہ بھی یہی ہے کہ لڑائی میں زخمی ہونے والے شدت پسند اپنا علاج بھی ان ڈاکٹروں سے کراتے ہیں۔اہلکار کے مطابق اگر وہ ایسا نہ کریں تو ڈاکٹروں سمیت اُن کے پورے خاندان کی جان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔

قبائلی علاقے میں موجود ایک سرکاری ڈاکٹر نے تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شدت پسند کا علاج کرنا اُن کی مجبوری ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایک دفعہ ایک غیر مُلکی اُزبک شدت پسند زخمی ہوا تو وہ مجبوراً علاج کے لیے اُس کے گھر گئے تھے۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ صحت کے جو مراکز بم دھماکوں میں نشانہ بنتے ہیں وہ بالکل غیر آباد تھے اور ان مراکز میں کوئی بھی ڈاکٹر موجود نہیں ہوتا تھا۔

ایک ایجنسی کے نائب پولیٹکل ایجنٹ نے بتایا کہ ایک دفعہ سکیورٹی فورسز کے اعلیٰ اہلکاروں نے طالبان کے ساتھ تعلقات کے الزام میں تین سرجن ڈاکٹروں کو تحقیقات کے لیے بلایا تھا تو ڈاکٹروں کا جواب تھا کہ اگر وہ طالبان کا علاج نہ کریں تو ان کے پورے حاندان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

قبائلی علاقوں میں نہ صرف ڈاکٹرز حضرات طالبان شدت پسندوں سے تعاون پر مجبور ہیں بلکہ قبائلی علاقوں میں کام کرنے والے تقریباً تمام سرکاری مُلازمین اپنے سکیورٹی کی خاطر طالبان سے اچھے تعلقات رکھنے پر مجبور ہیں۔

اسی بارے میں