بلوچستان اسمبلی: نومنتخب اراکین نے حلف اٹھا لیا

بلوچستان اسمبلی کے نومنتخب اراکین آج افتتاحی اجلاس میں حلف اٹھا لیا ہے جبکہ بلوچستان واحد صوبہ ہے جہاں وزیراعلیٰ کے لیے امیدوار کے نام پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) نے افتتاحی اجلاس میں بطور احتجاج شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بلوچستان اسمبلی کے سپیکر مطیع اللہ آغا نے نومنتخب اراکین سے حلف لیا۔

بلوچستان اسمبلی کی کل 65 نشستوں میں سے 51 عام نشستیں ہیں جبکہ خواتین کی 11 اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں تین ہیں۔ ان میں سے 63 کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) اگرچہ عام انتخابات میں بلوچستان اسمبلی کی نو جنرل نشستیں حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہی لیکن آزاد اراکین کی شمولیت کے بعد وہ سب سے بڑی پارٹی بن گئی ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جعلی سند کی بنیاد پر ایک رکن کو نااہل قرار دینے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے پاس 8نشستیں رہ گئی تھیں۔ تاہم آزاد اراکین کی پارٹی میں شمولیت اور خواتین و اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کے بعد مسلم لیگ (ن) کے اراکین کی تعداد 20 ہوگئی ہے۔

پشتون قوم پرست جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (میپ) نے انتخابات میں 10 نشستیں حاصل کی ہیں جو کہ سب سے زیادہ ہیں۔ چار مخصوص نشستیں ملنے کے بعد اس کے اراکین کی تعداد 14 ہوگئی ہے اور وہ بلوچستان اسمبلی میں دوسری بڑی پارٹی بن گئی ہے۔

تیسرے نمبر پر بلوچ قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی ہے جس کے اراکین کی تعداد 11 ہے۔

باقی جماعتوں میں سے جمعیت علماء اسلام (ف) کے اراکین کی تعداد 8، مسلم لیگ (ق) کے اراکین کی تعداد پانچ اور بلوچستان نیشنل پارٹی(مینگل) کے اراکین کی تعداد دو ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی اور مجلس وحدت المسلمین کے اراکین کی تعداد ایک ایک ہے۔

اس مرتبہ بلوچستان سے اسمبلی کی نشستوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی کا مکمل طور پر صفایا ہوگیا ہے۔ وہ بلوچستان سے قومی اسمبلی اور نہ ہی صوبائی اسمبلی کی کوئی نشست حاصل کر سکی۔

جہاں سنیچر کو بلوچستان اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی کوئی نمائندگی نہیں اسی طرح بلوچستان کی سابق مخلوط حکومت میں شامل اس کے اہم اتحادیوں مسلم لیگ (ق) اور بلوچستان نیشنل پارٹی(عوامی) کو کئی نشستوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

ق لیگ کو 2008 کے عام انتخابات میں ملنے والی 18 نشستوں کے مقابلے میں صرف پانچ نشستیں ملیں۔

جمعیت علماء اسلام(ف) کو اگرچہ بلوچستان اسمبلی کی 8 نشستیں ملیں لیکن اسے اپنی چار سے پانچ مضبوط نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے واحد رہنما میر ظفر اللہ زہری کامیاب ہوئے لیکن الیکشن کمیشن کے ویب سائٹ پر ان کو آزاد رکن کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

گیارہ مئی کو بلوچستان اسمبلی کی 51 عام نشستوں میں سے 50 پر انتخابات ہوئے۔

جس واحد نشست پر انتخاب ملتوی کیا گیا وہ گورنر بلوچستان کے آبائی ضلع جھل مگسی پر مشتمل پی بی32ہے جہاں آزاد امیدوار عبدالفتح مگسی کے قتل کے باعث انتخابات نہیں ہو سکے۔

عبدالفتح مگسی کے قتل کا الزام ان کے رشتہ داروں نے گورنر بلوچستان کے خاندان کے بعض افراد پر لگایا۔ اس نشست کے علاوہ سپریم کورٹ نے نصیر آباد کی ایک نشست پر انتخابات کو کالعدم قرار دیا۔ اس نشست پر مسلم لیگ (ن) کے میر عبدالغفور لہڑی کامیاب ہوئے تھے جنھیں جعلی سند کی بنیاد پر نااہل قرار قرار دیا گیا۔

تاہم شہری حلقوں باالخصوص کوئٹہ کی حد تک حالیہ انتخابات میں تحریک انصاف کا نمایاں ووٹ بینک دیکھنے کو ملا ہے۔

اسی بارے میں