پاکستانی طالبان ہی ڈرون حملوں کی زد میں کیوں؟

ولی الرحمان
Image caption چالیس سالہ ولی الرّحمان کچھ عرصے سے حکیم اللہ محسود سے زیادہ متحرک دکھائی دے رہے تھے

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو 2009 میں بیت اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد اب دوسرا بڑا دھچکا نائب امیر ولی الرّحمان کی ہلاکت کی صورت میں پہنچا ہے۔ لیکن ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں نو منتخب سیاسی جماعتیں اور طالبان آہستہ آہستہ مذاکرات کی جانب بڑھ رہے تھے اس حملے کی امریکہ کو ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟

یکے بعد دیگرے ڈرون حملوں میں پاکستانی طالبان ہی کیوں اب زیادہ نشانہ بن رہے ہیں؟ اس سال جنوری میں جنوبی وزیرستان میں حکومت نواز طالبان رہنما مولوی نذیر کی ہلاکت اور اب ولی الرّحمان۔ ان سے قبل بیت اللہ محسود، قاری حسین اور نیک محمد کسے یاد نہیں۔

کیا القاعدہ کا اس خطے سے خاتمہ کر دیا گیا ہے کہ امریکی اب پاکستانیوں پر ہی ڈرون میزائل برسائے جا رہے ہیں؟ ڈاکٹر ایمن الظواہری تک تو امریکی نہیں پہنچ سکے لہٰذا پاکستانی طالبان کا صفایا شروع کر دیا گیا ہے؟ آخر ماجرہ ہے کیا؟

لگتا ہے 2014 قریب آنے کی وجہ سے امریکہ اب چھوٹے بڑے طالب کا فرق بھول کر ہر کسی کو جو آگے چل کر ان کے لیے یقینی ِخطرہ بن سکتے ہیں، نشانہ بنا رہا ہے۔

اب تک ان شدت پسند رہنماؤں پر امریکہ نے شاید اس امید میں ہاتھ نہیں اٹھایا تھا کہ ان پر مسلسل نظر رکھ کر آگے وہ بڑے القاعدہ رہنماؤں تک پہنچ پائیں گے۔ لیکن اب چونکہ وقت کم رہ گیا ہے تو چْن چْن کر پاکستانی طالبان رہنماوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔

ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ 2014 کے بعد اسے شاید افغانستان سے ڈرون کارروائیوں کے لیے وہ سہولتیں دستیاب نہ ہوں جو اب ہیں۔ پھر اندرون ملک امریکہ میں ان کارروائیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی آوازیں بھی دباؤ پیدا کر رہی ہیں۔ صدر براک اوباما کی تازہ ترین تقریر سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اب ڈرون حملوں پر تنقید امریکی انتظامیہ کے لیے قابل برداشت نہ رہی۔

پاکستان کے اندر اگر دیکھیں تو سابق وزیرِ داخلہ رحمان ملک کئی مرتبہ حکیم اللہ محسود اور ولی الرّحمان کے درمیان تصادم کرواچکے ہیں۔ بعض اوقات تو ان کے بقول شوریٰ کے اجلاسوں میں گولیاں تک چل گئیں لیکن بظاہر ایسا کچھ نہیں تھا۔ دونوں کے درمیان چھوٹے موٹے اختلافات یقیناً تھے لیکن اس نوعیت کے نہیں جس کی بات رحمان ملک کرتے رہے۔

واضح رہے کہ ماضی میں بھی دو مرتبہ ان ڈرون حملوں میں فرضی ہلاکتیں کروائی گئی ہیں۔ لیکن اس مرتبہ طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان کی خاموشی معنی رکھتی ہے وگرنہ کس کی مجال کے طالبان سے متعلق ایسی خبر چلائے اور انہیں ان کا غصے سے بھرا فون نہ آئے۔

چالیس سالہ ولی الرّحمان کچھ عرصے سے حکیم اللہ محسود سے زیادہ متحرک دکھائی دے رہے تھے۔ ان کا تازہ ترین ویڈیو بیان پندرہ مئی کو جاری ہوا جس میں انہوں نے جمہوریت کو اسلام کے خلاف نظام قرار دیا۔ شاید یہی بےفکری ان کی ہلاکت کی وجہ بن گئی۔

Image caption پاکستان طالبان میں کئی گروپ سرگرم ہیں

پاکستان میں اس ہلاکت پر تشویش اس کے کسی بھی ممکنہ مذاکرات پر منفی اثرات کے بارے میں سامنے آ رہی ہے۔ لیکن اگر اس سال جنوری میں جنوبی وزیرستان میں طالبان رہنما مولوی نذیر کی اسی طرز کے ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد کے ردِعمل کو دیکھیں تو شاید یہ تذبذب بےجا ہو۔

خیال تھا کہ اس کا بدلہ لینے کے لیے مولوی نذیر کے جنگجو پاکستان پر متواتر حملے کریں گے لیکن خوش قسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ اب بھی امید کی جاسکتی ہے کہ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے فوری مذمتی بیان نے حکیم اللہ محسود کے غصے کو تو شاید ٹھنڈا کرنے میں مدد دی ہو۔ تاہم مولوی نذیر کی الگ تنظیم اور حکیم اللہ کی الگ تنظیم و پالیسیاں ہیں۔

بعض تجزیہ نگار اس ہلاکت سے بھی پاکستان کے لیے مثبت پہلو تلاش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اب ممکنہ مذاکرات میں ایک مضبوط پوزیشن سے حصہ لے سکتا ہے۔ لیکن قبائلی روایات کے مطابق فریقین کے درمیان ہمیشہ مذاکرات برابری کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ جرگہ نظام میں کسی کو فضیلت یا ’اپر ہینڈ‘ حاصل نہیں ہوتا۔

مذاکرات کے آغاز سے قبل ہی اس حملے سے ایک بات واضح ہوگئی کہ یہ کوئی دو گروپوں کے درمیان آُسان کام نہیں۔ اس میں کئی فریق ہیں اور ہر کوئی اسے اپنی عینک سے دیکھ رہا ہے۔

اسی بارے میں