ولی الرحمان اہم منصوبہ ساز کمانڈر تھے

Image caption ولی الرحمان فیصل آباد کے ایک مدرسے سے فارغ التحصیل تھے اور کراچی میں بھی وہ کافی عرصہ رہے تھے

کچھ عرصہ ہوا مجھے پاکستان میں وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے شہر میران شاہ جانے کا اتفاق ہوا۔

میران شاہ کے وسط میں دو کمروں کے ایک مکان میں سرمائی رنگ کی واسکٹ کلف شدہ سفید رنگ کے کْرتے میں ملبوس ولی الرّحمان میرے سامنے تھے۔

علیک سلیک کے بعد میں نے گفتگو کا آغاز کرتے ہو ئے کہا’جی میں صحافی ہوں‘۔ لیکن ان کے چہرے کے تاثرات سے مجھے جواب مل گیا تھا کہ وہ میڈیا سے خوش نہیں۔

لیکن اس کے باوجود ان سے گفتگو کے دوران میں نے جو بھی سوال کیا انہوں نے اطمینان کے ساتھ مجھے سنا۔ بات چیت میں ہی مجھے اندازہ ہو ا کہ ولی الرّحمان تحریک طالبان کے دیگر قائدین سے بہت زیادہ مختلف ہیں۔

یہ ملاقات پچھلے سال مئی میں ہوئی جب شمالی وزیر ستان میں ڈرون حملے بکثرت ہو رہے تھے۔

میں نے اسی حوالے سے اُن سے یہی پوچھا کہ آپ کو ڈر نہیں لگتا؟ تو جواب ملا کہ تھوڑی بہت احتیاط نے ابھی تک بچایا ہوا ہے۔

پھر کچھ سوچنے کے بعد کچھ بے بسی کے انداز میں بولے کہ کیا کریں ان مچھروں (ڈرون) کو مارنے کے لیے ہمارے پاس سپرے بھی تو نہیں۔

انہی دنوں ان کی کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے امیر حکیم اللہ محسود سے اختلافات کی باتیں بہت عام تھی ۔

میرے بار بار پوچھنے پر انہوں نے اس کی تردید کی اور بتایا کہ ان اختلافات کو ہوا دے کر پیش کرنا امریکا کے مفاد میں ہے اور میں امریکا کو فائدہ پہنچانا نہیں چاہتا۔

ولی الرّحمان افغانستان میں موجود امریکی اور نیٹو فورسز کے خلاف لڑائی کو اولین ترجیح قرار دیتے تھے۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی ان کا گروپ بہت فعال تھا۔ انہیں اس بات کا یقین تھا کہ اگر امریکا افغانستان سے چلا جاتا ہے تو خطے میں طالبان کا راستہ روکنے والا کوئی نہیں ہوگا۔

ولی الرّحمان کا شمار طالبان کے ان کمانڈروں میں ہوتا تھا جن کو بیت اللہ محسود کی موجودگی میں بھی انتہائی اہم سمجھا جاتا تھا۔وہ بیت اللہ محسود کے قریب ترین ساتھیوں میں سے تھے۔

فیصل آباد کے ایک مدرسے سے فارغ التحصیل تھے اور کراچی میں بھی وہ کافی عرصہ رہے تھے۔

ولی الرّحمان کوعسکری اعتبار سے انتہائی اہم منصوبہ ساز کمانڈر قرار دیا جاتا تھا۔

ان کا تعلق محسود قبائل کے سب سے مضبوط شاخ مال خیل سے تھا اور اسی وجہ سے محسود طالبان کی اکثریت ان کے ساتھ تھی اور وہ ان میں بہت زیادہ مقبول تھے۔

طالبان تحریک سے قبل ان کا تعلق جمعیت علمائے اسلام فضل الرّحمان گروپ سے تھا۔ طالبان کے دیگر کمانڈروں کے برعکس وہ کھل کر مولانا فضل الرحمن کی حمایت کرتے تھے۔ ماضی میں سیاسی جماعت جے یو آئی سے تعلق کی وجہ سے معاملہ فہمی میں ان کو باقی کمانڈروں پر فوقیت حاصل تھی۔

اس سال جنوری میں قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے کمانڈر ملا نذیر کا بھی ماضی میں تعلق جمعیت علمائے اسلام فضل الرّحمان گروپ سے تھا۔

ان کی ہلاکت کا واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں نئی حکومت بننے جارہی ہے اور طالبان کی جانب سے پاکستان کی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش بھی موجود ہے۔ ایسے میں ولی الرّحمان کی ہلاکت سے اس عمل میں تاخیر کا امکان ہے اور طالبان کی جانب سے ممکنہ سخت ردعمل کا خدشہ بھی موجود ہے۔

اسی بارے میں