قائم علی شاہ تیسری بار وزیراعلیٰ سندھ منتخب

Image caption خیبر پختونخوا اسمبلی میں تحریکِ انصاف 55 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے

پاکستان کے صوبوں خیبر پختونخوا اور سندھ میں حکومت سازی کا عمل جاری ہے جس میں سندھ میں وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے سید قائم علی شاہ کو منتخب کر لیا گیا ہے۔

اس سے قبل جمعرات کو ہی سندھ اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں سپیکرز اور ڈپٹی سپیکرز کا انتخاب کیا گیا ہے جس کے بعد نومنتخب سپیکرز اور ڈپٹی سپیکرز نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا ہے۔

سندھ میں حکومت سازی

سندھ اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے لیے رائے شماری ہوئی جس کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سید قائم علی شاہ تیسری بار بطور وزیراعلیٰ کامیاب قرار دیے گئے ہیں۔

سید قائم علی شاہ نے 86 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدِمقابل متحدہ قومی موومنٹ کے اُمیدوار سید سردار احمد نے 48 اور مسلم لیگ فنکشنل اور مسلم لیگ ن کے مشترکہ امیدوار امتیاز شیخ نے 18 ووٹ حاصل کیے۔

سید قائم علی شاہ اس سے قبل 1988 اور 2008 میں سندھ کے وزیراعلیٰ کے طور پر منتخب ہو چکے ہیں۔

اس بار پاکستان پیپلز پارٹی کو کسی جماعت کی حمایت حاصل نہیں تھی۔

اس سے قبل سندھ اسمبلی کے جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا خفیہ رائے شماری سے انتخاب کیا گیا۔

سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے آغا سراج درانی 87 ووٹ جبکہ شہلا رضا 86 ووٹ لے کر دوسری بار سپیکر اور ڈپٹی سپیکر منتخب ہوئے۔

سپیکر کے عہدے کے لیے ہونے والی رائے شماری میں ایم کیو ایم کے امیدوار خواجہ اظہار الحسن کو 48 اور مسلم لیگ ن کے امیدوار عرفان اللہ مروت کو 18 ووٹ ملے۔سپیکر کے انتخاب میں کل 155 ارکانِ اسمبلی نے حصہ لیا۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ڈپٹی سپیکر کے لیے 152 ووٹ کاسٹ کیے گئے، جس میں شہلا رضا نے چھیاسی ووٹ حصل کر کے کامیابی حاصل کی جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کی ہیر اسماعیل سوہو اڑتالیس جبکہ نصرت سحر عباسی کو اٹھارہ ووٹ ملے۔

پیپلز پارٹی کے امیدوار آغا سراج صدر آصف علی زرداری کے قریب دوست ہیں، اس سے پہلے حکومت میں وزیر بلدیات تھے، انہوں نے سیاست کی ابتدا پاکستان پیپلز پارٹی سے کی۔ شکارپور سے تعلق رکھنے والے آغا سراج کے والد بھی سپیکر رہ چکے ہیں۔

ڈپٹی سپیکر کی امیدوار شہلا رضا اس سے پہلے بھی اس عہدے پر فائز رہی ہیں، وہ زمانہ طالب علمی سے پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ ہیں، اور خواتین کی مخصوص نشستوں پر کامیاب ہوئی ہیں۔

موجودہ سندھ اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے 84، متحدہ قومی موومنٹ کے 48، مسلم لیگ فنکشنل کے 10، مسلم لیگ ن کے 9 اور تحریک انصاف کے 4 اراکین شامل ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ تحریک انصاف کے ارکان سندھ اسمبلی میں پہنچے ہیں۔

گزشتہ شب متحدہ قومی موومنٹ نے پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر صوبہ سندھ میں حکومت بنانے کی بجائے صوبائی اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا اعلان کر دیا تھا ۔

خیبر پختوانخوا میں حکومت سازی

خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کے اسد قیصر اور امتیاز قریشی بلامقابلہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر منتخب ہوئے ہیں۔

پشاور سے نامہ نگار رفعت اورکزئی کے مطابق خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے اسد قیصر اور امتیاز قریشی سپیکر اور ڈپٹی سپیکر منتخب ہوئے ہیں۔ نومنتخب سپیکر اور ڈپٹی سپیکر نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

سپیکر کے عہدے کے لیے اسد قیصر اور امتیاز قریشی کا مقابلہ جمیعت علمائے اسلام کے منور خان اور ارباب حیات اکبر سے تھا لیکن تمام پارلیمانی جماعتوں نے اتفاقِ رائے سے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب کیا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں جماعتِ اسلامی اور قومی وطن پارٹی کی حمایت سے حکومت بنانے والی پاکستان تحریک انصاف نے پرویز خٹک کو قائد ایوان جبکہ اسد قیصر کو سپیکر اور امتیاز قریشی کو ڈپٹی سپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کیا تھا۔

تحریکِ انصاف کے پرویز خٹک اور جمعیت علمائے اسلام ف کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کے بھائی لطف الرحمان نے وزارتِ اعلیٰ کے منصب کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کر دیے ہیں۔ قائد ایوان کا انتخاب جمعہ کو ہو گا۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں تحریکِ انصاف 55 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پاکستان مسلم لیگ ن نے 17 ، 17 نشستیں حاصل کی ہیں۔

اس کے علاوہ قومی وطن پارٹی کے اس ایوان میں 10 ، جماعت اسلامی کے 8 ، عوامی نیشنل پارٹی اور عوامی جمہوری اتحاد کے 5، 5، پاکستان پیپلز پارٹی کے 4، آل پاکستان مسلم لیگ کا 1 اور 2 آزاد امیدوار ہیں۔

اسی بارے میں