پرویز خٹک: ایچیسن کالج سے وزیر اعلیٰ تک

Image caption تریسٹھ سالہ پرویز خٹک نے عملی سیاست کا آغاز انیس سو تراسی میں نوشہرہ سے ضلع کونسل کے انتخاب میں حصہ لے کر کیا

پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے خیبر پختون خوا کے منتخب ہونے والے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا شمار صوبے کے سنئیر پارلمنیٹرین میں ہوتا ہے۔

ان کا تعلق ضلع نوشہرہ کے گاؤں مانکی شریف سے ہیں۔ ان کے والد حستم خان خٹک مرحوم اپنے زمانے کے مشہور سرکاری ٹھیکیدار سمجھے جاتے تھے۔

تریسٹھ سالہ پرویز خٹک نے عملی سیاست کا آغاز انیس سو تراسی میں نوشہرہ سے ضلع کونسل کے انتخاب میں حصہ لے کر کیا اور ممبر منتخب ہوئے۔ وہ 1988 میں پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے نوشہرہ سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

تاہم بعد میں اختلافات کے باعث انہوں نے پیپلز پارٹی چھوڑ کر اس وقت کی پیپلز پارٹی شیرپاؤ میں شمولیت اختیار کرلی لیکن وہاں بھی وہ زیادہ دیر نہیں رہ سکے اور تقریباً ڈیڑھ سال قبل انہوں نے عمران خان سے لاہور میں ملاقات کی اور پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کردیا۔ وہ تحریک انصاف کے موجودہ مرکزی سیکرٹری جنرل بھی ہیں۔

پرویز خٹک تقریباً تیس سالہ سیاسی زندگی میں اب تک پانچ مرتبہ صوبائی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔ وہ تین مرتبہ صوبائی وزیر کے عہدوں پر بھی رہ چکے ہیں۔

سابق عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلزپارٹی کی مخلوط حکومت میں بھی وہ محمکہ آبپاشی کے وزیر تھے تاہم حکومت کے ساتھ اختلافات پیدا ہونے پر انہوں نے وزراعت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں وہ نوشہرہ کے ضلعی ناظم بھی منتخب ہوئے تھے جبکہ ان کے بھتیجے تحصیل ناظم تھے۔

گیارہ مئی کے عام انتخابات میں پرویز خٹک نے نوشہرہ کے دو حلقوں پی کے تیرہ اور این اے پانچ سے انتخاب میں حصہ لیا اور دونوں حلقوں سے کامیاب ہوئے۔ تاہم انہوں صوبائی نشست اپنے پاس رکھنے کو ترجیح دی۔

پرویز خٹک نے ابتدائی تعلیم ایچیسن کالج لاہور سے حاصل کی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ ان دنوں ایچیسن کالج کے طالب علم تھے جب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی وہاں زیرتعلیم تھے۔ انہوں نے گورڈن کالج راولپنڈی سے گریجوئیشن کی۔ ان کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ ان کے دو بیٹے لندن میں زیر تعلیم ہیں۔

اسی بارے میں