نئی قومی اسمبلی کا تاریخی افتتاحی اجلاس

Image caption قومی اسمبلی کا اجلاس صبح دس بجے طلب کیا گیا ہے

گیارہ مئی کے عام انتخابات کے بعد پاکستان کی نئی قومی اسمبلی کا افتتاحی تاریخی اجلاس آج صبح دس بجے ہو گا، جس کے ساتھ ہی نئی حکومت سازی کا عمل بھی شروع ہو جائے گا۔

یہ پاکستان کی 66 سالہ تاریخ میں پہلا موقع ہو گا کہ ایک منتخب حکومت نے اپنی مقررہ آئینی مدت پوری کرنے کے بعد اقتدار دوسری حکومت کو سپرد کیا ہو۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کریں گی۔ اجلاس میں نو منتخب اراکینِ اسمبلی حلف لیں گے اور رجسٹر پر دستخط کریں گے۔

الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے 333 اراکین کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔ تحریکِ انصاف کی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری کے مطابق عمران خان کو اُن کے معالجوں نے کچھ دن مزید آرام کا مشورہ دیا ہے اس لیے وہ آج کے اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔

قومی اسمبلی کے اراکین کی حلف برداری کے بعد نئے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے لیے کاغداتِ نامزدگی داخل کیے جائیں گے۔

قومی اسمبلی کے نئے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب تین جون کو کیا جائے گا اور اسی روز ایوان کے نئے قائد کے انتخاب کے لیے کاغدات نامزدگی داخل کیے جائیں گے۔

ملک کے نئے وزیر اعظم کا انتخاب پانچ جون کو عمل میں آئے گا۔ 342 ارکان کے ایوان میں مسلم لیگ ن سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ قومی اسمبلی میں خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کے بعد مسلم لیگ نون کو سادہ اکثریت حاصل ہے، اور پارٹی نے اپنے سربراہ میاں نواز شریف کو وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزد کیا ہے۔

میاں نواز شریف، 13 سال، 8 ماہ بعد قومی اسمبلی کے ایوان میں بطور رکن آئیں گے اور پاکستان کی تاریخ میں وہ پہلے شخص ہوں گے جو تیسری بار وزیراعظم کا عہدہ سنھبالیں گے۔

Image caption میاں نواز شریف، 13 سال، 8 ماہ بعد قومی اسمبلی کے ایوان میں بطور رکن آئیں گے اور پاکستان کی تاریخ میں وہ پہلے شخص ہوں گے جو تیسری بار وزیراعظم کا عہدہ سنھبالیں گے

پاکستان کی سابق حکمراں جماعت اور حزب اختلاف نے گذشتہ پارلیمان ميں کئي اہم قوانين اتفاق رائے سے منظور کیے۔ ليکن يہي قومی اسمبلي ملک کو درپیش کئي اہم مسائل کو حل کرنے کے ليے جامع اور قابل عمل تجاویز دینے میں ناکام رہی۔

اس لیے عام لوگوں کے ذہنوں میں سوال ہے کہ کیا عام انتحابات کے بعد منتخب ہونے والی چودھویں قومی اسمبلی کے اراکین گلي محلوں کے مسائل سے باہر نکل کر قومي مسائل پر توجہ دے پائيں گے؟

تاہم سابق حکومت اور مسلم لیگ ن کی حکومت میں یہ فرق ہو گا کہ مسلم لیگ ن کو ایوان میں واضح اکثریت حاصل ہے، اور وہ نسبتاً زیادہ اطمینان سے ملک کو درپیش سنگین مسائل سے نمٹنے کے اقدامات کر سکتی ہے۔

ادھر پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس بھی آج ہو گا، نومنتخب ارکان افتتاحی اجلاس میں حلف اٹھائیں گے۔

پنجاب اسمبلی کے سپیکر رانا محمد اقبال نو منتخب ارکانِ اسمبلی سے حلف لیں گے۔ جس کے بعد اسمبلی کے نئے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے لیے کاغداتِ نامزدگی بھی آج جمع ہوں گے۔

پنجاب اسمبلی کے نئے قائد اعوان کا انتخاب 6 جون کو ہو گا۔

دوسری جانب صوبہ بلوچستان کی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس بھی آج ہو گا۔

افتتاحی اجلاس میں بلوچستان اسمبلی کے نو منتخب اراکین حلف اٹھائیں گے۔

اسی بارے میں